علی سدپارہ ڈیتھ زون میں حادثے کا شکار ہوئے

دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ کی لاش کے ٹو پہاڑ کے اسی ’بوٹل نیک‘ سے ملی ہیں جہاں ان کے بیٹے نے انہیں آخری مرتبہ دیکھا تھا اور جسے ڈیتھ زون یا موت کی وادی بھی کہا جاتا یے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈیتھ زون میں سدپارہ اور انکے ساتھیوں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہو گا جس کی وجہ سے انکی موت واقع ہوئی۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے سدپارہ کے علاوہ انکے دونوں غیر ملکی ساتھیوں کی لاشیں بھی مل جانے کا اعلان کیا ہے۔کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کے درمیان ایک راک اینڈ آئس گلی موجود ہے، کیونکہ اس کی شکل بوتل کی گردن کی طرح دکھتی ہے لہذا اسے بوٹل نیک کہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے کےٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے اور یہ کے ٹو کا سب سے مشکل ترین حصہ ہے۔
علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ نے بھی آخری مرتبہ اپنے والد کو کے ٹو کی باٹل نیک پر چڑھتے دیکھا تھا جسے کہ موت کی وادی کہا جاتا ہے۔ ساجد کے مطابق جب انھیں ڈیتھ زون میں ہیلیوسنیشن شروع ہوئی اور آکسیجن ماسک کا ریگولیٹر خراب ہو گیا تو انکے والد نے انہیں واپس لوٹ جانے کو کہا۔ اس وقت دن کے 10 بجے کا وقت تھا اور علی سدپارہ کی ٹیم 8200 میٹر پر یعنی ڈیتھ زون کے سب سے مشکل سیکشن کے انتہائی خطرناک حصے پر موجود تھی۔ یوں ساجد سدپارہ واپس لوٹ آئے اور ان کی جان بچ گئی لیکن ان کے والد واپس نہ آ پائے۔
یاد رہے کہ کے ٹو کی ڈیتھ زون میں ایک غلط قدم کا مطلب سیدھا ہزاروں فٹ گہری کھائی یا گلیشیر میں گر کر موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔ اسکے علاوہ اس اونچائی پر آکسیجن کی کمی سے انسانی جسم پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دماغ کا جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے اور جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ ڈیتھ زون میں انسانوں کو سانس لینے کے لیے درکار آکسیجن کی کمی سے جہاں ’آلٹیٹیوٹ سک نیس یعنی اونچائی پر لاحق ہونے والی بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں وہیں اتنی بلندی پر تیز ہوائیں بھی کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ یہاں پر انتہائی کم درجہ حرارت بھی جسم کے کسی بھی حصے میں فراسٹ بائٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ڈیتھ زون میں آپ مخصوص وقت سے زیادہ نہیں گزار سکتے ہیں اور یہاں نیند یا زیادہ دیر رکنے کا مطلب موت ہے۔ اسی لیے کیمپ فور میں پہنچنے والے کوہ پیما سوتے نہیں۔ بس کچھ دیر سستا کر سمٹ کرنے یا چوٹی پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور تقریباً 16 سے 18 گھنٹوں کے دورانیے میں چوٹی سر کرکے ڈیتھ زون سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کی وہاں سے نکلنے کی کوشش کامیاب نہ ہو پائی جسکی وجہ کوئی حادثہ ہی ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اطلاعات گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے تصدیق کی ہے کہ محمد علی سدپارہ اور انکے دو کوہ پیما ساتھیوں کی لاشیں مل گئی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ لاشوں کو باٹل نیک سے نکال کر اور اوپر لا کر فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گلگت منتقل کیا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ محمد علی سد پارہ کی لاش کے ٹو کے ’بوٹل نیک‘ سے 300 میٹر نیچے جبکہ پہلی لاش ’بوٹل نیک‘ سے 400 میٹر نیچے ملی ہے۔ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ تقریباً دو ہفتے تک زمینی اور فضائی ذرائع کا استعمال کرنے کے بعد حکام نے 18 فروری کو علی سدپارہ سمیت لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
لیکن 2 ہفتے پہلے گمشدہ کو پیماؤں کی لاشوں کو تلاش کرنے کا کام دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ ساجد سدپارہ اپنے والد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کی لاشوں کی تلاش کے سلسلے میں کے ٹو پر پہنچے تھے ہیں اور ان کے ہمراہ کینیڈین فوٹو گرافر اور فلم میکر ایلیا سیکلی اور نیپال کے پسنگ کاجی شرپا بھی موجود تھے۔ پہلے دو لاشوں کے ملنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں لیکن کے ٹو پر مہمات کا انتظام کرنے والی کمپنیوں نے تیسری لاش ملنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ساجد سد پارہ کی ریسکیو مہم کے انتظامات کرنے والی کمپنی جیسمن ٹورز کے بانی اور پاکستان میں ہیڈ آف ریسکیو مشن اصغر علی نے تین لاشیں ملنے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق یہ لاشیں لاپتہ کوہ پیماؤں علی سدپارہ، جان سنوری اور جان پابلو موہر کی ہی ہیں۔ان کے مطابق آرمی کی طرف سے ان کے لئیزن آفیسر جن کا بذریعہ ریڈیو ساجد سدپارہ سے رابطہ ہے، تصدیق کی ہے کہ یہ لاشیں علی سدپارہ، جان سنوری اور ہوان پابلو موہر کی ہیں۔اس سے پہلے کے ٹو پر مہمات کا انتظام کرنے والی کمپنی مہاشا برم ایکسپیڈیشن کے مالک محمد علی نے علی سدپارہ کی لاش ملنے کی تصدیق کی تھی۔
مہاشا برم ایکسپیڈیشن کے مالک محمد علی کے مطابق ان کی مختلف ممالک کے 19 کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم کے ٹو کی جانب رواں دواں تھی۔ اس دوران انکی ٹیم رسیاں فکس کرنے اوپر جا رہی تھی کہ کیمپ فور سے آگے بوٹل نیک کے قریب انھیں پہلے ایک لاش ملی اور گھنٹے بعد تقریباً سو میٹر اوپر جا کر دوسری لاش ملی۔ کچھ دیر بعد انھوں نے بتایا کہ تیسری لاش بھی مل گئی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ محمد علی سدپارہ کی لاش کی شناخت کیسے کی گئی ہے؟محمد علی کے مطابق جس وقت انکی ٹیم کے ٹو بیس کیمپ سے نکل رہی تھی اس وقت محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ نے انھیں کچھ تصاویر اور نشانیاں بتائیں تھیں جن کی بنا پر علی سد پارہ کی لاش کی شناخت کی گئی ہے۔ محمد علی نے بتایا تھا کہ ان کی ٹیم نے ساجد سدپارہ تک یہ خبر پہنچا دی ہے اور لاشوں کو نیچے لانے کے متعلق فیصلہ ساجد ہی کریں گے۔
لاشوں کی تصدیق سے متعلق سوال پر پاکستان میں ہیڈ آف ریسکیو مشن علی اصغر پورک کا کہنا تھا کہ ’اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا، ہمیں سب ہسٹری معلوم ہوتی ہے کہ کون کب گیا، کون کوہ پیمائی کر رہا ہے کون نہیں کر رہا اور کون ہلاک ہوا ہے۔۔۔ ہم ہر سال مہمات کرتے ہیں اور ہمیں ساری معلومات ہوتی ہیں۔‘اصغر علی پورک نے یہ بھی بتایا کہ ’کل آرمی کے ہیلی کاپٹر جائیں گے اور سلنگ آپریشن جس میں رسیوں کی مدد سے لاش اوپر لائی جاتی ہے، کے ذریعے لاشوں کو بیس کیمپ تک لانے کی کوشش کی جائے گی۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آج سے قبل پاکستان میں ایسا آپریشن کبھی نہیں کیا گیا کہ اتنی اونچائی سے لاشوں کو نیچے لایا جائے۔ اصغر علی کے مطابق اس آپریشن کے لیے آرمی کو اپنے ہیلی کاپٹر میں سیٹیں اور پٹرول کم کر کے ہیلی کاپٹر کا وزن کم کرنا پڑتا ہے اور یہ انتہائی خطرناک آپریشن ہوتا ہے۔’اگر آرمی کامیاب ہو گئی تو دنیا میں اتنی اونچائی سے لاش نیچے لانے کا یہ ایک ریکارڈ آپریشن ہو گا۔‘
کوہ پیمائی کے ماہر مہم جو عمران حیدر تھہیم کے مطابق پاکستان آرمی کے پاس کوئی ایسا ہیلی کاپٹر موجود نہیں ہے جو 7000 میٹر سے اوپر پرواز کر سکے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ لاشیں 8200-8300 میٹر کے آس پاس پائی گئی ہیں۔’لہذا ان لاشوں کو جہاں یہ موجود ہیں ( 8200-8300 میٹر) وہاں سے ورٹیکل 7000 میٹر نیچے تک لانا پڑے گا جو کے ٹو کا ’بلیک پیرامڈ سیکشن‘ ہے اور یہ بہت زیادہ پتھریلا حصہ ہے۔ کوہ پیماؤں کو ہر حال میں یہاں تک لاشوں کو اٹھا کر لانا پڑے گا۔‘عمران کے مطابق اس کام کے لیے ایک منظم اور مربوط کوشش کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ’دو تین بندوں کے بس کا کام نہیں ہے‘۔
ان کے مطابق لاشوں کو 7000 میٹر تک لانے کے لیے کم از کم 10-15 ایکلیمٹائزڈ کوہ پیماؤں کی ضرورت ہے واضح رہے کہ سطح سمندر سے بلندی پر آکسیجن کی کمی کے ساتھ انسانی جسم کے موافقت اختیار کرنے کے عمل کو ایکلیمٹائزیشن کہتے ہیں۔’جب تک ان لاشوں کو 7000 میٹر تک نہیں لایا جاتا، دنیا کا کوئی سلنگ آپریشن ممکن نہیں ہے۔‘
یاد رہے کہ ہیلی کاپٹر سے ریکسیو لانگ لائن کے ذریعے کیا جاتا ہے یعنی ہیلی کاپٹر اوپر جا کر لانگ لائن کی رسی نیچے پھینکتا ہے اور نیچے سے زندہ انسان یا لاش کو اس کے ساتھ باندھ کر اوپر اٹھا لیا جاتا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ ان لاشوں کو موت کی وادی سے نکالنے میں کتنے روز لگتے ہیں؟
