طالبان کے پنج شیر میں مذاکرات ناکام

مذاکرات ناکام ہونے کے بعد افغان طالبان نے پنج شیر کے جنگجوئوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں ، پنجشیر کی مزاحمتی تحریک کا کہنا ہے کہ ’اس نے طالبان کے حملوں کو پسپا کر دیا ہے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اونچی برف پوش چوٹیوں والی ناہموار وادی جو دارالحکومت کابل کے شمال سے تقریباً 80 کلومیٹر سے شروع ہوتی ہے، افغانستان کی طالبان مخالف افواج کا اہم مرکز ہے۔دی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ جس میں طالبان مخالف جنگجو اور سابق افغان سکیورٹی فورسز شامل ہیں، نے اس وادی کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں نے اس وادی کو کئی روز سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔طالبان کے ایک سینیئر عہدیدار امیر خان متقی نے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میرے بھائیو، پنجشیر کے معاملے کو بات چیت اور مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے اس میں پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ’اب جبکہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور طالبان نے پنجشیر کا گھیراؤ کرلیا ہے، وہاں اب بھی ایسے لوگ ہیں جو مسئلے کا حل پرامن طور پر نہیں چاہتے۔‘
انہوں نے پنجشیر کے عوام سے کہا کہ ’یہ آب آپ پر منحصر ہے کہ ان لوگوں سے بات کریں جو جنگ چاہتے ہیں۔‘افغانستان کے وزیر دفاع بسمہ اللہ محمدی نے کہا ہے کہ ’طالبان نے منگل کی رات پنجشیر پر دوبارہ حملہ کیا ہے۔انہوں نے بدھ کو ٹویٹ کیا کہ ’گذشتہ رات طالبان کے دہشت گردوں نے پنجشیر پر حملہ کیا لیکن ہم نے ان کو شکست دی۔‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 34 طالبان ہلاک جبکہ 65 زخمی ہوئے ہیں۔
’ہمارے لوگوں کو ڈرنا نہیں چاہیے، وہ بھاری جانی نقصان کے ساتھ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔‘
پنجشیر کے بیشتر رہائشی اور جنگجو طالبان سے ان کے پہلے دور حکومت میں لڑے ہیں۔ ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ’خون کے آخری خطرے تک ہم دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘ایک دوسرے رہائشی نے کہا کہ ’ہر ایک کے کندھے پر ہتھیار ہیں اور سب چلانے کے لیے تیار ہیں۔ نوجوان سے لے کر بوڑھوں تک، وہ سب مزاحمت کی بات کرتے ہیں۔‘
بشکریہ : اردو نیوز
