عمران امریکی CIA چیف کو ملنے سے انکاری کیوں ہوئے؟

اہم ترین حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے امریکی سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز کے حالیہ خفیہ دورہ پاکستان کے دوران ان سے ملاقات سے انکار کر دیا اور واضح کیا کہ وہ صرف امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کریں گے۔ ملنے سے انکار کی بنیادی وجہ امریکہ میں نئی بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اپنایا جانے والا سرد مہری کا رویہ بتایا جا رہا ہے۔ چنانچہ انکار کے بعد امریکی سی آئی اے کے چیف ولیم برنز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے ملاقاتیں کرکے واپس چلے گئے لیکن پاکستانی حکام سے یہ ملاقاتیں بھی ناکام رہیں اور انہیں بلوچستان میں ایک فوجی اڈہ حاصل کرنے کے حوالے سے کوئی یقین دہانی نہ مل سکی۔
بتایا جاتا ہے کہ امریکہ پچھلے کچھ عرصے سے افغانستان سے فوجیوں کا بحفاظت انخلا یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں ایک ایئر بیس کا مطالبہ کر رہا ہے۔ بنیادی طور پر امریکی سی آئی اے سربراہ کا حالیہ دورہ پاکستان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ولیم برنز کی پاکستان آمد سے پہلے امریکہ کو امید تھی کہ انہیں امریکی انخلا کے دوران بلوچستان میں کم از کم ایک اڈا استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے گی، تاہم یہ امید تب دم توڑ گئی جب پاکستانی فوجی قیادت نے ایسی کوئی سہولت فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ فوجی قیادت کے انکار کے بعد امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ چونکہ انکی ملاقات کا کوئی پروگرام پہلے سے طے نہیں تھا اس لئے ایسا نہیں ہوسکتا اور ویسے بھی پروٹوکول کے تحت پاکستانی وزیر اعظم صرف امریکی صدر سے ہی ملاقات کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ امریکا نے بلوچستان میں فوجی ائیر بیس کے لیے پاکستان سے جو مذاکرات شروع کیے تھے وہ افغان طالبان کے سخت ردعمل کے بعد ناکامی کا شکار ہوئے۔ یاد رہے کہ امریکا افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کے دوران اور بعد میں پاکستان میں فوجی ایئربیس سے طالبان کے خلاف ڈرون حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن دوسری جانب افغان طالبان نے کہا تھا کہ امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دینا بہت بڑی غلطی ہو گئی جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ‘سی آئی اے’ کے سربراہ نے حال ہی میں پاکستان کا ایک خفیہ دورہ کیا جس مین ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے ملاقاتیں ہوئیں جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔ پاکستانی فوجی قیادت کا یہ موقف تھا کہ امریکہ خود تو افغانستان سے نکل رہا ہے لیکن جاتے ہوئے پاکستان کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات خراب کروانا چاہتا ہے۔ لہذا پاکستان کسی بھی صورت امریکہ کو افغانستان میں طالبان پر ڈرون حملے کرنے کے لیے کوئی فوجی اڈہ فراہم نہیں کرے گا۔ دوسری جانب امریکی فوجی قیادت کا اصرار ہے کہ وہ پاکستان میں اڈہ ملنے پر اسے صرف افغانستان سے اپنی فوجوں کے بحفاظت انخلا کی فضائی نگرانی کے لیے استعمال کریں گے اور حملہ صرف تب کریں جب انکی فوج کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے امریکی سی آئی اے سربراہ نے پاکستان کو یہ پیشکش بھی کی تھی کہ اگر ان کو اڈا فراہم کر دیا جائے تو وہ ڈرون آپریشنز کرتے وقت پاکستان کو پیشگی آگاہ کریں گے۔ تاہم پاکستان ابھی تک امریکی افواج کو بلوچستان میں اڈہ دینے سے انکاری ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومتی عہدیداران نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز کے خفیہ دورے کی تصدیق کرنا شروع کردی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق سرکاری ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے امریکی سی آئی اے کو ڈرون آپریشنز کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی ڈرون آپریشنز ز سی آئی اے کی زیر نگرانی کیے جاتے ہیں اور انہی کے ذریعے امریکہ نے افغانستان میں اسامہ بن لادن کے القاعدہ نیٹ ورک کا خاتمہ کیا تھا۔ 6 جون 2021 کو نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ولیم برنز نے آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی چیف فیض حمید سے ملاقات کے لیے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا تا کہ دونوں فریقین میں انسداد دہشت گردی پر تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ بتایا گیا کہ سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی افغانستان کے اطراف میں اڈے تلاش کررہی ہے جہاں سے وہ افغانستان کی انٹیلیجنس اکٹھی کرسکے اور فوجوں کے مکمل انخلا کے بعد انسداد دہشت گردی کارروائیاں کرسکے تا کہ دہشت گرد دوبارہ کھڑے نہ ہو پایئں۔
تاہم اخبار کے مطابق اڈے دینے سے انکار کے متعلق پاکستانی عہدیداروں کی جانب سے خاموشی کے ساتھ کچھ صحافیوں کو معلومات دینے کا مقصد بظاہر اس تاثر کو رد کرنا لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امریکی ڈرون اڈوں کی میزبانی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ نیویارک ٹائمز کے آرٹیکل میں لکھا تھا کہ امریکی عہدیداروں کا ماننا ہے کہ پاکستان امریکا کو ایک اڈے تک رسائی کی اجازت دینا چاہتا تھا لیکن نشاندہی کی گئی کہ پاکستانی حکام بڑی سخت شرائط رکھ رہے تھے۔
امریکی اخبار کے آرٹیکل میں کہا گیا کہ ‘پاکستانی اور امریکی حکام کی بات چیت میں پاکستان نے ملک میں اڈے کے استعمال کے بدلے مختلف پابندیوں کا مطالبہ کیا تھا’۔ یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان اور امریکا کے مابین اس مسئلے پر مختلف سطح پر بات چیت ہوئی، جس میں وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری اسٹیٹ ٹونی بلنکن، مشیر قومی سلامتی معید یوسف کی ان کے امریکی ہم منصب جیک سولیوان، جنرل قمر باجودہ اور سیکریٹری دفاع لائڈ آسٹن، آرمی چیف/ڈی جی آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے سربراہ اور آرمی چیف کی امریکی امور کے ذمہ دار سے ملاقات شامل ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ سی آئی کے سربراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں بتایا گیا کہ صرف دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت کے درمیان ہی ملاقات ہوسکتی ہے۔
اخبارکے مطابق حکومت کی جانب سے سربراہان مملکت کی ملاقات کے اصرار کی وجہ جنوری میں صدر جوبائیڈن کے منصب سنبھالنے کے بعد سے اعلیٰ سطح پر عدم روابط کی وجہ سے پیدا ہونے والا غصہ بھی ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ سی آئی اے کے سربراہ کو خاص طور پر بتایا گیا ہے کہ پاکستانی سرزمین سے کسی امریکی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس کے بجائے امریکا سے یہ کہا گیا کہ دہشت گرد اہداف کے خلاف حملے کرنے کے لیے انہیں ڈرون دیے جائیں۔ تاہم امریکہ نے اس پر اتفاق نہیں کیا اور یوں مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جائے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوجی اڈا حاصل کیے بغیر امریکہ کے لیے اپنی فوجوں کو افغانستان سے بحفاظت نکالنا ممکن نہیں اس لیے پاکستان کو منانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

Back to top button