طلب میں اضافے کے بعد مولانا ڈیزل کا اپنی قیمت بڑھانے کا فیصلہ

عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے برخلاف ملکی سیاست میں مولانا ڈیزل کی ڈیمانڈ میں اضافے کے بعد جے یو آئی نے اپنی قیمت بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکمران اتحاد سے حصہ بمطابق جثہ کے برعکس مزید عہدے حاصل کرنے کےلیے مولانا فضل الرحمٰن نے شہباز حکومت سے پیار کی پینگیں بڑھانے کے بعد اچانک اپوزیشن میں رہنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق کسی بھی آئینی ترمیم کےلیے ترپ کا پتہ جے یو آئی کے ہاتھ میں آنے کے بعد مولانا فضل الرحمن اپنا ریٹ بڑھانے کےلیے ایسے بیانات ذرائع سے چلوا رہے ہیں تاکہ ان کے مطالبات من و عن تسلیم کر لیے جائیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قومی اسمبلی میں 8اور سینٹ میں 5ارکان کے ووٹوں کی طاقت سے حالیہ دنوں میں قومی سیاست کی توجہ کا مرکز و محور بننے والے مولانا فضل الرحمٰن حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے اس وجہ سے بھی اہمیت کے حامل بنے ہوئے ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں جو قانون سازی کرنا چاہتی ہے اس کےلیے حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں تو پکڑ دھکڑ کر دو تہائی اکثریت موجود ہے تاہم سینیٹ سے آئینی ترمیم کی منظوری میں حکومت کو تین ووٹوں کی کمی کا سامنا ہے اور یہ کمی جے یو آئی کے ووٹوں کے ساتھ آسانی سے پوری ہو سکتی ہے۔ اسی لیے موجودہ صورت حال میں حکومت کے نزدیک ایک ایک ووٹ کی قدر و قیمت انتہائی گرانقدرہے۔
اسرائیل اور اس کے اتحادی عمران کو بچانے کےلیے کوشاں ہو گئے
دوسری جانب صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتوں کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کی علی درانی سے طویل ملاقات کے بعد مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کوئی اس ملاقات کو صرف خیالات کا تبادلہ قرار دے رہا ہے تو کوئی پیغام رسانی کا ذریعہ بتا رہا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ درانی سے ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آنے والی خبروں نے حکومتی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد ذرائع کے ساتھ سامنے آنے والی خبر کے مطابق فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وہ آئینی ترامیم کی حمایت نہیں کرینگے، وہ اپوزیشن میں ہیں اور اپوزیشن میں ہی رہیں گے، اس بیان کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن قانون سازی کے مرحلے میں حکومت کی توقعات کے برعکس کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو یہ قانون سازی کسی صورت میں بھی ممکن نہیں ہوسکے گی گوحکومت کسی نہ کسی شکل میں خاموشی کے ساتھ متبادل انتظامات کی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہے لیکن ان کی کوشش ہے کہ قانون سازی میں مطلوبہ ووٹوں کی تعدادمولانا کے تعاون اور اشتراک سے ہی ہو۔ اسی لیے گزشتہ دنوں صدر آصف علی زرداری اپنے صدارتی منصب کے جاہ و جلال اور تمکنت کو ایک طرف رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش پر پہنچ گئے تھے اور اس ملاقات میں انہوں نے مولانا صاحب کو تحفے میں ایک بندوق کا تحفہ بھی دیا تھا لیکن مولانا کے رفقاء کے مطابق صدر نے خالی بندوق دی تھی اس میں گولیاں نہیں تھیں اس لئے ظاہر ہے کہ انہوں نے مولانا کےلیے کسی حدف کا تعین بھی نہیں کیا ہوگا۔ صدر سے ملاقات کے اگلے ہی روز وزیراعظم شہباز شریف بھی اپنی کابینہ کے طاقتور اراکین کے ہمراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر پہنچے تھے جہاں خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی اور جہاں ایک طرف مولانا فضل الرحمٰن کے چہرے پر یقین کا اطمینان دیکھا گیا وہیں وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے ارکان کے چہروں پر بھی فتح مندی کی سرشاری موجود تھی۔ تاہم اب اپوزیشن میں رہنے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے تازہ بیان داغ کر حکومت کے چہرے کی ہوائیاں اڑا دی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقاتیں کی تھیں، وزیراعظم نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے مولانا فضل الرحمٰن انتشاری ٹولے کی سیاست مسترد کردیں گے، حکومت کوشش کرے گی کہ مولانا فضل الرحمٰن کے تحفظات دور ہوں۔اس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے ذرائع کی جانب سے خبر سامنے آئی تھی کہ حکومتی وفد نے جے یوآئی کو وفاق میں 4 وزارتوں، خیبر پختونخوا کی گورنرشپ اور بلوچستان حکومت کا حصہ بننےکی پیش کش کی تھی مگر مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف تھا کہ حکومت سازی سےقبل جے یو آئی کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ اس لئے وہ فوری حکومت میں شامل نہیں ہونگے۔ جس کے بعد اب مولانا نے اپوزیشن میں رہنے بارے بیان داغ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن حکومتی پیشکش کے مقابلے میں مزید عہدوں اور مراعات کے طلبگار ہیں اسی لئے حکومت کو دباو میں لانے کےلیے مولانا نے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ جے یو آئی اپوزیشن کا حصہ ہے اور رہے گی۔حکومتی وجود اور اس کے اقدامات عوام کے مفادات سے متصادم ہیں، آئین سے متصادم قانون سازی میں حکومت ان کی حمایت نہیں لے سکی گی۔ ان کی جماعت جمہوری اصولوں کے منافی قانون سازی کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم ہے اور رہے گی، مولانا فضل الرحمٰن نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت کے اقدامات عوام کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں اور ایسی حکومت میں شامل ہونے سے عوامی غصے میں اضافہ ہوگا۔مولانا فضل الرحمٰن نے محمد علی درانی کو یقین دلایا کہ ان کی جماعت مستقبل میں جمہوری مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دے گی۔مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی اپوزیشن کا حصہ ہے اور رہے گی،
