عائشہ عمر کس جنسی درندے کو بے نقاب کرنے والی ہیں؟


مشہور ٹی وی ڈرامے بلبلے میں ‘خوبصورت’ کے کردار سے شہرت پانے والی اداکارہ عائشہ عمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس جنسی درندے کو بے نقاب کرنے جارہی ہیں جس نے 15 برس پہلے ایک لمبے عرصے تک ان کا جنسی استحصال کیا۔
ایک دور تھا جب جنسی ہراسانی کا شکار خواتین بدنامی کے خوف سے خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھیں۔ مگر اب وقت بدل گیا ہے، دنیا بھر کی طرح پاکستانی خواتین بھی جنسی ہراسانی پر نا صرف کھل کربات کرتی ہیں بلکہ عملی طور پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف سرگرم عمل بھی نظر آتی ہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کئی مرتبہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے 15 برس تک اس حوالے سے کسی کو بھی ایسے کسی واقعے کے بارے میں نہیں بتایا تھا لیکن اب انھوں نے اس معاملے پر بولنا شروع کر دیا ہے اور جلد ہی اس جنسی درندے کو بے نقاب کر دیں گی۔ ہالی ووڈ اداکارہ اور ڈائریکٹر روز میکگوان سے انسٹاگرام پر لائیو سیشن کے دوران عائشہ عمر نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے بات کی ہے۔ یاد ریے کہ ہالی ووڈ اداکارہ روز میکگوان نے ہاروی وائنسٹن کے ہاتھوں ہراساں ہونے کے 20 برس بعد 2017 میں اس بات کا انکشاف کیا تھا۔ عائشہ عمر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے روز میکگوان نے خود بھی بتایا کہ کس طریقے سے انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ہراسانی کے واقعات کے بارے میں بات کرنے کی طاقت جمع کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘میری آواز ہمیشہ سے تھی، لیکن کوئی اسے سن نہیں رہا تھا’، روز میکگوان نے کہا کہ ‘میں منتظر تھی کہ معاشرہ میری بات سننے کےلیے تیار ہوجائے’۔ روز میکگوان نے کہا کہ ہیلری کلنٹن نے ہاروی وائنسٹن کو تحفظ فراہم کیا تھا، لہذا مجھے ٹرمپ کی ضرورت تھی تاکہ میں ہالی ووڈ میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے مکروہ کرداروں کو بے نقاب کر سکوں۔
روز میکگوان نے بتایا کہ ‘میرے اس مشکل وقت میں بہت ذیادہ دوست نہیں تھے، میری مدد کرنے کےلیے خواتین کے کوئی گروہ نہیں تھے، ایسا کچھ بھی نہیں تھا’۔ تاہم میں پُر اعتماد تھی کہ ہراساں کرنے والے کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرتے ہوئے میں کبھی شرمندہ نہیں ہوئی۔
روز کیساتھ انسٹاگرام لائیو سیشن کے دوران عائشہ عمر نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں ہراساں کے ماحول میں خواتین پر خوف غالب ہے اور وہ خود کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔ لائیو سیشن کے دوران دونوں اداکاراؤں نے اس حوالے سے بھی بات چیت کی کہ کیسے عام طور پر کبھی پہناوے کے ذریعے تو کبھی کسی اور چیز کے ذریعے جنسی حملے کا الزام التا خواتین پر ڈال دیا جاتا ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں ایکٹرس نے تو لباس ہی ایسا پہن رکھا تھا کہ مرد کے جذبات بھڑک اٹھے یا فلاں ایکٹرس نے ایسی باتیں کیں کہ مرد کے جذبات بھڑک اٹھے۔
اس موقع پر روز میکگوان نے کہا کہ ‘می ٹو مہم نے دنیا بھر کے لوگوں کو متحرک کیا ہے، یہ ایک مواصلاتی آلہ ہے، جو یہ کہنے کےلیے ہے کہ مجھے تمہارے درد کا علم ہے’۔
بعد ازاں عائشہ عمر نے خود پر ہوئے جنسی حملے کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت 23 سال کی تھی اور انڈسٹری میں بالکل نئی داخل ہوئی تھی جب میری عمر سے دُگنے طاقتور آدمی نے ایسا کیا اور یہ سلسلہ برسوں تک چلتا رہا۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ یہ ایک واقعہ نہیں تھا۔ لیکن میں نے اسے جیسے ایک ڈبے میں بند کردیا اور خود سے کہا کہ ٹھیک ہے، یہ میری زندگی میں ہورہا ہے اور مجھے اس سے نمٹنا ہے۔ عائشہ عمر نے کہا کہ میں یہ بات کسی سے شیئر نہیں کرنا چاہتی تھی اور 15 برس تک خاموش رہی۔ کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ لیکن آخر کار میں نے دو برس پہلے کسی سے اس بارے میں بات کی۔ اس نے کہا کہ شوبز انڈسٹری کی میری ایک دوست نے بھی اپنی کہانی بیان کی تھی اور ٹی وی چینلز نے مجھے بلاکر پوچھنا شروع کردیا کہ ‘آپ کیا سمجھتی ہیں کہ وہ سچ کہہ رہی ہیں؟’۔ عائشہ عمر نے کہا کہ میں نے جواب دیا تھا کہ میں وِکٹم کی بست پر بھروسہ کروں گی۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس جواب پر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا انڈسٹری میں جنسی ہراسانی ہوتی ہے۔ میں نے تب پہلی بار کہا تھا کہ ہاں ایسا ہوتا ہے۔ عائشہ عمر نے کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے ساتھ ایسا ہوا تھا تو میں نے جواب دیا کہ ہاں اور میں اس پر کسی دن تفصیلی بات کروں گی لیکن آج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس مونسٹر کا نام نہیں لیا لیکن اس حوالے سے بات کرنا شروع کردی ہے اور وہ دن دور نہیں جب میں اس شخص کو بے نقاب کر دوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button