"عشرت میڈ ان چائنہ” ایک کچی پکی فلم کیوں قرار پائی؟

بطور ہدایتکار اداکار محب مرزا کی پہلی فلم "عشرت میڈ ان چائنہ” ریلیز ہونے کے بعد ناقدین کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے جس کی بنیادی وجہ فلم کے آدھے ادھورے کردار، سستی جگتیں مارتے اداکار، اوور ایکٹنگ کی بھر مار اور محب مرزا کی بطور عشرت مسلسل کیمرے کے سامنے رہنے کی خواہش ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ جس زبان پر عبور نہ ہو اس میں شاعری نہیں کرنی چاہیے، اسی طرح جس موضوع کا ادراک نہ ہو اس پر فلم نہیں بنانی چاہیے۔ انکے مطابق کامیڈی ایک انتہائی مشکل کام ہے اور اس پر فلم بنانا اس سے کہیں زیادہ مشکل۔اس کے باوجود پاکستانی ’عشرت میڈ ان چائنا‘ بنی، اور اس کے ساتھ وہی ہوا جو کھانا پکانے کے دوران گیس بند ہوجانے سے کھانے کے ساتھ ہوتا ہے، یعنی کچا پکا۔ اداکار محب مرزا کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں وہ سب کچھ تھا جو نہیں ہونا چاہیے۔
شوبز کی دنیا سے وابستہ صحافی حسن کاظمی نے عشرت میڈ ان چائنہ دیکھنے کے بعد اس پر تبصرہ کرتے کہا ہے کہ انہیں فلم نے بری طرح مایوس کیا۔ انکے مطابق ٹریلر دیکھ کر محسوس ہوا تھا کہ یہ ’چاندنی چوک ٹو چائنا‘ کی نقل ہوگی، جو خود ’کَنگ فو پانڈا ‘کی نقل تھی لیکن اگر یہ نقل ہوتی تو شاید بہتر ہوتی۔ پاکستان میں بولی وڈ کی ان فلموں کی نقل کرنا جو ہالی وڈ کی نقل ہوں، 90 کی دہائی میں عام تھا مثلاً ’ویئر ایگلز ڈیئر‘ کی نقل بالی وڈ میں ’تہلکہ‘ بنی اور پھر پاکستان میں ’عقابوں کا نشیمن‘۔ محب مرزا نے بحیثیت اداکار اور ہدایتکار فلم بنانے کی کوشش تو کی لیکن وہ یہ بھول گئے کہ فلم میں انکے علاوہ بھی کردار موجود ہیں۔ موصوف 75 فیصد فلم میں تو خود کیمرے کے سامنے ہیں اور دوسرے کرداروں کو دکھانے پر تیار نہیں، انہوں نے یہ فلم بطور ہدایت کار تیار کی ہے لیکن خدا جانے جب وہ 75 فیصد فلم میں خود کیمرے کے سامنے موجود تھے تو ایسے میں کیمرے کے پیچھے سے ہدایات کون دیتا رہا؟
فلم میں ہیرو کا کردار محب مرزا نے بطور عشرت نبھایا ہے جبکہ اداکارہ صنم سعید نے بطور اختر ہیروئن کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم دیکھنے والوں کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہیرو کا نام زنانہ یعنی عشرت اور ہیروئن کا نام مردانہ یعنی اختر کیوں رکھا گیا۔ اسکے علاوہ فلم عشرت کا کردار اور اس کا پس منظر بتانے میں اتنا ذیادہ وقت ضائع کرتی ہے کہ دیگر کرداروں کے لیے وقت بچتا ہی نہیں۔
بقول حسن کاظمی، کالج میں پڑھنے والا عشرت گدھا گاڑی ریس کا چیمپیئن ہے اور اس وجہ سے اسے چین جاکر گدھا گاڑی ریس میں شرکت کے لیے کہا جاتا ہے جس کے جیتنے پر 10 لاکھ یوان یعنی ڈھائی کروڑ پالستانی روپے ملنے تھے۔ فلم میں کاسٹنگ کے بھی شدید مسائل تھے۔ جب ھقیقی زندگی میں طلاق یافتہ محب مرزا اور صنم سعید کی عمر کے اداکار کالج میں زیر تعلیم لڑکے لڑکی کا کردار ادا کریں گے تو دیکھنے والوں کا کیا حال ہوگا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چین میں سب کدرار اردو بول رہے ہیں، اگر اداکاری کی بات کریں تو محب مرزا، جن پر سے پوری فلم میں کیمرا مشکل سے ہی ہٹا تھا، دیکھنے والوں کو متاثر کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ ان کا بار بار ’چوتھی دیوار توڑنا‘ مزاحیہ نہیں بلکہ  کچھ دیر کے بعد المیہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
فلم دیکھنے والوں نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ ہیرو چاہے صبح سو کر اٹھا ہو یا جنگل میں بے ہوش پوری رات گزار کر جاگا ہو، موصوف نے دبا کر شیو کی ہوئی ہے اور بال ذرا بھی نہیں بکھرے۔ فلم کا ہیرو کالج میں پڑھنے والا لڑکا ہے جس پر درجنوں لڑکیاں مرتی ہیں اور اس کا کمال ہے، گدھا گاڑی کی دوڑ۔ لیکن اگر اس بات کو ہضم کر بھی لیا جائے تو بھی فلم ہضم نہیں ہوتی۔ کہانی کے مطابق عشرت کا پراڈو نامی گدھا تب مر جاتا یے جب وہ چین جاکر گدھا گاڑی ریس سے 10 لاکھ یوان جیتنا چاہتا ہے۔ پھر صنم سعید کے کردار اختر میں کرنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں، ایک گانا تھا جس میں ان سے ڈھنگ سے رقص تک نہیں ہو پایا۔ ظاہر ہے ان کا سارا کیریئر ٹی وی ڈراموں کا ہے، فلم کا تو نہیں۔
اسی طرح فلم میں اداکارہ سارہ لورین کے پاس بھی ایک گانے اور چند مناظر کے علاوہ کرنے کو کچھ نہیں، مگر سارہ سے کسی کو اداکاری کی توقع ہوتی بھی نہیں ہے۔ انہوں نے چند مناظر میں خوبصورت نظر آنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن جو لوگ ان کا اصل چہرا دیکھ چکے ہیں انہیں ماموں بنانا مشکل ہے۔ البتہ اداکار شمعون عباسی نے اس فلم میں اچھا کردار ادا کیا ہے۔ وہ لمبے عرصے کے بعد سکرین پر مثبت کردار میں تھے، لیکن ان کے کردار کا تائثر بھی پنجابی میں بولا گیا ایک فقرہ ختم کردیتا ہے۔
حسن شہریار یاسین نے بطور ولن نہ تو کچھ کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی ان سے کچھ ہو سکا۔ ولن کو فلم میں کافی مار پڑی مگر مجال ہے کہ اسکا چہرہ رتی بھر بھی بگڑا ہو۔ فلم میں مانی، علی کاظمی اور مصطفٰی چوہدری بھی موجود تھے۔ یہ تینوں پاکستان میں بھی تھے اور ان کے ہمشکل چین میں بھی موجود تھے۔ اب یہ لوگ فلم میں کیوں تھے، یہ کسی کو نہیں معلوم۔ چند سینز کے علاوہ فلم میں ان کا کوئی کام نہیں تھا۔ لگتا ہے کہ ان کا کام ایڈیٹنگ میں کاٹا گیا ورنہ اتنے کم سینز کے لیے یہ لوگ فلم سائن ہی نہیں کرتے۔بقول حسن کاظمی، فلم کا کلائمکس بھی ایک نرالے انداز میں تھا۔ اگر آپ نے ’بین حر‘ دیکھی ہے تو گھوڑوں کو گدھوں سے بدل دیں اور سیٹ کی تمام چیزیں لالو کھیت سے خرید لیں۔

Back to top button