عالمی طاقتیں امریکہ کی افغانستان میں شکست سے سبق سیکھیں

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عالمی طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی افغانستان میں شکست سے سبق سیکھیں ۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ‘طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد آج افغانستان غیر ملکی تسلط سے مکمل طور پر آزاد ہوگیا ہے، آج افغانستان کے عوام کے لیے تشکر جبکہ جارحیت کرنے والی عالمی طاقتوں کے لیے سبق کا دن ہے’۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکیوں کا انخلا مکمل ہوگیا ہے اور کابل ایئرپورٹ پیر کی رات سے طالبان کے کنٹرول میں ہے اور وہاں خصوصی دستے تعینات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی حتمی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور آئندہ چند روز میں یہ مرحلہ بھی مکمل ہوجائے گا۔طالبان ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں دنیا کے نصف ممالک شکست کھا گئے ہیں، امریکا کی شکست تمام طالع آزماؤں کے لیے ایک سبق ہے اور افغانستان پر جارحیت کا ارادہ رکھنے والی طاقتیں آج شکست سے سبق حاصل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان مغربی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے گا ، طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ‘وہ جلد عوام کے درمیان ہوں گے اور حکومت سازی کا اعلان کریں گے۔پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور اس کے عوام کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا اور بالخصوص افغان مہاجرین کو پناہ دی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نئی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری امریکی فوجی دستہ 12 بجے کابل ایئر پورٹ سے روانہ ہوگیا۔ذبیح اللہ مجاہد نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارے ملک نے اپنی مکمل آزادی حاصل کرلی ہے۔خیال رہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں اور عہدیداروں کے انخلا کی حتمی تاریخ 31 اگست تھی، تاہم یہ عمل ایک روز قبل ہی مکمل کرلیا گیا اور یوں امریکا کی 20 سالہ جنگ ختم ہوگئی۔

علاوہ ازیں امریکی انخلا پر طالبان جنگجوؤں نے خوشی میں فائرنگ کی اور جشن بھی منایا جس پر ایک مرتبہ پھر طالبان کے ترجمان نے وضاحت دی کہ ‘کابل میں فائرنگ امریکیوں کے انخلا پر خوشی کے اظہار میں کی گئی اس لیے شہری پریشان نہ ہوں۔علاوہ ازیں قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بھی نئی سیاسی پیش رفت کی تصدیق کی اور امریکی فوجی انخلا مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔

واضح رہے کہ 24 اگست کو امریکا کے سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے اشارہ دیا تھا کہ انخلا کا عمل مقررہ تاریخ سے پہلے مکمل ہوجائے گا۔ساتھی ہی غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ میں اعداد و شمار کا حوالہ دے کر بتایا گیا تھا کہ امریکا، کابل ایئرپورٹ سے امریکی شہریوں کے انخلا کے اپنے ہدف کو اولین ترجیح کے طور پر صدر جو بائیڈن کی 31 اگست کی آخری تاریخ سے قبل پورا کر رہا ہے۔

ساتھ ہی بین الاقوامی پناہ گزین معاونت منصوبے کے پالیسی ڈائریکٹر سنیل ورگیس نے کہا کہ ‘یہ افغانیوں پر منحصر ہے کہ وہ ان خطرات سے نمٹیں اور اس سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں’۔

Back to top button