عرفان خان بھی ایک عالمی وباء پر فلم کام کررہے تھے

بالی ووڈ کے نامور اداکار عرفان خان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا ایک اہم حصہ تھے، جن کے انتقال کی خبر نے ان کے مداحوں اور دنیا بھر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے اسٹارز کو اداس کردیا۔
عرفان خان کا انتقال 29 اپریل 2020 کو ممبئی میں ہوا، تاہم ان کے جنازے میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث زیادہ لوگ شرکت نہیں کرسکے۔ سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں نے اس حوالے سے بھی اپنے دکھ کا اظہار کیا، جب کہ حال ہی میں بولی وڈ اداکار رندیپ ہوڈا نے ایک انٹرویو میں اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عرفان خان کے جنازے میں کوئی ایک دوسرے کو گلے بھی نہیں لگا سکا۔
عرفان خان کے کیریئر پر نظر ڈالیں تو اداکار نے بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ کئی کامیاب ہالی ووڈ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ عرفان خان اپنے کیریئر میں ایک ایسی فلم میں بھی کام کرنے والے تھے جس کی کہانی ایک عالمی وباء پر مبنی تھی؟ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفان خان ہدایت کار آنند گاندھی کی ایک فلم میں کام کرنے جارہے تھے جس کا نام ’ایمرجنس‘ تھا۔ اس فلم کی کہانی خواتین سائنسدانوں پر مبنی تھی جو ایک وبائی امراض کے خلاف جنگ لڑتی ہیں۔
اس فلم کے حوالے سے ہدایتکار آنند گاندھی کا کہنا تھا کہ ’عرفان اور میں ایک مرتبہ اکٹھے پونے جارہے تھے، جس کے بعد ہماری کافی اچھی دوستی بھی ہوگئی، وہ میرے ساتھ ایمرجنس نامی فلم میں کام کرنے والے تھے، کاش میں نے ان کے ساتھ کسی پروجیکٹ میں کام کیا ہوتا‘۔ ہدایت کار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس فلم کےلیے انہوں نے وبائی امراض کے ماہر لیری بریلیئنٹ سے بھی رابطہ کرلیا تھا جو اس فلم ایگزیکٹو پروڈیوسر بننے جارہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’میری فلم کے اسکرپٹ میں وبائی امراض کے ساتھ سیاست اور دیگر کئی اہم موضوعات پیش کیے جانے تھے‘۔ یہ پروجیکٹ امریکی اسٹوڈیو کے ساتھ مل کر بنایا جارہا تھا۔
یاد رہے کہ عرفان خان آخری مرتبہ بالی ووڈ فلم ’انگریزی میڈیم‘ میں کام کرتے نظر آئے تھے۔
عرفان خان نے اپنے کیریئر میں پیکو، ہندی میڈیم، بلو، پان سنگھ تومر، مقبول اور ناک آؤٹ جیسی کامیاب فلموں میں کام کیا۔عرفان خان کا انتقال 28 اپریل 2020 کی رات ممبئی کے ایک اسپتال میں اس وقت داخل کروایا گیا جب ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی۔ بھارتی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ اداکار کو بڑی آنت کا انفیکشن ہوا تھا۔
