علی زیدی اور چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ آمنے سامنے آ گئے

وفاقی وزیر بحری امورعلی زیدی کی کرپشن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ایڈمرل ریٹائرڈجمیل اختر کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر بحالی کے بعد وفاقی وزیرعلی زیدی مشکل میں پھنستے نظر آتے ہیں۔
یاد رہے کہ علی زیدی نے مبینہ طور پر اپنی کرپشن کی راہ میں رکاوٹ بننے پر چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کو ان کے عہدے سے ہٹوا دیا تھا۔ تا ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اپنے عہدے پر بحال ہوتے ہی چئیرمین کے پی ٹی نے وفاقی وزیر کی کرپشن کے تمام ثبوت منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد مختلف تحقیقاتی اداروں نے علی زیدی کے خلاف شواہد آکٹھے کرنے شروع کر دئیے ہیں۔
لہذا علی زیدی اور چئیرمین کے پی ٹی کے مابین اب اختلافات سنگین ہوگئے ہیں۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کرپشن کے شواہد آکٹھے کرنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی نے گہرے پانی سے نکلنے اور اپنی وزارت بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دئیے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ علی زیدی نے اپنے قریبی دوستوں کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کیلئے مشاورت کی ہے اور دوستوں نے وفاقی وزیر کو جمیل اختر سے صلح کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جمیل اختر کسی صورت اصولوں پر سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے علی زیدی کی ایما پر انھیں غیر آئینی طریقے سے برطرف کیا گیا جس سے ان کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا یے کہ انھوں نے پوری زندگی ایمانداری سے گزاری لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے اس بے دردی سے ان کی برطرفی سے انھیں شدید ذہنی دھچکا لگا اور وہ وفاقی وزیر سے کسی صورت صلح نہیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اس بات کا بھی امکان ہے کہ وفاقی حکومت وفاقی وزیر بحری امور کی وزارت کو تبدیل کردے۔ یاد رہے کہ 25مارچ کو وفاقی حکومت نے وفاقی وزیر علی زیدی کی سفارش اور الزامات پرچیئرمین کے پی ٹی جمیل اختر کو برطرف کردیا تھا اور ان کے عہدے کا اضافی چارج ڈی جی پورٹ اینڈ شپنگ شکیل مینگیجو کو سونپ دیا تھا۔ بعد ازاں 27 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے برطرف چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ایڈمرل (ر) جمیل اختر کو ان کے عہدے پر بحال کردیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈمرل (ر) جمیل اختر کی برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی تھی، جمیل اختر کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی حکومت نے چئیرمین کراچی پورٹ کو عہدے سے غیر قانونی طریقے سے ہٹایا، انہیں عہدے سے ہٹانے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کا 25 مارچ کا نوٹیفکیشن تاحکم ثانی معطل کرتے ہوئے چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کے عہدے پر بحال کردیا تھا، عدالت نے سیکریٹری کابینہ ڈویژن، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری، صدر پاکستان کے پرنسپل سیکریٹری، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، وزارت میرین ٹائم افئیرز اور سیکریٹری میرین افئیز سمیت تمام فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 31 مارچ تک ملتوی کردی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے بحالی کے بعد چیئرمین کے پی ٹی جمیل اختر نے وفاقی وزیر کے خلاف محاذ سنبھال لیا ہے اور ان کی مبینہ کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی سیکریٹری پورٹ اینڈ شپنگ رضوان احمد بھی اب علی زیدی کی ٹیم میں شامل ہو چکے ہیں جس کے بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ کے انتظامی معاملات مزید خراب ہوتے نظر آتے ہیں۔تینوں اہم شخصیات کے درمیان تنازعہ کے نتیجے میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔
