طالبان کو روکنے میں افغان حکومت کی ناکامی پر امریکی مایوسی بڑھنے لگی

طالبان کی پیش قدمی کو روکنے میں افغان سکیورٹی فورسز کی ناکامی نے امریکی عہدیداروں کو دو دہائیوں تک ملکی فوج کی تربیت اور جدید آلات لیس کرنے پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد شدید مایوسی کا شکار کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر عہدیداروں نے بار بار افغان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ متحد ہو جائیں اور ایک واضح حکمت عملی وضع کریں کہ کیونکہ خدشات ہیں کہ طالبان چند مہینوں میں کابل کا محاصرہ کر لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے 20 سالوں میں دس کھرب ڈالر خرچ کیے، ہم نے 3 لاکھ سے زائد افغان افواج کو تربیت دی اور جدید آلات سے لیس کیا’۔

انہوں نے کہا کہ افغان رہنماؤں کو اکٹھا ہونا ہوگا، ‘انہیں اپنے لیے لڑنا ہے، اپنی قوم کے لیے لڑنا ہے’۔

31 اگست کو امریکی انخلا کی تکمیل سے قبل پینٹاگون اور محکمہ خارجہ نے جو بائیڈن کے الفاظ کو دوہراتے ہوئے 2001 کے حملے کے بعد پہلی بار امریکا اور نیٹو کے فوجیوں کی عدم موجودگی میں طالبان کی پیش قدمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ‘افغان فورسز کے پاس صلاحیت ہے، انہیں عددی فوائد حاصل ہیں، ان کے پاس فضائیہ ہے، یہ واقعی قیادت کی صلاحیتوں پر ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کو کیسے استعمال کرنا چاہتے ہیں’۔

طالبان کی پیش قدمی پر حیرت کا اظہار
نجی طور پر امریکی حکام نے طالبان کی پیش قدمی کی رفتار پر حیرت کا اظہار کیا۔

امریکا نے گزشتہ دو ہفتوں سے افغان فورسز کی مدد کے لیے بمباری کی ہے تاہم طالبان نے شمال کے کئی اہم شہروں پر آسانی سے قبضہ کر لیا ہے اور اب اسٹریٹجک طور پر اہم مزار شریف خطرے میں ہے۔

امریکی حکام نے زور دیا کہ اگر صدر اشرف غنی اپنی حکومت کو متحد کر کے فیصلہ کن کام کریں تو نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ‘افغان حکومت کے پاس زبردست فوائد ہیں، جن میں 3 لاکھ فوجی، فضائیہ، خصوصی فورسز، بھاری سازو سامان، تربیت اور امریکا کی حمایت شامل ہیں’۔

جنگجوؤں کی قوت
پینٹاگون کے سابق عہدیدار اور ‘دی امریکن وار ان افغانستان’ کے مصنف کارٹر ملکاشیان نے کہا کہ انتہائی قابل فوجی کمانڈر اور بہت سے قبائلی رہنما سیاسی وجوہات کی بنا پر کابل میں قیام کر رہے ہیں جبکہ انہیں فرنٹ لائن پر رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘انہیں حکومت اور دیگر بڑے رہنماؤں جیسے (سابق صدر) حامد کرزئی کی طرف سے کچھ حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ وہاں سے نکلیں اور اپنی برادریوں کے لیے لڑیں’۔

امریکا یہ بھی مانتا ہے کہ اشرف غنی کو علاقائی قوتوں اور ان کی قبائلی بنیادوں پر قائم ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکا پر انحصار
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کا افغان افواج پر انگلی اٹھانا بھی کچھ حد تک ناپسندیدہ ہے۔

دفاعی ماہر انتھونی کورڈزمین نے کہا کہ امریکی عہدیداروں نے مرکزی حکومت کو مضبوط بنانے اور جدید فوج کی تربیت میں گزشتہ 20 سالوں میں ‘قومی تعمیر’ کی کامیابیوں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔

انہوں نے واشنگٹن میں سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے لیے ایک نئی رپورٹ میں لکھا کہ ‘امریکا نے افغان حکومت کی گورننس، جنگ لڑنے اور موثر افغان سیکورٹی فورسز بنانے میں پیش رفت کے بارے میں بہت زیادہ پرامید دعوے کیے تھے۔

یہاں تک کہ جب امریکی دور اپنے اختتام کے قریب ہے تو انہوں نے کہا کہ ‘افغان فورسز عملی طور پر تمام کارروائیوں کے لیے امریکی مدد پر انحصار کر رہی ہیں’۔

بشکریہ: ڈان نیوز

Back to top button