عدالت پر حملہ کرنے والے سب وکیل تھے بیشتر کو جانتا ہوں

اسلام آباد ہائی کورٹ حملے سے متعلق ایک کیس میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہےکہ اس روز جو یہاں آئے تھے وہ سب وکیل تھے اور باہر سے کوئی نہیں تھا جب کہ آدھے سے زائد کو میں جانتا ہوں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ہائیکورٹ حملے کے بعد وکلا کی پکڑ دھکڑ اور ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ سب کو پتا ہے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے یہاں حملہ کیا، میں نے خط لکھا ہے اب ریگولیٹر کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ جو یہاں آئے تھے وہ سب وکیل تھے اور باہر سےکوئی نہیں تھا، آدھے سے زائد کو میں جانتا ہوں، دونوں بار کے صدور کو کہا تھا وہ یہاں آجائیں لیکن وہ یہاں نہیں آئے، جنہوں نے تقاریر کیں، جنہوں نے انہیں ابھارا، ان کی نشاندہی بار کرے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ 70 سال سےکچہری کےلیےکچھ نہیں ہوا اس حکومت نےکچہری کےلیے بہت کچھ کیا ہے، اس حکومت نے پی ایس ڈی پی سےکچہری منتقلی فنڈز کی منظوری دی، اب کام شروع ہونے والا ہے، ہم تو قانون ہی کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں، حکومت ڈسٹرکٹ کمپلیکس پر کام کر رہی ہے۔
واضح رہےکہ چند روز قبل اسلام آباد میں وکلا کے چیمبرز گرائے جانے کے خلاف مشتعل وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے ہائی کورٹ پر دھاوا بول دیا اور اس موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بھی اپنے چیمبر میں محصور ہوگئے، وکلا نے ان کے چیمبر کے باہر شدید نعرے بازی کی۔
