علامہ اقبال نے انتخابات میں برادری ازم کا مقابلہ کیسے کیا؟

پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال نے سیاسی میدان میں اپنی شخصیت کو خوب منوایا، عوام کا اعتماد جیتنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے، پنجاب کی سیاسی حرکیات میں برادری اور دھڑے سے وابستگی دیہی اور شہری دونوں حلقوں میں ہار اور جیت کا اہم عنصر مانا جاتا ہے۔لاہور کی سیاسی روایات، انتخابی رویے اور مقابلے بازی کا رنگ ڈھنگ الیکشن کی تاریخ میں علیحدہ شناخت رکھتا ہے، آج سے 97 برس قبل علامہ اقبال اسی لاہور کی انتخابی سیاست کے اکھاڑے میں اُترے۔ان کی انتخابی مہم میں وہ تمام روایتی سیاسی کشمکش اور حریفانہ داؤ پیج شامل تھے جو آج کی سیاست کا خاصہ ہیں۔ شاعر، فلسفی اور مصلح کے طور پر ہندوستان بھر میں شہرت رکھنے والے اقبال نے 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کی ممبرشپ کے چناؤ میں بطور اُمیدوار حصہ لیا۔ان کی قد آور شخصیت کا مقابلہ کرنے کیلئے مخالفین نے انتخابات کو لاہور کی دو برادریوں کا مقابلہ بنانے کی کوشش کی، علامہ اقبال لاہور شہر اور چھاؤنی کے مسلم انتخابی حلقے سے امیدوار تھے۔ لاہور کے نمایاں مسلم رہنما انہیں بلا مقابلہ منتخب کروانا چاہتے تھے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے مد مقابل تین امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے۔ ان میں بلدیہ لاہور کے صدر اور سیاسی اور سماجی رسوخ رکھنے والے ملک محمد حسین ،بیرسٹر عبدالعزیز اور ایک اور قانون دان بیرسٹر ملک محمد دین شامل تھے۔’’اقبال ان پولیٹکس‘‘ کے مصنف حفیظ ملک کے مطابق اقبال کی الیکشن مُہم نے اُس وقت زور پکڑا جب بیرسٹرعبدالعزیز نے اپنے کاغذات واپس لے کر ان کی حمایت کا اعلان کر دیا، اقبال کے ایک اور حریف ملک امحمد دین بار ایٹ لا نے جب دیکھا کہ لوگوں کی ہمدردیاں اور قبولیت اقبال کے لیے بڑھتی جا رہی ہے انہوں نے ’’کشمیری‘‘ اور ’’آرائیں‘‘ کا سوال اٹھانا شروع کر دیا۔لاہور کی سماجی، سیاسی اور کاروباری زندگی میں دونوں برادریوں کے نمایاں افراد سرگرم کردار ادا کرتے رہے تھے۔لاہور میں آرائیں برادری کے مشہور رہنما اور پنجاب مسلم لیگ کے صدر میاں محمد شفیع تھے۔ انہوں نے اپنی برادری کو سماجی طور پر منظم اور مقبول بنانے کی کاوشیں کی۔ موھنی روڈ پر ’آرائیں ہاؤس‘ قائم کیا اور ’الراعی‘ کے نام سے برادری کے لیے ایک رسالہ بھی شائع کیا۔ ان کے کزن جسٹس شاہ دین لاہور ہائی کورٹ کے پہلے مسلم جج تھے۔ ان کی بیٹی جہاں اراء شاہنواز پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی خاتون ممبر تھیں۔اقبال کے حامیوں اور مخالفین میں سیاسی برتری کے لیے وہ تمام طریقے اور حربے استعمال کیے گئے جو آج بھی سیاسی جنگ جیتنے کے لیے ضروری خیال کیے جاتے ہیں۔علامہ اقبال کے خلاف 14 اشتہارات شائع کیے گئے۔مسجد وزیر خان کے امام مولوی دیدار علی شاہ اقبال کی نظم شکوہ اور جواب شکوہ کی وجہ سے ان سے نالاں تھے۔ وہ بھی موقع غنیمت جان کر اقبال کی مخالفت میں صف آرا ہو گئے۔فرزند اقبال جسٹس جاوید اقبال کی تصنیف ’زندہ رود‘ کے مطابق مولوی دیدار علی شاہ مسجد وزیر خان کے عقب میں جبکہ ملک محمد دین چوہٹہ مفتی باقر میں رہائش پذیر تھے۔ ان دونوں جگہوں پر علامہ اقبال کے جلسوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔23 اور 24 نومبر 1926 کو لاہور کے مختلف مقامات پر ووٹ ڈالے گئے۔ اس انتخابی مہم میں شریک ایک سیاسی کارکن اشرف عطا اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ اقبال کے لیے لاہور کی سڑکوں پر یہ نعرہ گونج رہا تھا ’پتلون پوش ولی کو یاد رکھنا۔پولنگ کے دس دنوں بعد نتائج کا اعلان ہوا۔ کل 12 ہزار لوگوں میں سے اٹھ ہزار 400 افراد نے ووٹ پول کیا ۔علامہ اقبال نے 5675 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف کو 2698 ووٹ ملے۔علامہ اقبال کی جشن فتح کا جلوس پرانی انار کلی سے بھاٹی گیٹ تک نکالا گیا۔ اس کے اگے بھنگڑا ڈالنے والوں میں میاں صلاح الدین (علامہ اقبال کے داماد ) اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے والد ایم ڈی تاثیر بھی شامل تھے۔علامہ اقبال تین سال تک کونسل کے ممبر رہے، یہ کسی سیاسی اور انتخابی ادارے کی پہلی اور آخری رکنیت تھی، ان کے داماد میاں صلاح الدین صلو تین بار قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے، ضیاء الحق کے دور میں وہ صوبائی وزیر بھی بنے۔فرزند اقبال جاوید اقبال نے 1970 کے الیکشن میں لاہور کے حلقے سے ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں شکست کھائی، ان کے بیٹے ولید اقبال پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینٹ اف پاکستان کے ممبر ہیں، تین بار وزیراعظم پاکستان بننے والے مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کسی دور میں اسی کشمیری انجمن کے صدر رہ چکے ہیں جس کے سیکریٹری کسی دور میں علامہ اقبال ہوا کرتے تھے۔

Back to top button