عمران اور بشری کے دانستہ غیر شرعی نکاح کا پردہ عدالت میں چاک

. سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے دو نکاحوں کے گواہ عون چوہدری اور نکاح خواں مفتی سعید نے عدالت کے سامنے عمران خان کی جانب سے دیدہ دانستہ غیر شرعی نکاح پڑھوانے کا پردہ چاک کر دیا . اٹھائیس نومبر کے روز اسلام آباد میں سول جج قدرت اللہ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف خاور مانیکا کی مدعیت میں درج غیرشرعی نکاح کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار خاور فرید مانیکا کی جانب سے وکیل راجا رضوان عباسی جبکہ عدالتی حکم پر گواہان مفتی سعید، عمران خان کے سابق قریبی دوست اور نکاح کے گواہ عون چوہدری اور محمد لطیف عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر عدالت نے گواہ مفتی سعید کا بیان قلمبند کرنا شروع کیا، سول جج قدرت اللہ نے ریمارکس دیے کہ بیان دینے سے قبل حلف لینا پڑےگا، مفتی سعید نے بیان قلمبند کرنے سے قبل حلف اٹھایا۔ سول جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ اردو میں بیان قلمبند کروائیں گے؟ مفتی سعید نے جواب دیا کہ میں اردو میں ہی اپنا بیان عدالت میں قلمبند کرواؤں گا، میری عمر 62 سال ہے، پٹھان ہوں، چھتر پارک میں ندوت العلما میں پڑھاتا ہوں۔ مفتی سعید نے مزید کہا کہعمران خان سے اچھے تعلقات تھے، پی ٹی آئی کور کمیٹی کا ممبر بھی تھا، یکم جنوری 2018 کو عمران خان مجھ سے رابطہ کیا،اور کہا کہ بشریٰ بی بی سے لاہور جا کر نکاح پڑھوانا ہے۔ سول جج قدرت اللہ نے مفتی سعید سے استفسار کیا کہ آپ صفحہ کو دیکھ کر پڑھ رہے ہیں؟ لکھا ہوا پڑھنا جھوٹ ہوتا ہے، صفحہ ہٹا دیں اور زبانی بیان ریکارڈ کروائیں۔ مفتی سعید نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر میں ڈیفینس لاہور گیا، لاہور میں بہت لوگ تھے، بشریٰ بی بی کی بہنیں بھی تھیں، بشریٰ بی بی کی بہن سے پوچھا کہ کیا نکاح کے شرعی لوازمات پورے ہیں؟ خود کو بشریٰ بی بی کی بہن ظاہر کرنے والی خاتون نے بولا کہ نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔ سول جج قدرت اللہ نے مفتی سعید سے استفسار کیا کہ کتنے نکاح آپ پڑھوا چکے ہیں؟ مفتی سعید نے جواب دیا کہ بےشمار نکاح پڑھائے، دوستوں کے پڑھا دیتا ہوں۔ جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ عدت کے حوالے سے آپ نے بشریٰ بی بی سے خود کیوں نہیں پوچھا؟ مفتی سعید نے جواب دیا کہ ہمارے ہاں خاتون سے ایسا کچھ پوچھا نہیں جاتا، بشریٰ بی بی اور عمران خان کا نکاح میں نے پڑھا دیا تھا، نکاح پڑھانے کے بعد عمران اور بشریٰ بی بی اسلام آباد بنی گالا رہائش پذیر ہوگئے۔مفتی سعید نے مزید بتایا کہ فروری 2018 میں مجھ سے چیئرمین پی ٹی آئی نے دوبارہ رابطہ کیا، مجھے بتایا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح دوران عدت ہوا۔ سول جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ کس نے رابطہ کیا دوبارہ نکاحِ پڑھانے کے حوالے سے؟ مفتی سعید نے جواب دیا کہ مجھے یاد نہیں مجھ سے کس سے نکاح کے حوالے سے دوبارہ رابطہ کیا تھا، بشریٰ بی بی نے کہا کہ خاورمانیکا سے میری طلاق ہو چکی ہے، بشریٰ بی بی کی سہیلیوں نے بھی بتایا کہ خاورمانیکا سے طلاق ہوچکی ہے، نومبر 2017 میں بشریٰ بی بی کو طلاق دی گئی تھی۔ مفتی سعید نے مزید کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ جنوری 2018 کے پہلے دن نکاح ہوگیا تو عمران خان بڑے عہدے پر فائز ہو جائیں گے، مجھے بشریٰ بی بی کی کہی ہوئی بات چیئرمین پی ٹی آئی نے خود بتائی، میرے نزدیک یکم جنوری 2018 والا نکاح غیرشرعی اور نکاح کی تقریب غیرقانونی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ پر غیرشرعی نکاح پڑھوایا، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کو معلوم تھا کہ شرعی نکاح کے لوازمات پورے نہ تھے۔جج نے مفتی سعید سے استفسار کیا کہ مجھے بتائیں عدت کی کیا اہمیت ہے اسلام میں؟ مفتی سعید نے جواب دیا کہ عدت عورت کو شوہرکے گھر پر گزارنی چاہیے تاکہ شوہر کو دوبارہ رجوع کرنے کا موقع مل جائے، عدت پوری کرنے کا مقصد دوران عدت اگر خاتون حاملہ ہو تو معلوم ہو جائے۔ جج نے استفسار کیا کہ اگر طلاق ثالثہ ہو تو شوہر کو رجوع کرنے کا موقع مل جائے؟ ایسا ہی ہے؟ مفتی سعید نے جواب دیا کہ اگر شوہر طلاق کے بعد خاتون سے رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرسکتا ہے۔جج نے ریمارکس دیے کہ اہل تشیع میں رجوع کی بات ہے ہی نہیں، زبانی طلاق بھی نہیں ہوتی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے دونوں نکاح آپ نے پڑھائے تھے؟ مفتی سعید نے جواب دیا کہ میں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے دونوں نکاح پڑھائے ہیں۔

جج نے استفسار کیا کہ اگر جھوٹی گواہی عدالت میں دی جائے تو اس کی کیا دین میں حیثیت ہے؟ مفتی سعید نے کہا کہ یکم جنوری والے نکاح پر میرے دستخط ہیں جبکہ فروری والا نکاح زبانی تھا، فروری 2018 میں عمران خان اور بشری بی بی کا دوسرا نکاح بنی گالا میں پڑھایا۔ عمران خان اور بشری بی بی کے نکاح خوان گواہ مفتی سعید کا بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے دوسرے گواہ عون چوہدری کا بیان قلمبند کرنا شروع کیا۔ عون چوہدری نے کہا کہ میں 45 سال کا ہوں، قوم گجر ہے، استحکام پاکستان پارٹی کا سیکرٹری ہوں، میں چیئرمین پی ٹی آئی کا سیاسی اور پرائیویٹ سیکرٹری تھا، میں چیئرمین پی ٹی آئی کے نہایت قریب تھا، میں چیئرمین پی ٹی آئی کی آنکھیں اور کان تھا، میں ان کے سیاسی اور ذاتی معاملات بھی دیکھتا تھا، ان کی فیملی کے معاملات بھی دیکھتا تھا۔ عون چوہدری نے مزید کہا کہ نومبر 2015 میں ریحام خان کے ساتھ عمران خان کی طلاق ہوئی، ریحام خان کو طلاق دینے کے حوالے سے عمران خان نے بشریٰ بی بی سے تجویز لی، بشریٰ بی بی کے کہنے پر عمران خان نے ریحام خان کو طلاق دی، عمران خان نے ریحام خان کو بذریعہ ای-میل طلاق دی، اُس وقت ریحام خان بیرون ملک تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان دنوں عمران خان کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے، وہ اپنے ازدواجی تعلقات کے حوالے سے پریشان رہتے تھے، وہ اکثر کہتے تھے کہ بشریٰ بی بی کے پاس لے جاؤ تاکہ روحانی سکون حاصل ہو، میں انہیں بشریٰ بی بی کے پاس لے کر جاتا تھا، عمران خان خود بھی جاتے تھے۔ عون چوہدری نے کہا کہ دسمبر 2017 کو چیئرمین پی ٹی آئی نے مجھےکہا بشریٰ بی بی کو لاہور لے کر جانا ہے، عمران خان نے کہا بشریٰ بی بی کے ساتھ نکاح کے انتظامات کرو، میں حیران ہوگیا کیونکہ بشریٰ بی بی تو پہلے ڈے شادی شدہ ہیں، عمران خان نے کہا بشریٰ بی بی کو طلاق ہو چکی۔ عون چوہدری نے عدالت کو مزید بتایا کہ یکم جنوری 2018 کو میں، زلفی بخاری لاہور گئے، مفتی سعید نے ڈیفینس لاہور میں بشریٰ بی بی کا نکاح عمران خان کے ساتھ پڑھایا، میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے نکاح کا گواہ ہوں، میرے سامنے مفتی سعید نے بشریٰ بی بی سے پوچھا تو بشریٰ نے بتایا مجھے طلاق ہو چکی، بشریٰ بی بی نے کہا شرعی لوازمات پورے ہیں، نکاح پڑھا دیا جائے، عون چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ اس کے بعد میڈیا پر آگیا کہ عمران خان کی بشریٰ بی بی سے شادی ہو چکی، میڈیا پر معلوم ہوا کہ دوران عدت نکاح ہوا، ہم نے خاموشی اختیار کی، فروری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کا دوبارہ نکاح پڑھایا گیا، میڈیا پر شور مچا کہ دورانِ عدت عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح ہوا، عمران خان نے کہا خاموشی اختیار کریں، عدت پوری ہونے کے بعد دوباری نکاح کرلیں گے۔ عون چوہدری نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے مجھے بتایا عدت 14 سے 18 فروری کے درمیان پوری ہورہاتھا، دوسرا نکاح بنی گالا میں فروری 2018 میں زبانی پڑھایاگیا، میں موجود تھا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے نکاح کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے، میں اور زلفی بخاری دونوں دوسرے نکاح کے گواہ تھے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان بشریٰ سے شادی کرنا چاہتے تھے، انہوں نے مجھے کہا بشریٰ سے نکاح ہوا تو وزیراعظم بن جاؤں گا، پہلا نکاح دوران عدت جان بوجھ کر عمران خان اور بشریٰ بی بی نے کیا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا پہلا نکاح پیشگوئی کے زیر اثر تھا، اُن کا پہلا نکاح غیرشرعی، غیرقانونی اور فراڈ پر مبنی تھا۔ دریں اثنا عون چوہدری نے اپنا بیان مکمل کرلیا، عدالت نے کیس کی سماعت 2 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی، آئندہ سماعت پر مقدمے کے تیسرے گواہ محمد لطیف اپنا بیان قلمبند کروائیں گے۔ یاد رہے کہ بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست کے مطابق دوران عدت بشری بی بی نے عمران خان کے ساتھ یکم جنوری 2018 کو نکاح کر لیا، یہ نکاح غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ دوران عدت نکاح کی حقیقت منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کر لیا، لہٰذا یہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 496/ 496 بی کے تحت سنگین جرم ہے، دونوں شادی سے پہلے ہی فرار ہوگئے تھے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عمران خان اور بشری بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔ خاور مانیکا کی درخواست پر عدالت نے 3گواہوں کو نوٹسز جاری کر دیے تھے، جن میں عون چوہدری، مفتی سعید اور خاور مانیکا کا ملازم بھی شامل ہے، بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی تھی۔

Back to top button