عدالت نے عمران کو قومی اسمبلی واپس جانے کا موقع دے دیا


سابق وزیراعظم عمران خان کو توہین عدالت کے باوجود ریلیف پر ریلیف دینے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اب 6 ماہ پہلے مستعفی ہو جانے والے عمرانڈو اراکین قومی اسمبلی کو پارلیمنٹ واپسی کا باعزت راستہ فراہم کرتے ہوئے فیصلے کے لیے پانچ روز کا وقت دے دیا ہے۔ 6 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے دس اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اگر کوئی اسے تسلیم نہیں کرتا تو پھر ہم پٹیشن کیوں سنیں۔‘ اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں نے پارلیمنٹ کا جو احترام کرنا تھا وہ نہیں کر رہے۔‘ اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ’ہمارے درخواست گزار حقیقت میں پارلیمنٹ میں جانا چاہتے ہیں لیکن باقی پارٹی کا اپنا فیصلہ ہے۔‘

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف آپ کہتے ہیں پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں جا رہے دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ ’میں آپ کو پانچ دن دیتا ہوں لیکن آپ اپنے کنڈکٹ سے ثابت کریں کہ آپ واقعی پارلیمنٹ واپس جانا چاہتے ہیں اور اس معاملے پر سیاست نہیں کر رہے۔ جج موصوف نے یہ بھلاتے ہوئے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں، پی ٹی آئی کو مفت مشورہ دیا کہ جن اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور نہیں ہوئے وہ واپس جا کر قومی اسمبلی میں بیٹھ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنے استعفوں کی منظوری بھی نہیں مانتی اور پارلیمنٹ میں بھی نہیں جاتی۔

چیف جسٹس کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے مشاورت کے لیے عدالت سے مہلت مانگ لی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ 70سال میں عدالتیں بہت زیادہ سیاسی معاملات میں ملوث رہیں جس سے عدلیہ کے ادارے کو نقصان ہوا۔ لیکن یہ ریمارکس دیتے ہوئے وہ بھلا بیٹھے کہ پارلیمنٹ کے معاملات میں دخل اندازی عدالت کا کام نہیں ہے اور اسی عمل کو سیاسی مداخلت کہا جاتا ہے۔پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’دس اراکین اپنے استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست دائر کر کے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوئے، عدالتی فیصلوں سے واضح ہے کہ استعفوں کی منظوری کے لیے خاص طریقہ کار ہے جس کی پابندی لازمی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سپیکر نے حکمران جماعت سے ملی بھگت کر کے صرف گیارہ استعفے منظور کیے جس کی آڈیو بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے، اگر تمام 123 استعفوں کو اجتماعی طور پر منظور نہیں کیا جاتا تو پھر ہم استعفے نہیں دے رہے، یہی پارٹی کی پالیسی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ صرف اراکین اسمبلی کے استعفوں کا معاملہ نہیں بلکہ ان کے انتخابی حلقوں کے لاکھوں ووٹرز کی نمائندگی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’عدالت یہ کیسے قبول کر سکتی ہے کہ اراکین استعفوں کی منظوری کو بھی نہ مانیں اور پھر واپس پارلیمنٹ میں بھی نہ جائیں اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دے گی، یہ لاکھوں ووٹروں کی نمائندگی کا معاملہ ہے جن کی نمائندگی نہیں ہو پا رہی۔ آپ اس بارے میں واضح موقف اپنائیں اور مشورے کے بعد پھر عدالت میں آ جائیں۔‘

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر سے پوچھا کہ کیا دس اراکین اسمبلی سپیکر سے مل کو اپنا موقف دے سکتے ہیں؟ اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے مگر پہلے انکے استعفوں کی منظوری کو معطل کیا جائے۔ تاہم چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیرسٹر علی ظفر کو پانچ دن کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ آپ مشورہ کرکے عدالت کو آگاہ کریں کہ کیا تحریک انصاف کے مستعفی اراکین پارلیمنٹ میں واپس آنے کو تیار ہیں تاکہ کیس کو آگے بڑھایا جا سکے۔

Back to top button