عشرت حسین نے کس وجہ سے ناراض ہو کر استعفی دیا؟


وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے اس بات پر ناراض ہو کر استعفیٰ دیا ہے کہ تین سال گزر جانے کے باوجود بیوروکریسی کو غیر سیاسی کرنے اور اسے نیب کے خوف سے آزاد کرنے کے لیے انکی تجویز کردہ اصلاحات پر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا تھا۔
ڈاکٹر عشرت حسین کی جانب سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سے یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ آیا وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے دستبردار ہوئے یا اس کی وجہ ان کی تجویز کردہ اصلاحات پر عملدرآمد نہ ہونا بنی۔ تین برس قبل تحریک انصاف نے مرکز میں حکومت بنائی تو ڈاکٹر عشرت حسین کو ادارہ جاتی اصلاحات کا کام سونپا گیا تھا۔ عشرت کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ کے طور پر نجی شعبے سے ماہر ٹیکس امور شبر زیدی اور سرمایہ کاری بورڈ کے لیے نجی شعبے سے ہارون شریف کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ شبر زیدی اور ہارون شریف نے مختصر مدت کے لیے ان عہدوں پر فرائض سرانجام دیے اور اس کے بعد اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے تھے۔ تحریک انصاف نے برسر اقتدار آنے سے پہلے اپنے انتخابی منشور میں سرکاری شعبے میں کام کرنے والے اداروں میں اصلاحات لا کر ان کی کارکردگی بہتر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم سرکاری شعبے کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق حکومت کے تین برسوں میں اس شعبے میں اصلاحات پر کام نہیں ہو سکا اور اگر تھوڑا بہت کام ہوا بھی تو اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ماہرین کے مطابق گذشتہ ادوار کے مقابلے میں سول بیورو کریسی اس حکومت کے دوران زیادہ سیاست زدہ ہو چکی ہے۔
وزیر اعظم عمرام خان کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے عشرت حسین کا پیشہ وارانہ کرئیر 50 برس سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ تاہم ان کا نام اس وقت ملکی سطح پرزیادہ نمایاں ہوا جب فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں انھیں سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر لگایا گیا تھا۔ وہ اس سے پہلے عالمی بینک میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد برسر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت میں عمران خان نے اگست میں اپنے عہدے پر حلف اٹھانے کے بعد انھیں اپنا مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات مقرر کیا جس پر انھوں نے تین سال تک کام کرنے کے بعد مایوس ہو کر استعفی دے دیا ہے۔
یاد رہے کہ اگست 2018 میں وفاقی کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت ادارہ جاتی اصلاحات سیل قائم کیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر عشرت حسین کے حوالے کی گئی۔ عشرت کے ذمے سرکاری شعبے کے کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحات تیار کرنے کا کام لگایا گیا اور اسی مقصد کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کا سیل وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں قائم کیا گیا۔ ان اصلاحات میں سول بیوروکریسی کی کارکردگی میں بہتری کا کام سر فہرست تھا تاکہ سرکاری شعبے کی کارکردگی خاص کر گورننس اور ڈیلیوری کو اپ گریڈ کیا جا سکے۔ اس کے تحت سول بیوروکریسی میں بھرتی، تربیت، کارکردگی، ترقی، تنخواہوں اور مراعات کے امور کو دیکھنا تھا تاکہ بیوروکریسی کی مجموعی کارکردگی کو بہتر کیا جا سکے۔
ان اصلاحات میں سب سے زیادہ اہم بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنا تھا جو تحریک انصاف کے مطابق گذشتہ ادوار میں بہت زیادہ سیاست زدہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سرکاری شعبے کی کارکردگی بہت زیادہ زوال پذیر ہوئی۔ ادارہ جاتی اصلاحات کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد عشرت حسین کے ماتحت چلنے والے ادارہ جاتی اصلاحات سیل نے اس پر کام شروع کیا اور اپنی اصلاحات حکومت کو پیش کر دیں۔
ان تجاویز کا مقصد سول بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنا تھا کیونکہ یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ ماضی میں سیاسی حکومت بیوروکریٹس کی ترقیوں پر اثرانداز ہو کر ترقی و تبادلے کرواتی رہی ہیں۔
سینئر صحافی انصار عباسی کا بھی اس سلسلے میں یہی کہنا ہے کہ ہماری بیوروکریسی بہت زیادہ سیاست زدہ ہو گئی ہے اور اسے غیر سیاسی بنانے کے لیے ایک سیاسی عزم کی ضرورت تھی تاکہ گورننس کو بہتر بنایا جائے۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے اسی پر کام کیا تاہم انصار کے مطابق ان کا بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنے کا کام پورا نہیں ہو سکا۔ انصار کے مطابق آج بیوروکریسی گذشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ سیاست زدہ ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق ڈاکٹر عشرت کی جانب سے پیش کی جانے والی اصلاحات کی مخالفت میں ایک تو ایلیٹ کلچر رکاوٹ بنا جو ان اصلاحات پر عمل درآمد نہیں چاہتا تو اس کے ساتھ خود بیوروکریسی نے بھی اس پر مزاحمت کی اور ساتھ ساتھ وہ افراد جو پاور کوریڈور میں اثر رکھتے ہیں اور حکام اعلیٰ کے دوست اور ان سے قربت رکھتے ہیں وہ بھی اس کام میں رکاوٹ ڈالتے رہے ہیں۔
دوسری جانب عشرت حسین نے میڈیا کو اپنے استعفیٰ کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’80 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد وہ مزید ذمہ داری انجام نہیں دینا چاہتے اور اب وہ اس ذمہ داری کو خدا حافظ کہنا چاہتے ہیں۔‘ انھوں نے اصلاحات پر اپنی کاوشوں اور اس کے نتائج کا بھی ذکر کیا۔ ان کے استعفے کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ اپنی پیش کردہ اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مستعفی ہوئے ہیں کیونکہ وہ وزیر اعظم کے ایسے مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے جس کے پاس عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

Back to top button