علی امین گنڈاپورکا قریبی دوست اسلحہ اسمگلر نکلا


اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کے دوست اسد فاروق خان نامی جس شخص کو اسکی گنڈاپور سے ٹیلیفونک گفتگو کی بنیاد پر لانگ مارچ کے دوران خونریزی کا منصوبہ بنانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے اس کے بارے میں ہوش ربا انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ اسد فاروق خان ایک جرائم پیشہ شخص اور اسلحہ کا ڈیلر بتایا جاتا ہے جس نے ایک گینگ بنا رکھا ہے جو علی امین گنڈاپور کو غیر قانونی معاملات میں سہولت بھی فراہم کر تا رہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں علی امین گنڈاپور کی ایک ٹیلی فونک گفتگو لیک ہوئی تھی جس میں وہ اپنے دوست اسد فاروق خان سے اسلحہ کی سپلائی بارے بات چیت کر رہے تھے۔ وزارت داخلہ نے اس گفتگو سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت نے لانگ مارچ میں کشت وخون کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ چنانچہ اسد فاروق کو ٹریس کرکے گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے پہلے وزارت داخلہ کو موصول ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹس میں بھی یہ انتباہ کیا گیا تھا کہ لانگ مارچ میں فساد کی ذمہ داری علی امین گنڈا پور، قاسم سوری اور شہر یار آفریدی کے ذمے لگائی گئی تھی خصوصا ًجب لانگ مارچ نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اسد فاروق نامی شخص نے تفتیش کے دوران تسلیم کر لیا ہے کہ وہ علی امین سے ہی اسلحہ اور لوگ اسلام آباد پہنچانے کی بات کر رہا تھا۔ اس سے پہلے گنڈاپور بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ فون پر اسد فاروق سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رانا ثناءاللہ خان نے ہمارے خلاف اسلحہ استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تو ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔

معلوم ہوا ہے کہ اسد فاروق خان ٹیکسلا تحصیل پنڈی کا رہائشی ہے اور اسلام آباد میں ممتاز سٹی کے پاس رہائش پذیر ہے جہاں اس نے ایک بڑا گودام بنا رکھا ہے جس میں ہر قسم کا اسلحہ ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ یاد رہے کہ ممتاز سٹی وہ واحد ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جو موٹر وے پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علی امین اسلحہ بردار لوگوں کو یہیں سے ساتھ لے کر روانہ ہونے کا منصوبہ بنائے ہوئےتھا۔ اسد فاروق کا ٹیلی فون قبضے میں لے کر اس سے کال ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے جس سے ان افراد تک پہنچنا بھی ممکن ہوگا، جو اس کے ساتھ اس سازش میں شریک تھے۔ غیر مصدقہ طور پر سازش میں شریک لوگوں کی تعداد درجنوں بتائی جارہی ہے۔ یادر ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں علی امین گنڈا پور اس سے قبل شراب کی بوتلوں سمیت پکڑا گئے تھے لیکن انہیں شہد کی بوتلیں قرار دے کر چھوڑ دیا گیا تھا۔

Back to top button