عدالتوں میں وکلا گردی کا سلسلہ کیسے رک پائے گا؟


اسلام آباد میں وکلا گردی کے ایک اور افسوسناک واقعے میں 8 فروری کے روز ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت اور ان کے چیمبر کے گھیراؤ اور انکے ساتھ بد تمیزی کے بعد اب سنجیدہ حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ وکلاء گردی کا یہ نی رکنے والا سلسلہ کیسے رک پائے گا۔
9 فروری کے روز تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دروازے مکمل طور پر بند رہے اور کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے پہلے 8 فروری کے واقعے کے فورا بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توڑ پھوڑ کرنے والے درجنوں وکلا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف اسلام آباد کچہری اور چیف جسٹس کے دفتر کے باہر توڑ پھوڑ کرنے والے وکلا کے خلاف تھانہ مارگلہ میں بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ بعض وکلا تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے جبکہ کچھ نے ضلعی انتظامیہ اور عدالتی حکام سے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی شخص کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں ہے اور صرف انھی افراد کو ہائی کورٹ کے احاطے میں جانے دیا جا رہا ہے جن کو رجسٹرار آفس کی جانب سے خصوصی اجازت دی جاتی ہے۔
9 فروری کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں کوئی وکیل موجود نہیں تھا مگر چیف جسٹس اطہر من اللہ سمیت ہائی کورٹ کے تمام ججز اپنے چیمبر میں موجود رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے اس واقعہ کے بعد ہائی کورٹ سمیت ضلعی عدالتوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کی وجہ سے 9 فروری کو اسلام آباد کی ضلعی عدالتیں بھی بند ہیں۔ عدالت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صورتحال کے جائزے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کے کام جاری رکھنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ حکام کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنی عدالت اور چیمبر پر وکلا کے حملے کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد سے ملاقات کی تھی اور اُنھیں اس واقعے اور وکلا کی طرف سے ان کے ساتھ کی گئی مبینہ ’بدتمیزی‘ کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔
دوسری طرف اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع ضلع کچہری میں محتلف مقامات پر تازہ نوٹس چسپاں کر دیے ہیں جس میں ان وکلا کو جن کے چیمبرز فٹ پاتھ اور سرکاری اراضی پر تعمیر کیے گئے ہیں، کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان چیمبرز کو خود ہی گرا دیں ورنہ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ ان چیمبرز کو مسمار کر دے گی اور نقصان کی تمام تر ذمہ داری وکلا پر ہو گی۔ تاہم ایف ایٹ کچہری میں وکلا ایک بڑی تعداد میں موجود رہے جہاں وکلا تنظیموں اور ان کے عہدیداروں کا اجلاس جاری بھی ہوا اور آئندہ لائحہ عمل تیار کرنے کے بارے میں منصوبہ بندی کی گئی۔ وکلا مظاہرین کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونے اور ذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے اعلان کے بعد وکلا کے رویے میں کچھ نرمی آئی ہے اور انھوں نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم اس پر نہ تو ہائی کورٹ اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ نے کوئی ردعمل دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ڈسٹرکٹ کورٹ کے وکلا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے ارکان سے رابطہ کر کے اُنھیں اس معاملے میں بیچ بچاؤ کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ وکلا کی بڑی نمائندہ تنظیموں کی طرف سے ابھی تک وکلا گردی کے اس واقعے کے بارے میں کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر قانون کی طرف سے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت پر پتھراؤ اور ان کے چیمبر کے گھیراؤ کے واقعے کے بارے میں بھی کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد پولیس کی سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق وکلا کا ایک دھڑا سپریم کورٹ کی طرف سے رُخ کر سکتا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے باہر بھی سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکلا کے ایک دھڑے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت اور ان کے چیمبر کے گھیراؤ اور ان سے بد۔کلامی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے. اسلام آباد کی مختلف عدالتوں کے وکلا اور صحافیوں نے ٹوئٹر پر اجتماعی طور پر بھی ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے۔ بیرسٹر جگنو کاظمی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ہم آٹھ فروری 2021 کو اسلام آباد ہائی کورٹ پر ہونے والے ناقابل معافی حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘ ‘ہمارا مطالبہ ہے کہ اسلام آباد بار کونسل اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔‘ وومن اِن لا نامی تنظیم نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ‘وکلا کی جانب سے توڑ پھوڑ کے بڑھتے واقعات سے لوگوں کا انصاف کے نظام پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں اور بار کونسلز میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ مسئلے کا حل ہو سکے۔’ وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری نے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کو وکلا کے غیر قانونی چیمرز مسمار کرنے پر سراہا ہے۔ ’وکلا گردی ختم ہونی چاہیے۔۔۔ حملے میں ملوث وکلا کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور ان کے خلاف اس جرم کی کارروائی ہونی چاہیے۔‘
صارف عزیر یونس نے لکھا کہ ’قانون کی عملداری کیسے مضبوط ہو گی جب قانون کے رکھوالے ہی ٹھگ بن جائیں گے؟‘ اسلام آباد پولیس نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت اور ان کے چیمبر پر حملہ کرنے کے الزام میں 20 سے زیادہ نامزد ملزمان اور دو سو سے زیادہ نامعلوم ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے گھروں کا پتہ معلوم کرنے کے بعد ہی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جائیں گے۔ تاہم پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جن افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے ان میں سے اکثر ملزمان کو پولیس کے اہلکار ذاتی طور پر بھی جانتے ہیں۔ ’لیکن وہ ان کو گرفتار کرنے سے اس سے گھبراتے ہیں کیونکہ اس کے بعد اگر وہ ان وکلا کے ہتھے چڑھ گئے تو ان کی درگت بنا دی جائے گی۔‘ اس اہلکار کے مطابق ماضی قریب میں وکلا نے متعدد پولیس اہلکاروں کو زد و کوب کیا لیکن ان واقعات میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ایف ایٹ کچہری میں سیشن جج کی عدالت کے سامنے توڑ پھوڑ کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھی متعدد وکلا کے خلاف تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس طرح وکلا کے خلاف دو مختلف تھانوں میں دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ کام ابھی تک دہشت گردی کی دفعات کا سامنا کرنے والے کسی بھی وکیل کی گرفتاری نہیں ہو پائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button