عاقب جاوید کو قتل کی دھمکی کس نے اور کیوں دی؟

سابق فاسٹ باؤلر عاقب جاوید نے میچ فکسنگ کے خلاف آواز بلند کرنے پر قتل کی دھمکیاں دئیے جانے اور اس مکروہ دھندے میں بھارت اور دبئی سمیت مختلف ممالک میں موجود مافیاز کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ عاقب جاوید نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں ہمیشہ میچ فکسنگ کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہی سزا دی جاتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ میچ فکسنگ کیخلاف آواز اٹھانے پر انھیں قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، اور میچ فکسرز نے ہی انہیں اپنے کیریئر کے عروج پر قومی ٹیم سے باہر کروا دیا تھا۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ میچ فکسنگ میں کون کون سا کرکٹر ملوث تھا اور انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں کس نے دیں۔
یاد رہے کہ آج کل پاکستان کے کرکٹ کے میدانوں میں میچ فکسنگ کا چرچا اپنے عروج پر ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ سابق قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی طرف سے الزامات اور مطالبات کا سلسلہ جاری ہے۔ میچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات پابندی کے شکار سلیم ملک کی طرف سے کرکٹ بورڈ پر ٹارگٹڈ احتساب، نا انصافی اور اقرباء پروری کے الزامات عائد کرنے، وسیم اکرم اور انضمام الحق سمیت میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کیخلاف کارروائی کرنے کے مطالبے کے بعد اب سابق فاسٹ باؤلر عاقب جاوید نے بھی میچ فکسنگ میں ملوث مافیا کے بارے حیران کن انکشافات کر دئیے ہیں۔
ایک انٹرویو میں عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ میرا کرکٹ کیریئر جلد ختم کر دیا گیا کیونکہ میں نے میچ فکسنگ کے خلاف آواز اٹھائی تھی، مجھے دھمکیاں دی گئیں کہ میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں گے، مجھے کہا گیا کہ اگر تم نے فکسنگ کے خلاف آواز بلند کی تو تمہارا کیریئر ختم کردیا جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ میں آج تک پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ نہیں بن سکا۔ عاقب جاوید نے کہا کہ مافیا اور میچ فکسنگ کے ماسٹر مائنڈ کو سزا دیے بغیر کرکٹرز کو سزا دینے کے فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ میچ فکسنگ میں ملوث مافیا انتہائی چالاکی سے کام کرتا ہے اور ایک مرتبہ کوئی کھلاڑی میچ فکسنگ کی دلدل میں پھنس جائے تو اس کا باہر نکلنا ممکن نہیں ہوتا۔ عاقب جاوید نے میچ فکسنگ میں ملوث مافیا کے کارندوں کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میچ فکسنگ میں کئی پاکستانی کھلاڑیوں کو سزائیں ہوئیں لیکن اس مافیا کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا اور نہ ہی اس کو قانون کو کٹہرے میں پیش کیا جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ میچ فکسنگ میں ملوث مافیا کو بھی دونوں کو سزائیں دی جانی چاہئیں۔ عاقب نے کہا کہ میچ فکسنگ جیسی لعنت کا خاتمہ اس وقت ہوسکتا ہے جب فکسنگ مافیا کے کارندوں کو سخت ترین سزا دیتے ہوئے اسمیں ملوث تمام کھلاڑیوں پر بلا تفریق تاحیات پابندی عائد کی جائے۔انہوں نے کہا کہ فکسنگ کرنے والے اصل لوگ بھارت، دبئی، پاکستان سمیت دنیا بھر میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن آج تک ان کے چہرے دنیا کے سامنے نہیں لائے گئے اور جب تک ان لوگوں کو سزائیں نہیں ہوں گی اس وقت تک فکسنگ کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔
سابق فاسٹ باؤلر نے کہا کہ جسٹس قیوم کمیشن کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھا گیا جس کی وجہ سے کئی بڑے کرکٹرز کے فکسنگ میں ملوث ہونے کے باوجود محض چند ایک کو سزا ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے جسٹس ملک قیوم کمیشن کو بتایا تھا کہ میچ فکسنگ ایک نہیں بلکہ پانچ سے چھ کھلاڑی مل کر کرتے ہیں۔ میری عدالتی گواہی ان سب باتوں پر مبنی تھی جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا۔ عاقب جاوید نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ 20-21 سال پرانے کیسز ہیں اور ان میں سے اب کچھ بھی نکلنا ممکن نہیں ہے لیکن ہمیں ٹھوس قدم اٹھاتے ہوئے کہیں نہ کہیں اس عفریت کو روکنا ہو گا۔
پاکستان سپر لیگ کی ٹیم لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے یہ انکشافات ایک ایسے موقع پر کیے ہیں جب اسپاٹ فکسنگ میں تاحیات پابندی کی سزا پانے والے سابق کپتان سلیم ملک نے کرکٹ میں واپسی کی درخواست کی ہے جبکہ سابق چئیرمین پی سی بی خالد محمود کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست وسیم اکرم اور انضمام الحق سمیت دیگر کھلاڑیوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے اور سابق بلے باز جاوید میانداد کی طرف سے میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں اور بکیوں کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button