علی زیدی چئیرمین کے پی ٹی کو ہٹانے میں دوبارہ ناکام

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کی چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ایڈمرل ریٹائرڈ جمیل اختر کو ہٹانے کی ایک اور کوشش اسوقت ناکام ہو گئی جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمیل اختر کی بحالی کا حکم واپس لینے کی وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کردی۔ وفاقی حکومت کی درخواست مسترد ہونے سے مبینہ طور پر اپنی کرپشن چھپانے کیلئے چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ایڈمرل ریٹائرڈ جمیل اختر کے خلاف برسر پیکار وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کو ایک بار پھر ہزیمت اور خفگی کا سامنا کرنا پڑا۔
3 اپریل کو وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں حکومت کا موقف سنے بغیر چئیرمین کراچی۔پورٹ ٹرسٹ کی برطرفی پر حکم امتناع دیا جسے واپس لیا جانا چاہیے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان سے جواب جمع کروانے کا کہا جس پر طارق محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ عدالت نے 27 مارچ کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا اور 15 روز میں جواب جمع کروانے کا کہا تھا چنانچہ حکم امتناع آئندہ سماعت تک کے لیے واپس لیا جاسکتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے حیرانی کا اظہار کیا کہ حکومت کے پی ٹی چیئرمین کو برطرف کرنے کی خواہاں تھی اور انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیے بغیر ان کی خدمات کیسےمعطل کردیں؟
جمیل اختر کے وکیل راجا رسول حسن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے موکل کو 2017 میں 3 سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا اور وزارت بحری امور نے کابینہ ڈویژن کو آگاہ کیے بغیر یک طرفہ طور پر ان کا کانٹریکٹ ختم کردیا۔ بعد ازاں عدالت نے حکم وفاقی حکومت کی حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 9 اپریل کو کیس کی دوبارہ سماعت کا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ جمیل اختر کو گزشتہ دورِ حکومت میں 23 نومبر 2017 کو 3 سال کے لیے کے پی ٹی کا چیئرمین مقرر کیا تھا تاہم وفاقی حکومت نے علی زیدی کے کہنے پر انہیں انکے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔ اس سلسلے میں 25 مارچ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے انہیں ’کے پی ٹی ایکٹ 1886 کے تحت ان کی تعیناتی کی ابتدائی مدت میں کمی کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے جس کا اطلاق فوری ہوگا‘۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری کردہ ایک اور نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’وفاقی حکومت وزارت بحری امور کے ماتحت ڈائریکٹر جنرل پورٹس اینڈ شپنگ، شکیل منگنیجو کو 3 ماہ کے لیے چیئرمین کے پی ٹی کا اضافی چارج دے رہی ہے‘۔
تاہم اس کے بعد ایک اور نوٹفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں وزارت بحری امور نے کہا تھا کہہ جمیل اختر کو ان کے عہدے سے ’کے پی ٹی میں بے ضابطگیوں‘ کی وجہ سے ہٹایا گیا۔ تاہم چئیرمین کے پی ٹی کا موقف ہے کہ علی زیدی دراصل خود بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں اور جب انہوں نے ان کی کرپشن پر سوالات اٹھائے تو نے برطرف کردیا گیا۔
وفاقی وزیر بحری امورعلی زیدی کی کرپشن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ایڈمرل ریٹائرڈجمیل اختر کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر بحالی اور حکم امتناعی کی استدعا مسترد ہونے کے بعد وفاقی وزیرعلی زیدی مشکل میں پھنستے نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ علی زیدی نے مبینہ طور پر اپنی کرپشن کی راہ میں رکاوٹ بننے پر چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کو ان کے عہدے سے ہٹوا دیا تھا۔ تا ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اپنے عہدے پر بحال ہوتے ہی چئیرمین کے پی ٹی نے وفاقی وزیر کی کرپشن کے تمام ثبوت منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد مختلف تحقیقاتی اداروں علی زیدی کے خلاف شواہد جمع کر رہے ہیں۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کرپشن کے شواہد آکٹھے کرنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی نے گہرے پانی سے نکلنے اور اپنی وزارت بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دئیے ہیں۔اسی بابت وفاقی وزیر کی سفارش پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں حکم امتناعی خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی لیکن وہاں پر بھی انھیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق اب اس بات کے امکانات زیادہ روشن ہیں کہ وفاقی حکومت مزید شرمندگی کا سامنا کرنے کی بجائے اختلافات کو ختم کرنے کیلئے وفاقی وزیر بحری امور کی وزارت کو تبدیل کردے گی۔
