عثمان بزدار کی نااہلی سے پنجاب کیسے تباہ ہو رہا ہے؟


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پنجاب میں ایک نااہل اور کمزور شخص کو وزیر اعلی بنانے اور پھر اسے مسلسل بچانے کے چکر میں پاکسستان کا سب سے بڑا صوبے اس وقت انتظامی طور پر تباہی کا شکار ہو چکا یے اور گورننس کا برا حال ہے۔ اڑھائی برس میں بزدار کی حکومت کوئی ایسا کام نہیں کرسکی جسکی عام لوگ تعریف کریں۔ پنجاب کے رُولز آف بزنس کے تحت صوبائی وزرا کے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں اور تمام تر اختیارات وزیراعلیٰ کے پاس ہیں۔ ایسے میں شاطر بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے سی ایس پی افسران ایک کمزور وزیراعلیٰ کو اپنی انگلیوں پر نچا رہے ہیں اور بزدار کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے عثمان بزدار وزیراعظم کو کہہ کر پانچ چیف سیکرٹری اورانسپکٹر جنرل پولیس بدلوا چکے ہیں لیکن کسی سے بھی کام کروانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ وجہ یہ ہے کہ کام لینے کے لیے کام کی سمجھ ہونا بھی ضروری ہے اور عثمان بزدار سمجھ بوجھ سے پیدل ہیں۔ ان حالات میں سرکاری دفاتر میں کرپشن پہلے سے زیادہ نہ بڑھے تو اور کیا ہو؟
صوبہ پنجاب میں حالات یہ ہیں کہ محکموں کے سیکرٹری وزراء کے قابو میں نہیں کیونکہ وزرا ء اُنکا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ صحت کا شعبہ حکومت کی بڑی ترجیح کہا جاتاہے۔ لیکن اڑھائی برسوں میں صوبے میں ایک نیا ہسپتال نہیں بن سکا۔ جتنی بھی سرکاری کمپنیاں شہباز شریف کے دور میں بنائی گئی تھیں انہیں سی ایس پی افسروں نے گِدھوں کی طرح نوچ کر کھایا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے چودہ ضلعوں کے بنیادی صحت مراکز اور دیہی مراکز صحت ہیلتھ فیسلٹیز اور مینجمینٹ نامی کمپنی کے سپردہیں۔ اس کمپنی کو رواں سال سیکرٹری ہیلتھ نے اسکا بجٹ ہی جاری نہیں کیونکہ کمپنی کے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سیکرٹری صاحب کے گھر میں استعمال ہونے والی کمپنی کی چار گاڑیاں ان سے واپس لے لی تھیں۔جن گاڑیوں کو دیہات اور قصبوں میں مراکز کے معائنہ کے لیے استعمال ہونا تھا وہ افسروں کے گھروں پراستعمال کی جارہی تھیں۔ محکمہ صحت کے افسروں نے درجنوں ملازمین عارضی بھرتی کرکے انہیں اپنے گھروں پر کام کاج کرنے کے لئے رکھا ہُوا تھا۔اعلیٰ افسران گھوسٹ ملازمین رکھ کر انکی تنخواہیں ہڑپ کرہے تھے۔یہ افسران کمپنی میں ایڈیشنل چارج پر عہدے لیکر کمپنی سے لامحدود پیٹرول لیتے رہے۔کم وبیش یہی حال ہر سرکاری کمپنی کا ہے۔
عمران خان کی حکومت بننے کے بعد جب بیوروکریسی کے خلاف بھی احتساب کا ڈنڈا گھوما اور فواد حسن فواد اور احد چیمہ جیسے سینئر افسران کو گرفتار کیا گیا تو پنجاب کی بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ انکا موقف تھا کہ وہ نیب سے ڈرتے ہیں۔ وزیراعظم انکے دباو میں آگئے اور نیب کا قانون بدل ڈالا جس کے تحت اب احتساب کا ادارہ سرکاری افسروں پر براہ راست ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ نئے قانون خے مطابق پہلے چیف سیکرٹری کسی الزام کی تحقیقات کرے گا پھر وہ معاملہ نیب کو جائے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ چیف سیکرٹری اپنی برادری کے کسی افسر کے خلاف غیرجانبدارانہ تحقیقات کرہی نہیں سکتا۔ چنانچہ سرکاری افسروں کو اب کھلی چھٹی ہے۔ کھاؤ پیو موج کرو کا فارمولہ چل رہا یے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر سیاستدانوں کے لیے این آر او نہیں ہے تو سرکاری افسروں کے لیے کیوں ہے؟ ناقدین کہتے ہیں کہ اگر پنجاب کے طاقتور ترین بیوروکریٹ اسی طرح بے لگام رہے تو وہ تحریک انصاف کی حکومت اور اسکی سیاست کو لے ڈوبیں گے اور کرپشن کا انڈیکس مزید اُوپر جائے گا۔ یاد رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے تازہ ترین کرپشن انڈیکس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ حزبِ اختلاف کا کام ہے کہ حکومت کونیچا دکھایا جائے ۔ چنانچہ اُس نے اس رپورٹ کی بنیاد پر حکومت کو خوب رگیدا۔ وزیراعظم عمران خان پر طنز کیا گیا کہ وہ توکرپشن ختم کرنے کے بلند دعوے کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں بدعنوانی پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بات بہت حدتک درست بھی ہے۔ نئے پاکستان کے سرکاری محکموں میں بیوروکریسی کی رشوت کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک صادق اور امین وزیراعظم کے ہوتے ہوئے نئے پاکستان میں کرپشن کیسے بڑھ گئی۔ اسکا سادہ جواب تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی ساری توجہ اپوزیشن لیڈران کے احتساب پر مرکوز ہے لہذا سرکاری ملازمین کی کرپشن روکنے کے لئے تو اسنے معمولی سا کام بھی نہیں کیا۔ کپتان اِس انہماک سے سیاستدانوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ دوسرے تمام شعبوں کی خرابیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اور افسر شاہی کی کرپشن کو تو خان صاحب بالکل ہی بھول گئے لگتے ہیں۔ یُوں لگتا ہے کہ خوشامدی افسر شاہی نے کپتان پر مکمل غلبہ پالیا ہے اور انکی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button