علی سدپارہ کو بطور امانت K-2 پر برف میں دفنا دیا گیا

کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ کی برف میں جمی لاش کو ان کا بیٹا ساجد سد پارہ موت کی وادی سے نکالنے میں تو کامیاب یو گیا لیکن اتنی بلندی سے اسے نیچے اتارنا ممکن نہیں تھا چنانچہ وقتی طور پر سدپارہ کے جسد خاکی کو کیمپ فور پر بطور امانت دوبارہ برف میں دفنا دیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کے ساجد سدپارہ نے جہاں علی سدپارہ کا جسد خاکی پہنچایا اس بلندی پر بھی آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کا پہنچنا ناممکن تھا۔ اگر لاش کو رسیوں سے باندھ کر نیچے لانے کی کوشش کی جاتی تو اس کے ٹکڑوں میں بٹنے کا خطرہ تھا چونکہ وہ اس وقت برف کے ایک مجسمے کی صورت اختیار کر چکی ہے جو ایک ٹھوکر بھی برداشت نہیں کر پائے گی۔
چنانچہ ساجد سدپارہ نے اپنے والد کی لاش کو کیمپ فور پر برف میں محفوظ طریقے سے دفن کرنے کے بعد اپنی والدہ کی خواہش کے مطابق فاتحہ کی ہے اور اس مقام پر نشانی کے لیے پاکستانی پرچم گاڑ دیا۔ علی سدپارہ کی لاش کو بوٹل نیک سے نکال کر کیمپ فور تک لانے کے خطرناک کام میں انکی مدد کسی۔پاکستانی نے نہیں بلکہ ارجنٹائن کے ایک کوہ پیما نے کی۔
یاد رہے کہ پانچ ماہ کے انتظار کے بعد ساجد سدپارہ اپنے والد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کی لاشوں کی تلاش اور انھیں واپس لانے کے مقصد سے دوبارہ کے ٹو پر پہنچے تھے۔ اس دوران انہوں نے 28 جولائی کو دوسری مرتبہ کے ٹو بھی کر لیا۔ ان کے ہمراہ ایک کینیڈین فوٹو گرافر، فلم میکر ایلیا سیکلی اور نیپال کے پسنگ کاجی شرپا بھی ہیں۔ فی الحال ساجد نے اپنے والد اور انکے ساتھیوں کی لاشوں کو محفوظ کر دیا ہے، تاہم انھیں کے ٹو سے نیچے لانے سے متعلق منصوبہ بعد میں بنایا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 1954 سے لے کر اب تک کے ٹو پر اپنی جان گنوانے والے کسی بھی کوہ پیما کی ڈیڈ باڈی نیچے نہیں لائی جا سکی لہٰذا یہ ایک مشکل کام ہوگا
جسکا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا مزید انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر یہ لاشیں نیچے لانا ممکن ہے یا نہیں۔ کے ٹو کی چوٹی سے بھییجے گئے پیغام میں ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ فی الحال لاشوں کو نیچے لیجانا ممکن نہیں لگ رہا لہذا ‘میں اپنی ٹیم کے ساتھ انھیں ٹیکنیکل مقام سے دوسری جگہ محفوظ کر رہا ہوں تاکہ وہ آنے جانے والوں کو نظر نہ آ سکیں’۔
آڈیو پیغام میں ساجد سدپارہ نے یہ بھی بتایا کہ انھیں پابلو موہر کی جیب سے صرف گارمین ڈیوائس ملی ہے مگر وہ دوبارہ نیچے جا کر ان کا گو پرو، سیٹیلائٹ اور موبائل ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔
یاد رہے کہ علی سدپارہ کی لاش 27 جولائی کے روز کے ٹو پہاڑ کے ’بوٹل نیک‘ کے قریب ملی تھی۔ گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات فتح اللہ خان نے تینوں کوہ پیماؤں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان لاشوں کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔
پہلے علی سد پارہ اور جان سنوری کی لاشیں ملنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں لیکن کے ٹو پر مہمات کا انتظام کرنے والی کمپنیوں اور ہون پابلو موہر کے مینیجر فیڈریکو شیچ نے ان کی لاش ملنے کی بھی تصدیق کی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ محمد علی سد پارہ کی لاش کے ٹو کے ’بوٹل نیک‘ سے 300 میٹر نیچے جبکہ پہلی لاش ’بوٹل نیک‘ سے 400 میٹر نیچے ملی۔ کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کے درمیان ایک راک اینڈ آئس گلی ہے، کیونکہ اس کی شکل بوتل کی گردن کی طرح دکھتی ہے لہذا اسے بوٹل نیک کہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے کےٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے اور یہ کے ٹو کا مشکل ترین حصہ ہے جہاں زیادہ تر کوہ پیما اپنی جان سے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ تقریباً دو ہفتے تک زمینی اور فضائی ذرائع کا استعمال کرنے کے بعد حکام نے 18 فروری کو علی سدپارہ سمیت لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
