میں نے گیم چینج کر دی، کل قوم انجوائے کرے گی

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے جنہوں نے اچکنیں سلوائی ہیں انہیں بڑا دھچکا لگے گا، میں گیم چینج کر دی ہے، کل قوم انجوائے کرے گی۔
ایک بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے کل قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے حوالے سے کہا کہ جنہوں نے اچکنیں سلوائی ہیں انہیں بڑا دھچکا لگے گا، میں نے گیم چینج کر دی ہے، کل قوم انجوائے کرے گی۔
قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کل تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ س سے پہلےخبر تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے شیڈول قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے ارکان کو جانے سے منع کردیا تھا، تاہم اب فیصلہ ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے ممبران کل قومی اسمبلی جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی عدم اعتماد کے خلاف ووٹ دیں گے، جب کہ وزیراعظم عمران خان بھی کل قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
قبل ازیں قانونی ٹیم نے وزیر اعظم عمران خان کو واضح طور پر باور کرایا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 94 کے تحت تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بھی وزیراعظم عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں، ان کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں سوائے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے۔
ذرائع نےدعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بھی عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 94 کے تحت وزیراعظم کی سیٹ پر برقرار رکھنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صدر مملکت سے آئین کےآرٹیکل 94 کے تحت عمران خان کو غیر معینہ مدت کے لیے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کے احکامات جاری کروائے جائیں۔ تاہم قانونی ٹیم نے حکومت کو بتایا ہے کہ آئین اور اسمبلی رولز کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے۔ قانونی ٹیم نے بتایا ہے کہ اسمبلی قوانین کے مطابق وزیراعظم کے ہٹتے ہی فوری طور پر نئے وزیراعظم کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
قانونی ٹیم کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو یہ بھی بتایا گیا کہ قومی اسمبلی کے رول 32 کے تحت وزیراعظم کے فوری انتخاب سے پہلے کوئی اور کارروائی نہیں ہو سکتی۔
