علی کا علی سے مکالمہ

 

 

 

 

تحریر : حامد میر

بشکریہ : روزنامہ جنگ

 

اسرائیل نے بڑے فخر سے علی لاریجانی کے قتل کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سن کر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ لاریجانی ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے ۔ انہوں نے اپنی حفاظت کا مناسب انتظام کیوں نہ کیا؟ ابھی اس سوال کا جواب نہیں ملا تھا کہ ایک سفارتکار نے ایران کے ایک اخبار میں لاریجانی اور ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کے درمیان آخری مکالمے کی شائع ہونے والی تفصیل بھیجی ۔ جس دن لاریجانی کی شہادت ہوئی اُس سے ایک دن قبل لاریجانی نے خود اس مکالمے کی تفصیل جاری کی جو اُنکے پاس ایک امانت تھی ۔ شہادت سے قبل لاریجانی نے یہ امانت ایرانی عوام کے سپرد کر دی اور اُنہیں اپنے ساتھ ساتھ علی خامنہ ای کی شہادت کی وجہ بھی بتا دی۔ ایران کے دو لیڈروں کے درمیان یہ مکالمہ ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ قتل حسین اصل میں مرگ یزید کیوں ہے اور اسلام ہر کربلا کے بعد زندہ کیوں ہو جاتاہے ؟ مجھ تک یہ مکالمہ انگریزی میں پہنچا ہے جسے فارسی سے ترجمہ کیا گیا لیکن اسکے راوی علی لاریحانی ہیں اور انداز بیان بھی انہی کا ہے۔ یہ دراصل لاریجانی اور علی خامنہ ای کے درمیان آخری ملاقات کی کہانی ہے ۔ دونوں کا نام علی تھا لیکن لاریجانی سپریم لیڈر کو ہمیشہ میرے قائد کہتے تھے۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے سے چند گھنٹے قبل علی لاریجانی ہاتھ میں ایک فائل اُٹھائے سپریم لیڈر سے ملاقات کیلئے اُنکے آفس میں تشریف لائے۔ لاریجانی بارہ سال تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے ۔2005 ء سے 2007ء تک وہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے اور اگست 2025ء میں ایران صدر مسعود پزشکیان نے انہیں دوسری مرتبہ اس عہدے پر فائز کیا تھا۔ پزشکیان نے یہ فیصلہ سپریم لیڈر کے ساتھ مشورے کے بعد کیا تھا۔ لاریجانی اپنے سپریم لیڈر کو ان کے قتل کے منصوبے سے آگاہ کرنے آئے تھے۔ لاریجانی کو اس منصوبے کی تفصیلات مختلف ذرائع سے ملی تھیں لہٰذا وہ اس منصوبے کے بارے میں فائل بھی ساتھ لیکر آئے تاکہ سپریم لیڈر کے ممکنہ سوالات کا جواب دے سکیں۔ دعا سلام کے بعد لاریجانی اپنے قائد کے سامنے بیٹھ گئے اور گفتگو کے آغاز سے قبل چند لمحوں تک سپریم لیڈر کو احترام اور محبت سے دیکھتے رہے۔ پھر گویا ہوئے ’’میرے قائد ! اس مرتبہ یہ دباؤ ڈالنے کا حربہ یا عام سا پیغام نہیں بلکہ ایک فیصلے کی خبر ہے ۔ دشمن نے آپکو ہر قیمت پر شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے خواہ اسے پورا آسمان میزائلوں کی آگ سے جلانا پڑے ۔ ” سپریم لیڈر بڑی سنجیدگی سے لاریجانی کی بات سُن رہے تھے ۔ لاریجانی نے انہیں مزید بتایا کہ ہم نے آپ کیلئے ایک محفوظ مقام کا بندوبست کیا ہے جہاں آپ دشمن کی آنکھ سے اوجھل رہیں گے ، جہاں نہ تو دشمن کے بم آسانی سےپہنچ سکیں گے اور نہ ہی دشمن کے جنگی طیارے اُس جگہ کو ٹارگٹ کر سکیں گے ۔ سپریم لیڈر بالکل خاموش تھے ۔ اب لاریجانی نے منت سماجت کے انداز میں سپریم لیڈر کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے قائد ! یہ کوئی چھپنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک عارضی قیام گاہ ہے تا کہ طوفان کے گزرنے تک آپ نظروں سے اوجھل رہیں ۔ یہ الفاظ ادا کر کے لاریجانی خاموش ہو گئے ۔ سپریم لیڈر کچھ دیر تک مشفق مسکراہٹ کے ساتھ لاریجانی کو دیکھتے رہے ۔ پھر خامنہ ای کھڑے ہو گئے ۔ لاریجانی کو ایسا محسوس ہوا کہ سپریم لیڈر کے ساتھ تاریخ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔ سپریم لیڈر نے شفقت بھرے پرسکون لہجے میں لاریجانی سے پوچھا کہ جب آپ میرے پاس آ رہے تھے تو آپکو مجھ سے کس قسم کے جواب کی توقع تھی ؟ لاریجانی نے تمام تر احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جھجک جھجک کر کہا کہ مجھے خدشہ تھا کہ آپ انکار کر دیں گے لیکن میرے قائد ! قوم کو آپکی ضرورت ہے ہم یہ جنگ اپنے کمانڈر کے بغیر نہیں لڑ سکتے ۔ یہ سُن کر سپریم کمانڈر کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جسکے پیچھے افسردگی کے ساتھ ساتھ حکمت کی جھلک بھی نمایاں تھی ۔ سپریم لیڈر نے لاریجانی سے کہا کہ ریاستی امور اور سکیورٹی کے تقاضوں کی روشنی میں آپ نے جو کہا وہ بالکل درست ہے لیکن آئیے ایک لمحے کیلئے اس معاملے پر ذرا مختلف پہلو سے نظر ڈالتے ہیں ۔ اب لاریجانی بھی اپنے قائد کی بات غور سے سننے لگے ۔سپریم لیڈر نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ اگر میں خود غائب ہو جاؤں تو اپنے سپاہیوں کو یہ کیسے کہوں گا کہ موت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاؤ ؟ میں اپنے لوگوں سے یہ کیسے کہوں گا کہ گھبرانا نہیں ؟اگر میں خود ہی میدان سے غائب ہو گیا تو دوسروں کو حوصلہ قائم رکھنے کا درس کیسے دوں گا ؟ پھر سپریم لیڈر نے گفتگو میں ایک وقفہ لیا تو لاریجانی کو ایسا لگا کہ اُن کے قائد کے سینے میں کربلا کا ایک دروازہ کھل گیا ہے ۔ ایک علی نے دوسرے علی کو یاد دلایا کہ ہم حسین ابن علی کی اولاد ہیں اور یہ وہ امام تھے جنہیں اپنے انجام کا پتہ تھا لیکن وہ اللّٰہ کے بھروسے پر اس انجام کی طرف بڑھتے ہوئے کر بلا تک پہنچ گئے ۔ سپریم کمانڈر نے لاریجانی کو یاد دلایا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی فوج بہت چھوٹی تھی انہیں پتہ تھا وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے لیکن انہوں نے غائب ہونے کی بجائے میدان میں آکر دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ علی خامنہ ای کی بات سن کر علی لاریجانی نے ایک دفعہ پھر التجا کرتے ہوئے کہا کہ میرے قائد ! تاریخ صرف ایک واقعے کا نام نہیں ہے ہماری تاریخ میں ایک اور امام (اہل تشیع کے بارہویں امام محمد المہدی) بھی ہیں اور اُن کا منظر سے غائب ہونا بتاتا ہے کہ کبھی کبھار نظروں سے اوجھل ہونا حکمت کا تقاضا ہے بزدلی نہیں ۔ یہ سن کرسپریم لیڈر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا۔ ” مسٹر لاریجانی ! فرق یہ ہے جب امام (محمد المہدی) غائب ہوئے تو اُن کے پیچھے سچ کا دفاع کرنے کیلئے کوئی فوج یا قوم نہیں تھی ۔ میں کیسے غائب ہو جاؤں جبکہ میری قوم لڑنے کیلئے تیار ہے ؟ میں کیسے غائب ہو جاؤں جب میری فوج دشمن کی آگ کے سامنے بہادری سےکھڑی ہے ؟ لیڈر کے پیچھے فوج نہ ہو تو اُس کے غائب ہونے میں حکمت ہے لیکن جب پوری قوم اسکے پیچھے کھڑی ہو اور پھر بھی لیڈر جان بچانے کیلئے غائب ہو جائے تو وہ تاریخ کے ضمیر پر ایک بھاری سوال بن جاتا ہے ۔ اب لاریجانی خاموش ہو چکے تھے ۔ اُن کےپاس کوئی جواب نہ تھا۔ سپریم لیڈر نےاُنہیںرخصت کرتے ہوئے ہاتھ ملا کر اُنکی پیشکش کا شکریہ ادا کیا۔ لاریجانی کے رخصت ہونے کے بعد سپریم لیڈر نے اپنے خاندان کو اکٹھا کیا اور انہیں لاریجانی کے خدشات اور پیشکش سے آگاہ کیا۔ خاندان کے افراد نے انہیں کہا کہ آپ جہاں رہیں گے ہم بھی آپ کے ساتھ وہیں رہیں گے ۔ تھوڑی دیر بعد سپریم لیڈر اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ اسرائیلی میزائلوں کا نشانہ بن گئے ۔ اُنکی شہادت کے بعد بھی ایران میں رجیم چینج کا خواب پورا نہ ہو سکا کیونکہ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ۔ علی خامنہ ای کی شہادت سے علی لاریجانی کو یہ سمجھ آگئی کہ جولیڈر موت سے گھبرا کر غائب ہو جاتے ہیں وہ اپنی قوم کی یاداشت سے بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔ لاریجانی بھی نتین یاہو کی طرح زمین دوزپناہ گاہوں میں چھپ سکتےتھے لیکن وہ اپنی قوم اور فوج کی نظروں کے سامنے موجود رہے اور چند دن بعد اپنے قائد کی طرح شہید ہو گئے ۔ رمضان میں شہید ہونے والے یہ دونوں علی ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یاد دلاتے ہیں جو 21 رمضان کو شہید ہوئے ۔ کچھ دانشوروں کے خیال میں طاقت کے سامنے ڈٹ جانا بے وقوفی ہے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ جس لیڈر کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اُسکی موت قوم کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اور پھر یہ زندگی وقت کے نمرود ، فرعون اور یزید کے زوال کا باعث بنتی ہے۔

 

Check Also
Close
Back to top button