عدالت نے سائفر کیس کی میڈیا کوریج پر پابندی کیوں لگائی؟

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے 14 دسمبر کو سائفر کیس کی آئندہ سماعت ان کیمرہ کر دی گئی اور میڈیا کو اس کی کوریج کرنے سے روک دیا ہے۔ خصوصی عدالت کے سائفر کیس میں میڈیا کو کوریج سے روکنے کے فیصلے پر سیاسی مبصرین اور قانونی ماہرین کو خدشات ہیں کہ یہ اقدامات میڈیا کی آزادی اور ٹرائل دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ سائفر کیس کی سماعت ان کیمرا کرنے کے کیا قانونی نتائج ہو سکتے ہیں؟ کیا تاریخ میں پہلی مرتبہ میڈیا کو کسی کیس کی کوریج کرنے سے روکا گیا ہے؟
سینئر صحافی ندیم ملک نے سائفر کیس کی کارروائی نشر یا شائع کرنے پر پابندی کو انصاف کے تقاضوں کے منافی اقدام قرار دیا ہے۔ندیم ملک کے مطابق کیس کی سماعت کھلی عدالت میں ہے اور میڈیا نمائندگان کو نہ صرف اسے رپورٹ کرنے بلکہ مکمل سچائی کے ساتھ پوری کارروائی رپورٹ کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔’بند کمروں اور جیل کی دیواروں کے پیچھے کیے گئے کسی فیصلے کی عوامی قبولیت مشکل ہے، اس کے گہرے سیاسی اثرات ہوں گے، سیاسی پولرائزیشن کی فضا مزید خراب ہوگی اور نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔‘انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’جہاں ایک طرف بھٹو کے عدالتی قتل اور نواز شریف کو سزا دلوانے کے لیے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے نا انصافی کا مقدمہ چل رہا ہے کہ ماضی کے دھبے کیسے صاف کیے جائیں، اس میں ایک مزید کیس کا اضافہ بہت نقصان دہ ہوگا۔‘
دوسری جانب سینئر صحافی مظہر عباس نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے تحت میڈیا پر کوئی خبر نشر کرنے اور چھاپنے پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی جو عوام کے مفاد میں ہو۔ یہ میڈیا کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق پر مبنی خبروں کو رپورٹ کرے اور عوام کو آگاہ کرے۔’سابق وزیر اعظم عمران خان کا کیس عوامی اہمیت کا حامل ہے اور ایک مقبول رہنما اور سابق وزیر اعظم کے کیس کو ان کیمرہ ٹرائل کا اعلان کرنا لوگوں کو جاننے کے حق سے محروم کر رہا ہے۔‘
سینئر صحافی حامد میر نے بھی سائفر کیس کی میڈیا کوریج پر پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔حامد میر کے مطابق یہ پابندی آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے۔’تمام سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے اداروں اور وکلا فورمز کو اس پابندی کو مسترد کرنا چاہیے کیونکہ یہ پابندی پاکستان کو سول مارشل لا کی طرف دھکیل سکتی ہے۔‘
دوسری جانب سینئر صحافی ماجد نظامی نے ماضی میں دیگر کیسز میں میڈیا کوریج پر پابندی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے بھی عدلیہ، انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کئی متنازع فیصلے کر چکی ہے جو بعد میں غلط ثابت ہوئے اور تنقید کا نشانہ بنے۔انہوں نےبتایا ایک سابق منتخب وزیراعظم پر قائم مقدمے کی کارروائی میں ’شفافیت ہونا از حد لازم ہے ورنہ ایسے فیصلوں سے انتقام کا تاثر مزید بڑھے گا اور ان مقدمات پر سنانے جانے والے فیصلے بھی متنازع ہوں گے۔‘ماجد نظامی نے کہا: ’جب سیاسی رہنماؤں پر بننے والے مقدمات میں انتقام شامل ہو جائے تو اس بات سے قطع نظر کہ مقدمات میں کتنی سچائی ہے، وہ اپنی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ایسا چیزوں کو سائیڈ لائن کرنے اور سنسنی پھیلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘
قانونی ماہر احسن بھون کے مطابق ماضی میں متعدد کیسز کی کوریج کرنے سے میڈیا کو روکا جا چکا ہے۔’اگر ٹرائل اوپن ہو رہا ہے تو میرے خیال سے میڈیا کو کوریج سے روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یہ عمل بنیادی حقوق کے منافی بھی ہے اور فریڈم آف انفارمیشن کی موجودگی میں یہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟‘احسن بھون نے کہا جب اس کیس کی تقریبا مکمل تفصیلات سب جانتے ہیں اور سابق وزیر اعظم نے بھی اسے استعمال کیا، امریکی و پاکستانی حکومت اس پر بیان بھی دے چکی ہے اور سب کچھ پبلک بھی ہے، تو عوام کو حقیقت جاننے کی بھی اجازت دی جانی چاہیے۔’اس معاملے کے قانونی اثرات نہیں کیونکہ یہ عمل تمام چیزوں کو سائیڈ لائن کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور سنسنی پھیلانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔‘
