آئینی ترمیم کی منظوری سے عدلیہ کے اختیارات پر کتنا اثر پڑے گا؟

دو تہائی اکثریت کے ساتھ سینٹ اور قومی اسمبلی سے 26 ویں آئینی تر میم کی منظوری سے جہاں پارلیمنٹ اپنا کھویا ہوا اختیار اور وقار دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔وہیں آئینی تر میم کی منظوری کے بعد ججز کی تقرری میں اب پارلیمنٹ کا اختیار اور کردار پوسٹ آفس کا نہیں رہے گا، بلکہ پارلیمنٹ کی اجتماعی بصیرت کا مظہر ہوگا۔ جو اختیار پارلیمنٹ نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دباؤ کے تحت 19ویں تر میم کرکے کھو دیا تھا۔
تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ججز کی تقرری کا کلی اختیار پارلیمنٹ کے پاس جانے سے کیا عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی؟
اس سوال کے جواب میں آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کی منطوری سے عدلیہ کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آئے گا کیونکہ جوڈیشل کمیشن میں تو ججز ہی ہوں گے، ان کے ہاتھ میں ججوں کی تعیناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے جو نظام لایا جا رہا ہے وہ خوش آئند ہے،
تاہم بعض دیگر آئینی ماہرین کے مطابق آئینی ترمیم کے مسودے کی رو سے عدلیہ میں انتظامیہ یا ایگزیکٹو کا عمل دخل زیادہ بڑھ گیا ہے، جو یقیناً عدالتوں کی ورکنگ پر اثرانداز ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ منظورشدہ ترمیم سے عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوں گی۔ پہلے چیف جسٹس کی تعیناتی ایک ازخود یا آٹومیٹک طریقہ کار کے تحت ہو جایا کرتی تھی۔ اب خصوصی پارلیمانی کمیٹی 3 سینیئر موسٹ ججز میں سے چیف جسٹس کا انتخاب کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم سے پہلے چیف جسٹس کی تعیناتی وزیراعظم کرتا تھا۔ اس کے بعد یہ تعیناتی خودکار طریقے سے ہونے لگی اور اب یہ اختیارات پارلیمانی کمیٹی کو تفویض کر دیے گئے ہیں تو ایک طرح سے ایگزیکٹو سے اختیارات مقننہ کے سپرد کر دئیے گئے ہیں۔
کیا موجودہ ترمیم سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی؟اس سوال کے جواب میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترمیم سے تو شاید عدلیہ کی آزادی متاثر نہ ہو لیکن جس طریقے سے ترمیم لائی گئی ہے اس سے عدلیہ کی آزادی ضرور متاثر ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز میں سے نیا چیف جسٹس کون ہوگا؟
ماہر قانون بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی تقرری بنیادی طور پر حکومت کے پاس جائے گی اس لئے آئینی ترمیم سے جوڈیشری کی آزادی پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔ دوسری چیز جو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے وہ یہ کہ آینی بینچز ہوں گی سپریم کورٹ میں ان آئینی بینچز میں کون بیٹھے گا کتنی بڑی ہوں گی اس سب کا فیصلہ جوڈیشل کمیشن کرے گا اور اس میں بھی حکومت کی نمائندگی بڑھا دی گئی ہے جوڈیشل کمیشن پر بھی حکومت نے اپنا کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ کسی قانون کو اگر آپ چیلنج کریں کہ غیر آئینی ہے یا کسی حکومتی اقدام کو چیلنج کریں یہ میرے بنیادی حقوق کے خلاف ہے تو جو بینچ اس کو سنے گا وہ حکومت بنا کر دے گی تو اس میں پھر جوڈیشل ریوو کا معاملہ بھی ختم ہوگیا۔ اگر آپ پرفارمنس کے نام پر یہ سسٹم بنا دیتے ہیں کہ حکومت اگر کسی ہائیکورٹ کے جج سے ناراض ہوجائے تو اس کو کارکردگی رپورٹ کے نام پر اس کو باہر نکال سکتی ہے اس سے یقینا عدلیہ کی آزادی بے معنی ہوجائے گی۔
اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ چھٹی کے دن قومی اسمبلی اور سینیٹ سے آئینی ترمیم کی منظوری معنی خیز ہے بہرحال مولانا کو یہ کریڈیٹ ضرور دیں گے کہ جو پہلا مسودہ تھا اس میں بہت قابل اعتراض باتیں تھیں، انہوں نے اس کو کافی حد تک تبدیل کروایا جس کا کریڈیٹ انہیں تحریک انصاف بھی دے رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دھونس دھاندلی کے ذریعے کتنی ہی اچھی ترمیم کو ووٹ ڈالوادیں تاریخ میں ہمیشہ متنازع رہے گی اور اس ترمیم کے حمایتی تمام سیاستدانوں کو اچھے نام سے یاد نہیں رکھا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عرفان صدیقی تو یہی کہیں گے کہ بی این پی کے دونوں رہنما اپنی خوشی سے ووٹ دے رہے ہیں جب کہ سینیٹر علامہ ناصر عباس نے فلور آف دی ہاؤس میں یہ کہا کہ میں نے جب گیلری میں اختر مینگل کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور پوچھا کہ یہاں کیا کر رہے ہیں تو اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میں اپنے دو سینیٹرز تلاش کر رہا ہوں۔
ماہر قانون اشتر اوصاف نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں ترمیم سے جو مطلق العنانیت کا سلسلہ بن گیا تھا وہ ختم ہوجائے گا ۔پہلے ججز ہی جج کی تعیناتی میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے ساری دنیا دیکھ لیں امریکا میں باقی ممالک میں دیکھ لیں ججز کی تقرری پارلیمنٹری اوور سائیڈ سے بھی ہوتی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ججز کی کارکردگی کو بھی مانیٹر ہونا چاہیے باقی سب اداروں میں ہوتا ہے تو یہاں کیوں نہیں ہوسکتا۔ حکومت کو اس پر بھی ضرور غور کرنا چاہیے۔
