عام انتخابات دھاندلی الزامات کی زد میں کیوں؟

ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد جہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کی 100 فیصد شفافیت کا دعوی کیا ہے وہیں انتخابی نتائج آنے سے قبل ہی ماضی کے الیکشنز کی طرح اس مرتبہ بھی مختلف سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزام لگا دئیے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، تحریک لبیک پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ کئی حلقوں میں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ آیا ملک میں کبھی عام انتخابات صاف و شفاف ہو بھی سکیں گے یا نہیں؟

مبصرین کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں صرف سن 1970 کے انتخابات کو نسبتا صاف و شفاف سمجھا جاتا ہے۔ تاہم 1970 کے مقابلے میں تمام طرح کی جدیدیت کے باوجود ملک میں اب بھی انتخابات کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پہ دھاندلیوں کا دعوی کیا جاتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں نے ابتدائی طور پر انتخابات کے نتائج کا خیر مقدم کیا لیکن بعد میں جیسے ہی مختلف پولنگ اسٹیشنز سے پی ٹی آئی کی شکست کے رزلٹس آنا  شروع ہوئے تو تحریک انصاف نے یہ بیانات جاری کرنے شروع کر دئیے کہ انہیں خدشہ ہے کہ نتائج میں رد و بدل کیا جائے گا۔

 تحریک لبیک پاکستان کے قائد سعد رضوی کا بھی یہی کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کو بڑے پیمانے پر لوگوں نے ووٹ دئیے ہیں لیکن الیکشن حکام فارم 45 انہیں نہیں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی پارٹی کو انصاف نہیں دیا گیا تو وہ اپنا حق چھین کے لیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ جماعت اسلامی نے اپنی مخالف پارٹی پر دھاندلی کا الزام لگایا، جبکہ پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کی کامیابی کے دعوے کو غلط قرار دیا ہے

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں الیکشن میں دھاندلی کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ جب محترمہ فاطمہ جناح نے آمر مطلق جنرل ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑا تو اس الیکشن میں بھی بڑے پیمانے پہ دھاندلی ہوئی اور اس دھاندلی میں ریاستی ادارے ملوث تھے۔‘‘ اسلامی جمہوری اتحاد سے لے کر پرویز خٹک کی پارٹی تک سیاسی اتحاد اور جماعتیں انہی اداروں کی مرہون منت ہیں کیونکہ مقتدر قوتیں خود یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ کس کو انتخابات میں جتوانا ہے اور کس کو ہرانا ہے کس کو سینیٹر بنانا ہے یا کس کو رکن اسمبلی بنانا ہے۔” خود عمران خان نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہیں مختلف جماعتوں سے بندے لا کر ریاستی ادارے دے رہے تھے بالکل اسی طرح اگر تحریک انصاف کے خلاف دھاندلی ہوئی یا ان کے لوگوں کو وفاداریاں تبدیل کرنے پہ مجبور کیا گیا، تو اس میں بھی تحریک انصاف کے مطابق ہاتھ مقتدر قوتوں کا تھا۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق تقریبا ہر الیکشن میں دھاندلی کا پیٹرن ایک جیسا ہی ہوتا ہے اور اسی طرح شکایات اور الزامات کے تبادلے ہوتے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام نہیں کریں گے۔سیاسی جماعتوں کو اداروں کی آئینی حدود کے حوالے سے کوئی متفقہ پالیسی لانی پڑے گی۔ ’’آئین نے ہر ادارے کی ذمہ داریوں اور فرائض کو بڑے واضح انداز میں بیان کر دیا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ واضح کردیا تھا کہ ملک کی پالیسی بنانا سیاست دانوں کا کام ہے اس میں کسی دوسرے ادارے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں سیاسی معاملات میں اداروں کی مداخلت ہوتی ہے جس کی وجہ سے انتخابات کے نتائج بھی متاثر ہوتے ہیں۔‘‘ جب تک سیاسی جماعتیں اس بات پر اتفاق نہیں کریں گی کہ اداروں کو ان کے قانونی حدود میں رکھا جائے ملک میں جمہوری عمل آگے نہیں چل سکے گا۔ ’’اور انتخابات میں اسی طرح دھاندلیاں ہوتی رہیں گی۔

Back to top button