عزیز میمن کی موت طبعی قرار، بلاول بھٹو الزام سے بری

سندھ پولیس نے تحقیقات کے بعد صحافی عزیز میمن کی موت کو طبعی قرار دے دیا ہے۔ اس سے پہلے بلاول بھٹو کے سیاسی مخالفین کی جانب سے الزام لگایا جارہا تھا کہ اس میں ان کا ہاتھ ہوسکتا ہے کیونکہ عزیز میمن نے موت سے کچھ ماہ پہلے بلاول بھٹو کی ایک ریلی کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس میں کرائے کے ورکرز لائے گئے تھے۔
پولیس کی جانب سے صحافی کے قتل کو طبعی موت قرار دئیے جانے کے بعد سندھ حکومت نے معاملے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کافیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف اور سندھ کی تانگہ پارٹی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے تحصیل محراب پور ضلع نوشھروفیروز میں سینئر صحافی عزیز میمن کے قتل کا ملبہ پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی اور مختلف حکومتی وزراء کی طرف سے بارہا پیپلز پارٹی قیادت پر صحافی کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام عائد گئے تھے۔ تاہم اب پولیس کی طرف سے صحافی کی موت کو طبعی قرار دینے سے حکومتی جماعت تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔
واضح رہے کہ عزیز میمن آخری مرتبہ اپنے کیمرہ مین کے ساتھ گھر سے باہر گئے تھے جس کے بعد ان کی لاش ایک نہر سے برآمد ہوئی۔ مقتول صحافی کو کیمرہ مین اویس قریشی دوپہر میں گاؤں صوفائی سہتہ چھوڑ کر آیا تھا۔ عزیز میمن کے قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح صحافتی حلقوں اور سیاسی ایوانوں تک پھیل گئی تھی۔ جہاں ایک طرف صحافتی تنظیموں نے عزیز میمن کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تو وہیں دوسری طرف اس معاملے پر سیاست شروع کر دی گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اورگرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تعلق رکھنے والی سپورٹس منسٹر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بھی اس معاملے کی چھان بین کے لیے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ فواد چوہدری نے تو چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزاراحمد سے واقعے کا نوٹس لینے کی بھی اپیل کی۔
دوسری طرف ایس ایس پی جامشورو ولی اللہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں صحافی کے قتل کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا تھا کہ نجی ٹی وی کے رپورٹر عزیز میمن کی موت طبعی ہے تاہم تفتیش کے لیے کیمرہ مین حراست میں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ صحافیوں کے دباؤ پر قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے عزیز میمن کے مبینہ قتل کی تمام رپورٹس کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
دوسری جانب مقتول صحافی عزیز میمن کے بھائی حفیظ میمن نے قائمہ کمیٹی میں پیش کی گئی رپورٹ مستردکرتے ہوئے قتل کی تحقیقات جے آئی ٹی یا جوڈیشل کمیشن سے کروانے کا مطالبہ کیا۔ حفیظ میمن کا کہنا تھا کہ ایسی رپورٹ پیش کرکے شہید عزیز میمن کے قتل کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا ابھی صرف ایک حصہ آیا ہے،حتمی رپورٹ آنے سے قبل عزیز میمن کی موت طبعی کیسے قرار دیدی گئی؟ مقتول صحافی کے بھائی کے مطابق حتمی رپورٹ آنے سے قبل عزیز میمن کاقتل طبعی موت قراردینا ایک سازش ہے،عزیز میمن کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔
صحافی عزیز میمن کے موت بارے پولیس رپورٹ اورعزیز مین کے بھائی کے تحفظات کے ازالے کیلئے سندھ حکومت نے صحافی عزیز میمن کے مبینہ قتل کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلع نوشہروفیروز کے شہر محراب پور میں گذشتہ ماہ مبینہ طور پر قتل ہونے والے نجی ٹی وی کے رپورٹر عزیز میمن کی موت کی تحقیقات جے آئی ٹی سے کرائی جائیں گی۔ سندھ حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی کا نوٹیفکشن جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ عزیز میمن نے گزشتہ برس پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ٹرین مارچ سے متعلق ایک رپورٹ فائل کی تھی کہ خواتین کو فی کس دو سو روپے معاوضہ دے کر مارچ میں لایا جا رہا ہے جس کے بعد مبینہ طور پر عزیز میمن کو قتل کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ عزیز میمن نے کچھ عرصہ قبل اپنے ویڈیو پیغام میں بھی کہا تھا کہ اسے نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں لہذا پولیس اسے تحفظ فراہم کرے تاہم ایسا نہ ہوسکا اور عزیز میمن کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا۔ اب اس کی کئی مہینے پرانی اسی ویڈیو کو بنیاد بنا کر بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی پر عزیز میمن کے قتل کا ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں فہمیدہ مرزا کے کزن علی قاضی کا کے ٹی این چینل پیش پیش ہے جس کے لیے عزیز میمن بغیر تنخواہ کے کام کر رہا تھا۔ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ حکومت عزیز میمن قتل کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصا بلاول بھٹو کو پریشر میں لانا چاہتی ہے۔
