علی امین گنڈاپور ایک بپھرا ہوا سانڈ کیوں قرار پایا؟

وزیراعظم عمران خان کو شکار کیے ہوئے جانوروں کا گوشت سپلائی کر کے ان کی قربت حاصل کرنے والے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور کو آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی الیکشن مہم کا انچارج بنانا ایک انتہائی غلط فیصلہ ثابت ہوا ہے کیونکہ ان کی بپھرے ہوئے سانڈ جیسی حرکات نے عوام میں پارٹی کا تاثر بہتر کرنے کی بجائے اسے مزید خراب کیا ہے اور نقصان پہنچایا ہے۔ آزاد کشمیر میں الیکشن مہم کا حصہ بننے کے بعد سے علی گنڈاپور کہیں تو جلسوں میں ماں بہن کی گالیاں بکتے سنائی دیتے تھے اور کہیں فائرنگ کرتے دکھائی دیتے تھے، چنانچہ الیکشن کمیشن نے انہیں کشمیر کی حدود سے نکل جانے کے احکامات دیتے ہوئے ان کے جلوسوں میں شرکت اور تقاریر پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز بھی اس وقت آزاد کشمیر میں انتخابات سے قبل انتخابی جلسوں کا انعقاد کر رہی ہیں۔ بلاول بھٹو کے امریکا چلے جانے کے باعث ان کی جگہ آصفحہ بھٹو انتخابی مہم سنبھال چکی ہیں جب کے وزیراعظم عمران خان بھی اگلے چند روز میں کشمیر میں انتخابی جلسے کرنے والے ہیں۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر کو آزاد کشمیر سے بے دخل کرنے کا کا حکم تحریک انصاف کی الیکشن مہم پر منفی انداز میں اثر انداز ہوگا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تمام تر صورتحال کی ذمہ دار وزیراعظم عمران خان ہیں جنہوں نے گنڈاپور جیسے ایک غیر ذمہ دار اور بد زبان کردار کو آزاد کشمیر جیسی حساس وزارت کا سربراہ بنا رکھا ہے۔ یاد رہے کہ علی امین گنڈا پور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عمران کے دل تک انکے معدے کے راستے پہنچے جسکی بڑی وجہ انکا اپنے کپتان کو مستقل بنیادوں پر تیتر، بٹیر، دیسی مرغی اور ہرن کے گوشت کے علاوہ دیسی گھی اور جنگلی شہد فراہم کرنا ہے۔
تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ الیکشن کمیشن نے امور کشمیر کے وفاقی وزیر کو ہی آزاد کشمیر سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے جس کی بنیادی وجہ ان کی اوچھی حرکات ہیں۔ الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری کو بھجوائے گئے مراسلے میں کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور ازاد کشمیر میں انتخابی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دانستہ طور پر کشمیر کی فضا کو خراب کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان کی انتخابی مہم اور جلسے جلوسوں میں شرکت اور تقاریر کرنے پر فوری طور پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کے منفی افعال کی وجہ سے نہ صرف امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیائع کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کے خلاف بھی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز پہلے ایک انتخابی جلسے میں مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف کے بارے میں بد زبانی کرنے کے بعد سے نواز لیگ کے کارکنان کافی غصے میں تھے اور ایک جلسے کے دوران علی امین گنڈا پور کو دس نمبرکا جوتا بھی رسید کر دیا گیا تھا۔ جوتا مارنے والے نوجوان کو پولیس نے گرفتار تو کرلیا لیکن اگلے روز اس کی ضمانت پر رہائی کے بعد جیل سے نکالا گیا استقبالی جلوس بھی دیکھنے کے قابل تھا جس میں گنڈا پور کے خلاف نعرے لگ رہے تھے۔ اسی دوران چند روز پہلے علی امین کے قافلے کو ایک شخص کی جانب سے کھن بندو کے مقام پر روکنے کی کوشش گی تو علی امین گنڈا پور نے گاڑی سے نکل کر شدید ہوائی فائرنگ کی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور لوگ ان کی مذمت کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ تب ہوا جب علی امین گنڈاپور کی گاڑی کے آگے اور پیچھے پولیس کی تین تین گاڑیاں چل رہی تھی لیکن انہوں نے اپنا غنڈاگردی کا شوق پورا کرنے کے لئے بذات خود گاڑی سے باہر سڑک پر آ کر فائرنگ کی۔
چانچہ آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے گنڈاپور کی بیدخلی کے حوالے سے جاری کیے گئے مراسلے میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ گنڈا پور بدمعاشی کرنے کے علاوہ اپنے جلسوں میں تقاریر کے دوران نہ صرف بدزبانی کرتے ہیں بلکہ حکومت پاکستان کے سرکاری وسائل استعمال کرنے کا تاثر بھی دیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے لکھا ہے کہ علی امین نے الیکشن مہم کے دوران اربوں روپے کے ترقیاتی پیکج جاری کرنے کے اعلانات کیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے دھیر کوٹ اور ہٹیاں بالاں میں بھی پی ٹی آئی امیدواران کی صوابدید پر ایک ایک سو کلومیٹر سڑک کے منصوبے کا اعلان بھی کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔
امین گنڈا پور کی الیکشن کے لیے مہم کے دوران ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک جگہ پر لوگوں میں پیسے تقسیم کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر علی امین گنڈا پور کی جانب سے اپنی تقاریر میں مریم نواز کے خلاف فضول گفتگو اور سر عام ہوائی فائرنگ کرنے کے عمل پر گنڈا پور کو آزاد کشمیر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں بپھرے ہوئے سانڈ کا خطاب دے دیا گیا ہے۔

Back to top button