طالبان نے کابل کی سیکیورٹی کیلئے جنگجو تعینات کر دیئے

طالبان نے دارالحکومت کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سرحدی علاقوں میں جنگجو تعینات کر دیئے ہیں جن کو سیکیورٹی کی مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ۔طالبان رہنماؤں نے اپنے ’مجاہدین‘ کے لیے حکم جاری کیا ہے کہ کسی کو بھی کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے ، مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد سہیل شاہین نے کہا کہ کسی کی زندگی، املاک اور عزت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے بلکہ مجاہدین اس کی حفاظت کریں۔

 

ایک اور ٹوئٹ میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کابل میں صورتحال معمول کے مطابق ہے اور ان کے جنگجو سیکیورٹی فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل کے مختلف حصوں میں اسپیشل یونٹس تعینات کردیے ہیں اور ‘عوام مجاہدین کی آمد سے خوش اور سیکیورٹی سے مطمئن ہے۔قبل ازیں طالبان نے برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ‘کابل میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، ہم عوام بالخصوص کابل شہر میں عوام کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ان کی املاک اور زندگیاں محفوظ ہیں کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔

 انہوں سہیل شاہین نے کہاکہ ْہم عوام اور ملک کے خادم ہیں، ہماری قیادت نے ہمیں کابل کے دوازے پر رہنے کا کہا تھا کہ اور اہم اقتدار کی پر امن منتقلی کا انتظار کررہے تھے۔ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ ‘طالبان کابل میں اس لیے داخل نہیں ہوئے تھے کیوں کہ ہم خونریزی اور تباہی سے بچنا چاہتے تھے اور لٹیروں کو موقع دینا نہیں چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ قدم عوام کے تحفظ کے لیے اٹھایا تھا اور ہم انہیں یقین دہانی کرواتے ہیں کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن ظاہر ہے جو جانا چاہتے ہیں ہم انہیں مجبور نہیں کرسکتے۔سوال کیا گیا کہ کیا طالبان جنرل محمد دوستم یا کسی بھی افغان رہنما کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں؟ جس کے جواب میں سہیل شاہین نے کہا کہ ‘طالبان کسی بھی افغان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں کیوں کہ ہم امن، برداشت اور پر امن بقائے باہمی کے نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں’۔

Back to top button