طالبان کی پیش قدمی پر اسٹیبلشمنٹ کنفیوژن کا شکار

افغانستان میں امریکی فوجوں کے انخلا کے دوران طالبان کی پیش قدمی پر پاکستان میں ایک جانب جہاں مذہبی حلقے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں عسکری حلقوں میں خوشی اور غمی کا ملا جلا ردعمل نظر آ رہا ہے جو اسٹیبلشمنٹ میں اس معاملے پر کنفیوژن اور بھی ہوئی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ عسکری حلقوں میں جہاں روشن خیال طبقہ افغان طالبان کی واپسی سے پاکستان میں بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان جیسی شدت پسند تنظیم کو تقویت ملنے کا خدشہ ظاہر کر رہا ہے وہیں اسٹیبلشمینٹ میں موجود رجعت پسند طبقہ افغان طالبان کی پیش قدمی کو پاکستان کی جیت قرار دے رہا ہے۔
تاہم افغان طالبان کی پیش قدمی پر پائے جانے والی کنفیوژن اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ کپتان حکومت بھی اسی کنفیوژن کا شکار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان یہ بیان داغ چکے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان کو اپنی جیت نظر آ رہی ہے تو وہ کسی کے ساتھ مذاکرات کیوں کریں گے۔ دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی فتوحات ہر وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ان کا نتیجہ پاکستانی طالبان کی واپسی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ یہ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ 2014 میں شروع کیے گئے آپریشن ’ضربِ عضب‘ کے دوران ٹی ٹی پی کے جو کارندے افغانستان چلے گئے تھے وہ اب مہاجرین کی شکل میں واپس پاکستان آسکتے ہیں۔
وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے حالیہ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا ’’اگر افغانستان میں طالبان غالب آتے ہیں تو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی جیسی شدت پسند تنظیموں کو تقویت مل سکتی ہے۔” اس اجلاس میں وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد مہاجرین کی آڑ میں یا بھیس بدل کر پاکستان آ سکتے ہیں۔
اس سے قبل دو جولائی کو فوجی حکام نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے آپس میں روابط موجود ہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں شدت پسند تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا اور افغان طالبان کی پیش قدمی نہ صرف پاکستانی طالبان بلکہ دنیا میں پھیلے ہوئے جہادی گروہوں کے لیے ایک اہم موقع ہے جو ان کی تقویت اور بیداری کا سبب بن رہا ہے مگر اس کے اصل نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
دوسری جانب سرحد پار افغان وزیرِ خارجہ محمد حنیف اتمر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں افغان حکومت کے خلاف ٹی ٹی پی اور القاعدہ افغان طالبان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر رہے ہین۔ جیو نیوز کو نو جولائی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حنیف اتمر نے کہا تھا کہ افغان صوبے بدخشان، قندوز اور فریاب سمیت دیگر صوبوں میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی افغان طالبان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کی مصدقہ اطلاعات مل رہی ہیں۔
اسی دوران طالبان کے گروہوں کے امور سے باخبر محقق عبدالسعید نے کہا ہے کہ ’’افغان طالبان کی پیش قدمی کے حوالے سے جہادیوں کا حالیہ بیانیہ ٹی ٹی پی کی فکری تقویت کا سبب بھی بن رہا ہے جس سے ان کی صفیں دوبارہ مضبوط ہو رہی ہیں۔” ان کے بقول ٹی ٹی پی کی جانب سے اس بیانیے کا پرچار کیا جا رہا ہے کہ اگر افغان طالبان امریکہ جیسی عالمی طاقت کو مزاحمت کے بعد مذاکرات کی میز پر لا کر اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں تو ٹی ٹی پی بھی اپنے دشمن یعنی ریاستِ پاکستان کو شکست دے سکتی ہے۔ عبدالسعید نے کہا کہ یہ بیانیہ ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے بیانات سے بھی ملتا ہے جس کا اظہار انہوں نے گزشتہ برس جنگجو دھڑوں کے ساتھ ساتھ مختلف پاکستانی ریاست مخالف جہادی تنظیموں کی ٹی ٹی پی میں انضمام کے موقع پر کیا تھا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا سے قبل ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار ٹی ٹی پی کے موجودہ مرکزی امیر مفتی نور ولی کی ناراض دھڑوں کو منا کر انہیں تنظیم میں واپس لانے اور ملک میں فعال القاعدہ اور لشکرِ جھنگوی سے وابستہ گروہوں کو بھی ٹی ٹی پی میں شامل کرنے کی کوششوں کو اس سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگست 2020 سے ٹی ٹی پی میں ناراض دھڑوں کی واپسی کی کوششیں کامیاب ہونا شروع ہوگئی تھیں جب تنظیم کے دو اہم دھڑے جماعت الاحرار اور حزبِ الاحرار نے ٹی ٹی پی میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کر کے مفتی نور ولی کی قیادت پر اعتماد کا اعلان کیا تھا۔ اس کے کچھ ہفتے بعد ٹی ٹی پی کے شہریار محسود کا دھڑا بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہو گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ناراض دھڑوں کے علاوہ القاعدہ کے دو اہم پاکستانی گروہوں نے بھی باقاعدہ طور پر ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی ہے جن میں سے ایک حال ہی میں ہلاک ہونے والے القاعدہ برِصغیر کے نائب امیر استاد احمد فاروق کے قریبی ساتھی کمانڈر منیب کا گروپ ہے۔ دوسرا گروہ القاعدہ سے وابستہ امجد فاروقی گروہ ہے جو ماضی میں جنرل پرویز مشرف اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ لشکرِ جھنگوی کے عثمان سیف اللہ کرد کا گروہ بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہوا ہے جس کی سربراہی اب مولوی خوش محمد سندھی کر رہے ہیں جو ماضی میں حرکت الجہاد اسلامی نامی شدت پسند گروہ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اسکے علاوہ بھی گزشتہ برس نومبر میں بھی شمالی وزیرستان سے دو جنگجو دھڑے ٹی ٹی پی میں شامل ہوئے تھے۔ ان میں ایک مولوی علیم خان کا گروہ ہے جو شمالی وزیرستان کے اہم طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کے نائب رہ چکے ہیں جب کہ موسیٰ شہید کاروان گروپ کے نام سے شمالی وزیرستان میں فعال طالبان گروہ بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہو چکا ہے۔
ان تمام سرگرمیوں کے دوران اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ایک تازہ رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اس گروہ میں ناراض دھڑوں کی واپسی اور نئے گروہوں کی شمولیت کے بعد ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے جب کہ شدت پسند گروہ کے مالی وسائل میں بھی بھتوں، اسمگلنگ اور ٹیکسوں کے ذریعے اضافہ ہوا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین سے جب حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جب ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ "ہم کسی فرد یا گروہ کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرے۔ یہ ہماری پالیسی ہے”۔
دوسری جانب اسلامی شدت پسند تنظیموں کے لٹریچر پر تحقیق کرنے والے اسلام آباد میں مقیم محمد اسرار مدنی کہتے ہیں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی جدید ریاست، جمہوریت، ووٹنگ حتیٰ کہ خودکش حملوں جیسے بنیادی مسائل پر القاعدہ ہی کے بنیادی لٹریچر کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کے بقول افغان طالبان پاکستان کی حدود میں کارروائیاں نہیں کرتے اس لیے پاکستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ وہ ریاستِ پاکستان کے خلاف نہیں لیکن افغان طالبان پاکستان کے کہنے پر افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے بھی گریز کرتے ہیں۔
