عرفان خان کی ایک کرکٹر سے کامیاب اداکار بننے کی کہانی

کیا آپ جانتے ہیں کہ 29 اپریل کو کینسر کے ہاتھوں شکست کھا جانے والے معروف بھارتی اداکار عرفان خان بچپن سے ہی ایک فرسٹ کلاس کرکٹر بننا چاہتے تھے لیکن قسمت کے چکر نے ان کو ایک کامیاب اداکار بنا دیا۔

دو سال کینسر کے موذی مرض کا مقابلہ کرنے والے عرفان خان کا اصل نام صاحبزادہ عرفان علی خان تھا اور ان کا تعلق بھارت کے صوبے راجھستان کی ریاست جے پور سے تھا- انہوں نے اداکاری کی تربیت نیشنل اسکول آف ڈرامہ نیو دہلی سے حاصل کی اور اسی دوران اپنی ایک ساتھی ستاپا سکدار کو دل دے بیٹھے اور ان سے 1995 میں شادی کر لی جن سے ان کے دو بیٹے بھی ہیں-

عرفان خان کا تعلق ایک متمول گھرانے سے تھا ان کے والد ایک کامیاب بزنس مین تھے جب کہ والدہ کی جانب سے وہ نواب خاندان کے رکن تھے اپنی زمانہ طالب علمی میں وہ اس حد تک شرمیلے تھے کہ ان کو صرف اس بات پر مار پڑتی تھی کہ ان کی آواز اتنی ہلکی ہوتی اور وہ اتنی آہستہ بولتے کہ کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی تھی- لیکن پھر جب اسی عرفان خان نے اداکاری کے شعبے میں قدم رکھے تو ان کے منفرد لہجے نے سب کو اتنا متاثر کیا کہ شعبہ اداکاری کا ہر بڑا ایوارڈ اپنے نام کر لیا- ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ان کے کاروبار میں ہاتھ بٹائیں جب کہ عرفان خان کے سر پر کرکٹ ٹیم میں کھیلنے کا جنون سوار تھا جس سبب انہوں نے گھر چھوڑ دیا اور اپنی نوجوانی کے دنوں میں سخت ترین زندگی گزاری- یہاں تک کہ انہوں نے نہ صرف لوگوں کے گھروں میں جا کر بچوں کو ٹیوشن پڑھائی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ائیر کنڈیشن بھی صحیح کیے-

ایک بار ان کو ایک بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ میں انڈر 23 کی ٹیم میں منتخب بھی کر لیا گیا مگر کٹ کے لیے پیسہ نہ ہونے کے سبب وہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کر سکے۔ بعد ازاں ایم اے کی تعلیم کے دوران ایک اسکالر شپ ملنے پر وہ نیشنل اسکول آف ڈرامہ پہنچ گئے۔ یوں وہ حادثاتی طور پر کرکتر کی بجائے اداکار بن بیٹھے- اور اس کے بعد انہوں نے مڑ کر نہ دیکھا۔

اگرچہ ان کا چہرہ عام فلمی ہیروز کی طرح نہ تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی سیاہ آنکھوں، سیاہ بالوں اور منفرد آواز اور لہجے کے سبب ہر طرح کے رول ادا کیے- ان کے زیادہ پسند کیے جانے والے کرداروں میں ان کے منفی کردار بہت پسند کیے گئے یہاں تک کہ ان کو پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازہ گیا-

انتہائی مشکل حالات میں اپنا نام اور پیسہ بنانے والے عرفان خان کی یہ دلی خواہش تھی کہ وہ ایک دن سوٹ کیس بھر کے پیسے کما کر اپنی ماں کے حوالے کر سکیں- مگر گزشتہ سال کینسر میں مبتلا ہونے کے باعث وہ کافی بیمار تھے مگر کینسر کے کامیاب علاج کے بعد واپس آگئے تھے- ان کی اخری ریلیز شدہ فلم انگریزی میڈیم تھی- 25 اپریل کو عرفان خان کی والدہ سعیدہ بیگم 95 برس کی عمر میں معمولی علالت کے سبب جے پور میں انتقال فرما گئی تھیں مگر کرونا وائرس کے سبب ہونے والے لاک ڈاون کے باعث عرفان خان اپنی والدہ کی تدفین میں شرکت نہ کر سکے تھے- اسی غم میں ان کی طبعیت خراب ہوئی اور والدہ کے انتقال کے چوتھے دن یعنی 29 اپریل کو عرفان خان بھی 54 سال کی عمر میں اپنے چاہنے والوں سے بچھڑ گئے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button