علی زیدی کو بالآخر منہ کی کھانا پڑی

وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کو بالآخر کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چئیرمین ایڈمرل ریٹائرڈ جمیل اختر کو برخاست کرنے کے معاملے پر منہ کی کھانا پڑ گئی اور وفاقی حکومت نے عدالت کو نومبر 2020 تک مدت ملازمت کی تکمیل تک چئیرمین کے پی ٹی کو نہ ہٹانے کی یقین دہانی کرا دی۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے کراچی پورٹ ٹرسٹ یعنی کے پی ٹی کے چیئرمین کی برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس ہدایت کے ساتھ علی زیدی کیخلاف کیس خارج کردیا کہ وفاقی حکومت کے پی ٹی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
یاد رہے کہ چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کو غیر قانونی طور پر ہٹائے جانے سے شروع ہونے والا معاملہ وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کے گلے کی ہڈی بن چکا تھا۔ اس معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے نہ صرف وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا بلکہ وفاقی وزیر بحری امور کیخلاف نیب کی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ریمارکس دئیے تھے کہ علی حیدر زیدی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے معاملات میں اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نیب کے بیشتر ریفرنسز اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام پر قائم ہوتے ہیں۔ عدالت کی طرف سے اس حوالے سے حکم امتناعی واپس لینے کی درخواست بھی مسترد کی گئی تھی۔
علی زیدی نے مبینہ طور پر اپنی کرپشن چھپانے کیلئے چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ایڈمرل ریٹائرڈ جمیل اختر کو پچھلے ماہ ان کے عہدے کی معیاد پوری ہونے سے پہلے ہی برطرف کردیا تھا۔ ایڈمرل جمیل نے اپنی برطرفی کا فیصلہ چیلنج کیا تو عدالت نے بحال کردیا۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ 3 اپریل کو چئیرمین کے پی ٹی کو ہٹانے کی درخواست مسترد ہونے کے بعد 10 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ نےریمارکس دئیے تھے کہ وفاقی وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے لیے آڈٹ فرم کے تقرر میں اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈمرل ریٹائرڈ جمیل اختر کی جانب سے اپنی برطرفی کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ علی زیدی کے پی ٹی کے معاملات میں کیوں مداخلت کررہے ہیں؟
16اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید سماعت میں پیش ہوئے اور کہا کہ وہ حکومت کو برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کی تجویز دے رہے ہیں اور وہ حکومت کو کے پی ٹی ایکٹ کی دفعات کے ساتھ ساتھ آئین کی دفعہ 10 اے میں دیے گئے باقاعدہ طریقہ کار اور عمل میں شفافیت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کا مشورہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس پر کے پی ٹی چیئرمین کے وکلا اشتر اوصاف، راجا ظہور الحسن اور آغا محمد علی نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے قانون کی منصفانہ اور حقیقی تشریح کے پیشِ نظر ان کے موکل کی شکایات کا ازالہ ہوگیا۔ جس پر عدالت نے حکم سنایا کہ چئیرمین کے پی ٹی کی معطلی کا نوٹیفکیشن اس وقت تک معطل رہے گا جب تک اٹارنی جنرل حکومت کو تجویز نہ دے دیں اور حکومت اس کے مطابق کوئی فیصلہ نہ کرلے‘۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’اگر وفاقی حکومت اٹارنی جنرل کی تجویز پر عمل نہیں کرتی تو درخواست گزار جمیل اختر کے پاس پٹیشن کی بحالی کے لیے درخواست دائر کرنے کا اختیار ہے‘۔عدالت نے وفاقی حکومت کو اس بات کی بھی اجازت دی کہ اگر جمیل اختر کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو قانون کے خلاف کارروائی کی جائے۔
خیال رہے کہ جمیل اختر کو مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں 23 نومبر 2017 کو 3 سال کے لیے کے پی ٹی کا چیئرمین مقرر کیا تھا تاہم وفاقی حکومت نے علی زیدی کے کہنے پر انہیں انکے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔ اس سلسلے میں 25 مارچ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے انہیں ’کے پی ٹی ایکٹ 1886 کے تحت ان کی تعیناتی کی ابتدائی مدت میں کمی کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے جس کا اطلاق فوری ہوگا‘۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری کردہ ایک اور نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’وفاقی حکومت وزارت بحری امور کے ماتحت ڈائریکٹر جنرل پورٹس اینڈ شپنگ، شکیل منگنیجو کو 3 ماہ کے لیے چیئرمین کے پی ٹی کا اضافی چارج دے رہی ہے‘۔ تاہم اس کے بعد ایک اور نوٹفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں وزارت بحری امور نے کہا تھا کہہ جمیل اختر کو ان کے عہدے سے ’کے پی ٹی میں بے ضابطگیوں‘ کی وجہ سے ہٹایا گیا۔ تاہم چئیرمین کے پی ٹی کا موقف ہے کہ علی زیدی دراصل خود بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں اور جب انہوں نے ان کی کرپشن پر سوالات اٹھائے تو انہیں بر طرف کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button