طالبان کا افغان حکومت کی تشکیل کردہ ٹیم سے مذاکرات سے انکار

طالبان نے سابق افغان انٹیلی جنس چیف معصوم ستانکزئی کی سربراہی میں امن مذاکرات کیلئے افغان حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی 21 رکنی مذاکراتی ٹیم کو مسترد کرتے ہوئے انٹرا افغان مذاکرات سے انکار کر دیا۔ افغان طالبان ترجمان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم میں تمام قبائل کو نمائندگی دینے کا مطالبہ کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صدر اشرف غنی کی جانب سے ’بین الافغان مذاکرات‘ کے لیے تشکیل دی گئی حکومتی مذاکراتی ٹیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی ٹیم میں تمام قبائل کی نمائندگی نہیں ہے اس لیے اس ٹیم کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ افغان ترجمان نے مزید کہا کہ مذاکراتی ٹیم میں افغانستان کے تمام قبائل اور گروہوں کی نمائندگی ناگزیرہے اس کے بغیر کوئی بھی مذاکرات مثبت ثابت نہیں ہوں گے اور ایسے فیصلے نہیں ہو پائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول بھی ہوں۔ طالبان کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان حکومت ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے میں ناکام رہی اور دیرپا امن کے لیے مذاکراتی ٹیم پر تمام فریقین کا متفق ہونا ضروری ہے۔ افغان حکومت نے طالبان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی ٹیم افغانستان میں موجود تمام دھڑوں سے کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔
قبل ازیں صدر اشرف غنی نے 21 رکنی ٹیم کا علان کیا تھا جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی مجاز ہو گی۔ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو ہونے والے امن معاہدے کے تحت کابل حکومت اور طالبان کے درمیان اندورنی معاملات انٹرا افغان مذاکرات میں طے پانا تھے۔
28مارچ کے روزافغان حکومت نے سابق انٹیلی جنس چیف معصوم ستانکزئی کی سربراہی میں طالبان سے بین الافغان مذاکرات کے لیے 5 خواتین سمیت 21 رکنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔ اس مذاکراتی ٹیم کی قیادت صدر اشرف غنی کے پرانے ساتھی اور افغان سیکیورٹی کے سابق سربراہ معصول استنکزئی کو سونپی گئی تھی۔ وفد میں شامل 5 خواتین میں حکومت کی اعلیٰ امن کونسل کی نائب رہنما حبیبہ سرابی بھی شامل تھیں جو ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں وفد میں ایک خاتون مندوب فوزیہ کوفی بھی شامہ تھیں جو تاجک نسل سے ہیں اور عورتوں کے حقوق کی سرگرم کارکن ہیں اور طالبان کے خلاف سخت موقف رکھتی ہیں
واضح رہے کہ افغان طالبان ایک عرصے سے افغانستان کی حکومت کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ ماہ 29 فروری کو طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایک شق یہ بھی تھی کہ طالبان، افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ افغان حکومت، طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کا حصہ تھی اور نہ ہی معاہدے کا لیکن وہ معاہدے کی شقوں پر عمل کرنے کی پابند ہے جس میں سے ایک طالبان قیدیوں کی رہائی بھی تھی۔ تاہم اس معاہدے کے باوجود طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز اور حکومتی املاک پر حملوں کا سلسلہ ترک نہیں کیا البتہ وہ غیرملکی افواج پر حملوں کا سلسلہ روک چکے ہیں۔
یاد رہے کہ 9/11کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں موجود القاعدہ اور طالبان کے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے حملہ کیا تھا لیکن 19سال سے جاری امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے باوجود ملک کے اکثر حصے پر اب بھی طالبان کنٹرول میں ہیں۔
واضح رہے کہ افغان سیاست دانوں کی غیر سنجیدگی، اقتدار کی کشمکش، سیاسی بحران اور طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ سے رواں مارچ کے آغاز تک شروع ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان کے رہنماؤں، افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے مابین متوازی حکومت کی تشکیل سازی میں عدم اتفاق پر ایک ارب ڈالر امداد میں کمی کا فیصلہ کیا تھا۔مزید یہ کہ امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان میں اتفاق نہ ہوا تو ہر قسم کے تعاون میں کمی کردی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button