عرب شیوخ تلور کو قدرتی ویاگرا کیوں سمجھتے ہیں

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں نایاب پرندہ ہوبارا بسٹرڈ یعنی تلور ہر برس موسمِ سرما گزارنے آتا ہے۔ لمبی گردن اور ترچھی چونچ والا تلور دیکھنے میں مرغی جیسا لگتا ہے مگر انتہائی تیز اور ہوشیار پرندہ ہے جس کے شکار پر پاکستان میں عام شہریوں کے لئے سرکاری پابندی عائد ہے لیکن خلیجی ممالک کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کو تلور کے شکار کے لیے خصوصی پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں تلور کے شکار کے اجازت نامے دینے کا چلن ایوب خان کے دور سے شروع ہوا جب ابوظہبی کے حکمران شیخ زاید بن سلطان ہر برس سردیوں میں پاکستان آنے لگے، اور پھر ان کی دیکھا دیکھی دیگر خلیجی ریاستوں کے خانوادوں نے بھی تلور کے شکار کے لئے پاکستان کا رخ کر لیا۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 1980 کی دہائی سے عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کی جاتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ تلور کے شکار کے لیے وزارتِ خارجہ کی جانب سے جو خصوصی پرمٹ جاری کیا جاتا ہے اس کے مطابق کسی بھی علاقے میں عرب شیوخ دس دن کے لیے شکار کر سکتے ہیں۔ ان دس دنوں میں ان کو صرف 100 تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے تاہم بلوچستان کے محکمہ تحفظِ جنگلی حیات کی رپورٹ کے مطابق 2014 میں ایک سعودی شہزادے نے چاغی میں تین ہفتے کی کیمپنگ کے دوران 2100 تلور شکار کیے تھے جس پر بہت تنقید کی ہوئی اور پھر بلوچستان حکومت نے اپنے ہاں تلور کے شکار پر پابندی عائد کر دی۔
ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق اس نان سٹاپ شکار کی وجہ سے پاکستان میں تلور کی نسل معدومیت کا شکار ہے اور اسکی تعداد ساڑھے چھ ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ ہر برس ہزاروں تلور سائبیریا سے موسمِ سرما گزارنے پاکستان آتے ہیں جن کے شکار کی اجازت کھل کر دی جاتی ہے۔ لہذا عرب شیوخ وزارتِ خارجہ کے خصوصی اجازت ناموں کے ساتھ اپنے لاؤ لشکر سمیت بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں آتے ہیں اور عقاب کے ذریعے تلور کا شکار کرتے ہیں۔

صحیع یا غلط، لیکن مشہور ہے کہ تلور کا گوشت جنسی طاقت میں اضافہ کرتا ہے اس لیے عرب شہزادوں اور روساء کی یہ مرغوب غذا ہے۔ لیکن بعض عرب شہزادوں کا مؤقف ہے کہ تلور کا شکار ان کا ثقافتی ورثہ ہے جو ان کو اپنے آبا و اجداد سے ملا ہے۔ اور اس کو کھیل ہی سمجھا جاتا ہے اور اپنے اجداد کے کھیل کو زندہ رکھنے پر وہ فخر محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عرب شیوخ اس مقصد کے لئے تلور کا پوٹہ کھانا پسند کرتے ہیں جو کہ ویاگرا کی سیک گولی سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
جبکہ باقی ماندہ گوشت کی یخنی سے خاص پلائو تیار کیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ اسکا سالم بھی بنتا ہے اور اسے روسٹ کرکے بھی کھایا جاتا ہے۔

شکار کے علاوہ زندہ تلور بھی خلیجی ممالک میں سمگل ہوتے ہیں تاکہ وہاں پر نو عمر عقابوں کی تلاور شکار کرنے کے حوالے سے تربیت ہو سکے۔ پاکستان میں تلور کے شکار کے لیے صبح سویرے کا وقت متعین کیا جاتا ہے۔ تلور کے شکار میں بندوق کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ تلور کو قابو کرنے کا ذمہ عقاب کے سر ہے جسے اس مقصد کے لئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے ۔ صحرا میں تلور کے شکار کے لیے مقامی افراد گاڑیوں کے آگے پیدل چل کر تلور کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہیں۔ تلور پکڑنے کے لیے تربیت یافتہ عقابوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ عقاب کی آنکھوں پر غلاف چڑھا کر رکھا جاتا ہے تاکہ وہ وقت سے پہلے شکار پر نہ جھپٹے۔ شکار سے ایک دن پہلے ان عقابوں کو بھوکا رکھا جاتا ہے تاکہ پوری توانائی سے شکار پر جھپٹ سکیں۔ تلور نظر آتے ہی عقاب کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عقاب کے پاؤں میں ایک الیکٹرانک چھلا ہوتا ہے جس سے عقاب کی حرکات کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ عقاب تلور کی گردن پر حملہ آور ہوتا ہے۔ شکار کیے گئے تلور کے پروں کو مخفوظ کر لیا جاتا ہے تاکہ بعد میں شکار کے لیے عقابوں کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

تلور کے شکار کے حامی افراد اسے پاکستانی معیشت کے انتہائی معاون خیال کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ عرب شیوخ اور رؤسا ہر سال دسمبر میں تلور کے شکار کے لیے پاکستان آتے ہیں جہاں ان کے لیے شکار گاہیں تیار کی جاتی ہیں۔ ہر سال چار کلو میٹر کے احاطے پر عارضی شہر تعمیر کیا جاتا ہے، اس عارضی شہر میں دو سو رہائشی مہمان خانے تیار کیے جاتے ہیں۔ عربی شہزادوں کی معاونت کے لیے ایک ہزار ملازم رکھے جاتے ہیں۔ یہ تمام ملازمین مقامی افراد ہوتے ہیں جن کو روزگار مل جاتا ہے۔ شہزادوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ ایک ہزار ملازم پورا سال تنخواہ سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اس صحرا میں پانی کی ترسیل ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ صحرا میں مقیم شہر کو جنریٹر کے زریعے بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے اس عارضی شہر کو خار دار تاروں سے سیل کیا جاتا ہے۔ ان تمام سہولیات کا انتظام میزبان حکومت کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔ عرب شہزادوں کے جانے کے بعد اس شہر کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔ اور سامان کو گودام میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
تلور کے شکار کو خارجہ پالیسی کا ستون تو قرار دیا جاتا ہے لیکن سوال ہے کہ حکومت پاکستان کو تلور کے شکار سے مالی کے فائدہ کیا ملتا ہے؟ اس کا سادہ جواب ہے ایک تلور کے عوض ایک ہزار امریکی ڈالر۔حکومت پاکستان کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق نایاب پرندوں کے شکار کرنے والوں کو امریکی ڈالرز میں فیس ادا کرنی ہوتی ہے جو ایک لاکھ امریکی ڈالرز ہے جس میں 100 پرندوں تک شکار کرنے کی اجازت ہو گی۔ اضافی تلور شکار کرنے پر ایک ہزار امریکی ڈالر ادا کرنا ہو تا ہے جبکہ تمام شکار کیے گئے پرندوں پر کسٹم ڈیوٹی الگ سے وصول کی جاتی ہے۔

تاہم عملی تصویر یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کے ثمرات عام آدمی تک بہت کم پہنچتے ہیں۔ مثلاً جنوبی پنجاب میں شیوخ نے محلات اور کچھ سڑکیں اور دو تین ائیر پورٹ ، ہسپتال اور مساجد تو بنوائیں مگر وہاں اگر کسی نے فائدہ اٹھایا تو ٹھیکیداروں اور بااثر وڈیروں اور زمینداروں نے۔ اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ عرب شیوخ کے پاکستان میں قیام کے دوران یہاں جسم فروشی بھی عروج پر ہوتی ہے اور مہمانوں کو خوش کرنے کے لئے نامور مقامی رقاصاؤں اور اداکاراؤں کو پیش کئے جانے کے قصے بھی اب زبان زد عام ہیں۔
ظاہر ہے تلور کو ویاگرا سمجھ کر کھانے والوں نے اب کچھ تو کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button