طیارہ حادثہ: جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے ملیں گے

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے کو کراچی میں پیش آنے والے حادثے کے شہداء کے لواحقین کو انشورنس کمپنی 50 لاکھ کی بجائے ایک کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنے کو تیار ہوگئی۔
پی آئی اے کے مطابق سی ای او ائیر مارشل ارشد ملک اور انشورنس کمپنی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل تمام لواحقین کو پچاس لاکھ روپے ادا کیے جانے تھے جو کیرج بائی ائیر ایکٹ 2012 کے مطابق تھے۔پی آئی اے کا کہنا تھا کہ اب تمام مسافروں کے قانونی ورثا کو ایک کروڑ روپے فی مسافرانشورنس کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔بیان کے مطابق پی آئی اے پہلے ہی دس لاکھ روپے فی مسافر جنازے اور تدفین کے زمرے میں ادا کر چکی ہے۔
ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ بڑھائی گئی انشورنس کی رقم پہلے سے ادا کی گئی رقم کے علاوہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ائی اے نے اس سلسلے میں کام مکمل کرلیا ہے اور اب اسے قانونی ورثا کی جانب سے جانشینی کے سرٹیفیکیٹ کا انتظار ہے۔ترجمان نےکہا کہ اس سلسلے میں جاں بحق مسافروں کے ورثا کو خطوط ارسال کیے جارہے ہیں۔
قبل ازیں پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ ایچ خان نے تھا کہ ‘اے پی-بی ایل ڈی 2274 طیارے کے ڈھانچے کی انشورنس ایک کروڑ 97 لاکھ ڈالر تھی جسے پی آئی اے نے لیز پر حاصل کیا تھا اور ہر مسافر کو 50 لاکھ روپے ملیں گے’۔ مسافروں کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بھی این آئی سی ایل سے 50 لاکھ روپے فی کس کے عوض انشورڈ تھے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہر مسافر کے اہلِ خانہ کو تدفین کے انتظامات کے لیے 10 لاکھ روپے دیے جارہے ہیں اور جاں بحق ہونے والوں کے قانونی ورثا کو 50 لاکھ روپے فی کس کی ادائیگی کی جائے گی’۔
یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پرماڈل کالونی میں رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں طیارے کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔بعدازاں اسی روز وفاقی حکومت نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کے سپرد کی گئی تھی۔
وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے 25 جون کو قومی اسمبلی میں مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کا ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا۔انہوں نے یہ بھی کہاتھا کہ پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، ضرورت سے زیادہ اعتماد اور توجہ ہونے کے باعث ہمیں سانحے سے گزرنا پڑا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا تھا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بدقسمت طیارہ پرواز کے لیے 100 فیصد ٹھیک تھا اس میں کسی قسم کی کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پروازیں معطل تھیں اور 7 مئی کو اس طیارے نے پہلی فلائٹ لی اور 22 مئی کو حادثے کا شکار ہوا، اس دوران 6مرتبہ کامیاب پروازیں مکمل کی تھیں جن میں 5پروازیں لاہور سے کراچی اور کراچی سے لاہور واپسی کے لیے تھیں اور ایک شارجہ کے لیے تھی۔
وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ دونوں پائلٹس، کیپٹن اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے اور طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ بھی تھے۔ غلام سرور خان نے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے فائنل اپروج پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی تھی جب وہ لینڈنگ پوزیشن میں آیا تب بھی کسی خرابی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
