علی سدپارہ اور ساتھیوں کو کس قسم کا حادثہ پیش آیا؟

دنیا بھر میں کوہ پیمائی سے وابستہ افراد جاننا چاہتے ہیں کہ کے ٹو پر لاپتہ تین کوہ پیماؤں کے ساتھ ممکنہ طور پر کیا حادثہ پیش آیا ہو گا؟ دنیا میں کسی بھی جگہ کے سفر پر نکلنے سے پہلے آپ خود کو پیش آنے والی کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں اپنے بچاؤ کا بندوبست کر کے ہی نکلتے ہیں۔ اور خدانخواستہ آپ کو کوئی حادثہ پیش آ جانے کی صورت میں آپ کے عزیز و اقارب یا دوست رشتہ دار دوڑے دوڑے آپ کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو پیش آنے والے اس حادثے کا مقام ’موت کی وادی‘ قرار دیے جانے والے پہاڑوں پر 8000 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع ہو تو سوچیے کیا ہو گا؟
دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کا رابطہ 5 فروری کے روز سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے منقطع ہوا اور اب تک ان کا سراغ لگانے کی تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کوہ پیماؤں کے ساتھ ممکنہ طور پر کیا حادثہ پیش آیا ہو گا؟ بی بی سی نے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔
مہم جو عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گذشتہ 10 برس سے اس حوالے سے تحقیق کرتے آ رہے ہیں۔ عمران کہتے ہیں کہ اس طرح کے معاملے میں ریسکیو مشن ایک لحاظ سے ’کاسمیٹک‘ یا یہ کہہ لیں کہ انسان سے جتنا ہو سکے وہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ ساجد سد پارہ کے مطابق جب انھیں ڈیتھ زون میں ہیلیوسنیشن شروع ہوئی اور آکسیجن ماسک کا ریگولیٹر خراب ہو جانے کے باعث انھیں واپس لوٹا پڑا، اس وقت دن کے 10 بجے کا وقت تھا اور علی سدپارہ کی ٹیم 8200 میٹر پر یعنی ڈیتھ زون کے سب سے مشکل سیکشن کے انتہائی خطرناک حصے پر موجود تھی۔ عمران کہتے ہیں کہ بوٹل نیک سے گزرنے کے بعد ٹریورس آتا ہے اور کوہ پیما کو اس کی آئس وال کے ساتھ چپک کر فکسڈ لائن پر چلنا ہوتا ہے اور ان کے اندازوں کے مطابق اس جگہ پر علی سدپارہ کی ٹیم کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں:
پہلی وجہ تھکاوٹ یا آکسیجن کی کمی کے باعث جسم پر ہونے والے منفی اثرات ہو سکتی ہے جسکے باعث اگر پاؤں پِھسلے اور آپ فکسڈ لائن یا رسی کو اپنے وزن کی فرکشن کی وجہ سے اُکھاڑنے کا سبب بن جائیں۔ عمران کہتے ہیں کہ جو کوہ پیما تھکاوٹ کا شکار ہو جائیں وہ واپس لوٹ آتے ہیں اور یہ اتنے سخت جان اور تجربہ کار کوہ پیما تھے اور جیسے ان کا بیٹا ساجد بتا رہا ہے کہ وہ بہت اچھی اور فٹ حالت میں اوپر سمٹ کی جانب رواں دواں تھے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ ممکنہ طور پر وہ تھکاوٹ کا شکار تو نہیں تھے۔ لہذا عمران اپنے تجربے اور شواہد کی بنیاد پر اس کیس میں تھکاوٹ کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔
حادثے کی دوسری ممکنہ وجہ اچانک رسی کا ٹوٹ جانا ہو سکتی ہے۔ اس بارے میں عمران کہتے ہیں کہ ہر سمٹ پر نئی رسی لگائی جاتی ہے۔ 16 جنوری کو جب نیپالی شرپاؤں کے گروپ نے کے ٹو سر کرنے کے لیے سمٹ کیا تو اس وقت نئی رسی لگائی گئی تھی جسے لگے 15 دن سے زیادہ گزر چکے تھے اور اس پر برف بھی پڑی ہو گی۔ لہٰذا پرانی اور نئی رسی میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ عمران کہتے ہیں کہ اگر تو آپ نے نیپالی شرپاؤں کی لگائی رسی کے بجائے کسی دو سال پرانی کمزور رسی کو ہاتھ لگا لیا تو اس صورت میں اگر آپ گریں یا سلپ ہوں تو فرکشن آپ کے وزن سے 10 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی اگر میرا 80 کلو وزن ہے تو تقریباً 800 کلو کی فرکشن آئے گی اور جب آپ گریں گے تو جو جھٹکا لگے گا وہ 800 کلو کا ہو گا کیونکہ کششِ ثقل آپ کو کھینچ رہی ہوتی ہے۔ اس صورت میں آپ پینڈولم کی طرح لٹک جائیں گے اور چونکہ فکسڈ لائن پر ایک سے زیادہ کوہ پیما ہوتے ہیں اس لیے وزن کی وجہ سے سب نیچے گِر جائیں گے۔
عمران کے مطابق برف پر گرنے کی صورت میں چونکہ برف نرم ہوتی ہے اور آپ سلائیڈ ہوتے جاتے ہیں۔ اس صورت میں آپ آئیس ایکس کا استعمال کرتے ہوئے الٹے ہو کر آئیس ایکس کو برف میں مارتے ہیں جس سے کسی سٹیج پر جا کر آپ کا پھسلنے کا عمل رک جاتا ہے اور آپ خود کو بچا سکتے ہیں۔ لیکن دوسری صورت میں آپ اس حصے میں گریں گے جو پتھریلا چٹانوں والا حصہ ہے جسے تکنیکی زبان میں ابیس Abyss کہتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی کوہ پیما ابِیس میں گِرتا ہے تو اس کی ہڈیاں ٹُوٹنے اور سر پر چوٹ کا امکان زیادہ ہوتا ہے جس سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ اگر وہ تینوں پرانی رسی کو استعمال کر رہے تھے تو یہ خطرناک ہے اور ان کے کہیں گرنے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
عمران کے مطابق ان کوہ پیماؤں کے ساتھ 2008 میں ہونے والے حادثے جیسا بھی کچھ واقعہ ہو سکتا ہے۔ ’آپ کی رسی فکسڈ لائن پر کیرابینر کے ذریعے اٹیچ ہوتی ہے۔ کیرابینر ایک کلپ ہوتا ہے جسے آپ رسی کے اندر ڈالتے ہیں جو آپ کی سیفٹی ہوتی ہے۔ لیکن اگلا پیچ لگانے اور اپنے کلپ کو ان کلپ کر کے آگے اٹیچ کرنے کی کوشش میں کوہ پیما گر جاتے ہیں۔ 2008 میں یہی ہوا تھا اور 11 کوہ پیما ہلاک ہو گئے تھے۔‘ تاہم وہ کہتے ہیں کہ یہ اتنے تجربہ کار کوہ پیما تھے کہ آپ ان سے ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی امید نہیں کر سکتے۔ عمران کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے کہ ان میں سے کوئی ایک کوہ پیما عدم توازن کے باعث گر گیا ہے اور باقی سب کو بھی ساتھ لے گیا ہے۔
ممکنہ حادثے کی تیسری وجہ گلیشیئر کا ٹوٹنا ہو سکتی ہے۔ عمران کے مطابق کے ٹو پر یہ سیراکس 20 منزلوں جتنی بڑی ہیں یعنی بہت بڑا برف کا تودہ ہے جو لٹک رہا ہے۔ چونکہ سال ہا سال سال برف پڑتی رہتی ہے لہٰذا وہ سارا تودہ تو گر نہیں سکتا اس لیے ہو سکتا ہے کہ کوئی تازہ برف اڑتی ہوئی آئی اور کوئی ایک ٹکڑا ٹوٹ کر گرے اور آپ کی رسی کو کاٹ دے۔ وہ بتاتے ہیں آپ اگر تیز رفتاری سے بھی جائیں تو ان سیراکس سے گزرنے میں کم از کم چھ گھنٹے لگتے ہیں یعنی چھ گھنٹے آپ خطرے کے نیچے چلتے ہیں۔ اسی لیے کوہ پیما کوشش کرتے ہیں کہ سورج کی پہلی کرنوں سے بھی پہلے نکلیں اور جب برف ٹھوس حالت میں ہے اس وقت وہاں سے گزر جائیں۔ عمران کہتے ہیں کہ ماؤنٹینیئرنگ کی سمجھ بُوجھ رکھنے والے تمام جونیئر سینیئرز کلائمبرز میں سے اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اگر سدپارہ کی ٹیم کو کوئی حادثہ پیش آیا ہے اور باٹل نَیک کے علاقے سے ان کی فال ہوئی ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ پہلے سے لگی فکسڈ لائن پر کسی پُرانے رسّے کے استعمال سے پریشر کی وجہ سے وہ ٹُوٹ گیا ہو۔ ان کے مطابق بلغارین کلائمبر اٹاناس سکاتوف کی موت کی وجہ بھی اب یہی سامنے آ رہی ہے کہ وہ غلطی سے پُرانے رسے کا استعمال کر بیٹھے تھے جو شاید اُن کے گرنے کا سبب بنی۔
