عاصم باجوہ فوج کی نہیں بلکہ کپتان کی چوائس ہیں

اس عمومی تاثر کے برعکس کے لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو فوج کے نمائندے کے طور پر وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے، اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ انہیں وزیراعظم عمران خان نے اپنی ذاتی خواہش پر معاون خصوصی برائے اطلاعات کا عہدہ دیا ہے کیونکہ وہ اپنی ٹیم کی میڈیا مینجمنٹ سے نالاں تھے اور عاصم باجوہ کی میڈیا مینجمنٹ کے تب سے قائل ہیں جب وہ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر فوج کے ترجمان ہوا کرتے تھے۔
سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی فراغت کے روز شبلی فراز کو وفاقی وزیر اطلاعات بنائے جانے کے ساتھ ہی عاصم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی برائے اطلاعات بنائے جانے سے یہ تاثر ابھرا تھا کہ وہ کابینہ میں فوج کے نمائندے کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم اب سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے عاصم باجوہ کے ساتھ اپنی گفتگو کی بنیاد پر یہ دعوی کیا ہے کہ ان کا بطور معاون خصوصی انتخاب عمران خان نے خود کیا تھا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ عاصم باجوہ کی میڈیا مینجمنٹ کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔
بی بی سی اردو کے لیے ایک تازہ ترین تحریر میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ میری ذاتی رائے میں عاصم سلیم باجوہ کو کابینہ میں شمولیت کے لیے رضا مند کرنے میں عمران خان کی ذاتی کاوش سب سے زیادہ ہے۔ ان کے خیال میں وزیر اعظم انتہاؤں کے آدمی ہیں۔ یا تو وہ کسی کے زبردست مداح ہیں یا زبردست مخالف۔ انکی نظر میں یا تو کوئی فرشتہ ہے یا کالا چور۔ یعنی عمران خان کے ہاں صرف دو رنگ ہیں۔ کالا یا سفید۔ سرمئی رنگ کو وہ پسند نہیں کرتے ہیں۔
بقول سہیل وڑائچ ایک طرف وزیر اعظم جنرل عاصم سلیم باجوہ کی میڈیا مینجمنٹ کے زبردست مداح ہیں۔ دوسری طرف اپنی میڈیا ٹیم کی کارکردگی سے وہ بالکل غیر مطمئن تھے۔ انکی جنرل عاصم باجوہ سے ملاقاتوں میں میڈیا ہینڈلنگ اور جدید دور کے تقاضوں پر گفتگو ہوئی ہو گی۔ ہو سکتا ہے جنرل عاصم باجوہ نے کپتان کو یہ فلسفہ پیش کیا ہو کہ جو گڑ سے مر جائے اسے زہر دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہوسکتا ہے خان اعظم کو یہ فلسفہ سمجھ بھی آ گیا ہو جسکے بعد عاصم باجوہ نے یہ ذمہ داری مشروط طور پرقبول کر لی۔
سہیل وڑائچ کے مطابق عاصم باجوہ نے یہ عہدہ مشروط طور پر قبول کیا ہے۔ پہلی شرط یہ یے کہ وہ سی پیک چیئرمین کا عہدہ پاس رکھیں گے اور اپنی ورکنگ جاری رکھیں گے۔ دوسری شرط یہ کہ سیاسی کام وزیر اطلاعات شبلی فراز کریں گے جبکہ عاصم باجوہ پس منظر میں رہ کر وزارت اطلاعات کی ری ماڈلنگ کریں گے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق جب انہوں نے جنرل عاصم باجوہ سے سوال کیا کہ کیا سیاسی عہدہ لینے کا مطلب سیاست میں آنا سمجھا جائے تو انھوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے اور انھوں نے یہ عہدہ بغیر تنخواہ اور مراعات کے اعزازی طور پر لیا ہے اور یہ کہ باوجود پیشکش کے انھوں نے اپنی مشیر برائے اطلاعات کے عہدے کا وفاقی وزیر کے برابر کا نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کروایا۔
رحیم یار خان کے جاٹ کاشتکار گھرانے میں پیدا ہونے والے عاصم سلیم باجوہ کی زندگی کا بیشتر حصہ فن سپہ گری میں گزرا ہے فوجی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے تو سٹریٹیجک انتظامی عہدے سی پیک کے چیئرمین ہو گئے، اب وہ وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات بھی مقرر ہو چکے یوں زندگی میں پہلی بار وہ خالص سیاسی عہدے پر کام کریں گے۔ فوج اور سیاست کے نظام کار میں اس قدر فرق اور تضاد ہے کہ فوج سے سیاست کے میدان میں آنے والے ذہین ترین جنرل اعظم خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
تاہم عاصم باجوہ کا کہنا ہے کہ وہ وزارت اطلاعات کو 21 ویں صدی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس حوالے سے پہلے سے تجربہ رکھتے ہیں اس لے انھیں امید ہے کہ وہ میڈیا اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ میڈیا کے معاشی زوال کو روک کر اسے کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔ جنرل عاصم باجوہ فوج کے ترجمان رہے، سدرن کمانڈ کے کور کمانڈر رہے اور اس سے پہلے صدر مشرف کے اے ڈی سی بھی رہے۔ انھوں نے تینوں مختلف النوع کردار انتہائی خوش اسلوبی سے نبھائے۔ ان کی شخصیت کی ہمہ رنگی دیکھیے کہ چار مختلف مزاج فوجی سربراہوں جنرل مشرف، جنرل کیانی ، جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ کے ساتھ انھوں نے کام کیا اور ہر ایک کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ قریب رہے۔
سہیل ورائچ کےمطابق عاصم باجوہ کے والد سعید باجوہ پراسرار طور پر قتل کر دیے گئے تھے۔ اس ذاتی المیے کو انھوں نے اپنے اندر ایسا سمویا کہ کیرئیر میں ایک کے بعد دوسری فتح حاصل کرتے گئے مگر انھیں مسئلہ یہ درپیش ہو گا کہ فوجی عہدہ میں ذاتی محنت کرنے والے کو ادارے کی پشت پناہی ملتی ہے جبکہ سیاست میں جو زیادہ کام کرتا ہے اس کے خلاف سازشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ وہ اس حوالے سے کام اور سازش دونوں محازوں پر کس حد تک کامیابی سے لڑ سکیں گے۔
سوال یہ ہے کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ سی پیک کے غیر متنازعہ اور بڑے عہدے پر متمکن ہونے کے باوجود اس چھوٹی سیاسی ذمہ داری کو اٹھانے کے لیے کیوں تیار ہوئے؟ سوال یہ بھی ہے کہ انھوں نے ساری زندگی فوج جیسے ڈسپلنڈ ادارے میں نوکری کی ہے جہاں آرڈر دیں تو کام ہوجاتا ہے جبکہ سیاست اور حکومت کا معاملہ الٹ ہے۔ یہاں ہر کام میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور بعض اوقات ایسی حقیقی رکاوٹیں بھی آ جاتی ہیں کہ چلتا ہوا کام بھی روکنا پڑ جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ ان رکاوٹوں، مشکلات اور مسائل سے کیسے نمٹتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button