عمران اڈیالہ جیل میں قید ہوں گے یا لندن بھاگیں گے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اقتدار عمران خان کی زندگی کا واحد مقصد تھا جسے بچانے کے لیے موصوف نے ہر اصول کی قربانی دی، لیکن اب انکا جانا طے ہو چکا ہے اور انہیں وزیراعظم ہائوس کی ہر دیوار پر یہ لکھا نظر آرہا ہے کہ انہیں رخصت ہونا ہے اور اس کے بعد یا تو اڈیالہ جیل جانا ہے یا پھر لندن فرار ہونا ہے۔ چنانچہ خان صاحب نے مذہب فروشی کا چورن بیچنے کے بعد اب ایک امریکہ مخالف کمپنی کھول لی ہے۔ موصوف اب یہ چورن بیچ رہے ہیں کہ بھٹو کی طرح مجھے بھی امریکہ اقتدار سے نکالنا چاہتا ہے، لیکن بقول صافی لکھ کر رکھ لیں کہ نہ تو یہ چورن بکے گا اور نہ ہی یہ امریکی کمپنی چلے گی۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی پاکستانی بے وقوف ہیں اور نہ امریکی عقل سے پیدل ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کی تشکیل میں عمران خان کا اتنا ہی کردار ہے جتنا کہ پرویز خٹک کا دفاع میں ہے۔ ہاں البتہ چونکہ انہیں وزیراعظم اور وزیر دفاع کی کرسیوں پر بٹھایا گیا ہے، اس لیے ان کی زبانیں چلنے میں افراط و تفریط سے پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے، کسی اور ملک کو نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بھٹو نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا۔ شاہ فیصل کے ساتھ مل کر امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے خلاف اسلامی ممالک کا بلاک بنارہے تھے اور اگرسوویت جنگ کا آغاز نہ ہوتا تو وہ سوویت یونین کے ساتھ بھی تعاون کا سلسلہ آگے بڑھانا چاہتے. لیکن عمران خان نے روس کے ساتھ اسٹرٹیجک معاملات میں کوئی تعاون نہیں کیا۔ جس پائپ لائن کے معاہدے پر دوبارہ دستخط ہوئے، اس کے ایم او یو پر نواز شریف کے دور (2015) میں دستخط ہوئے۔ روس کا پہلا دورہ آصف زرداری نے کیا تھا، روس کے سب سے زیادہ دورے ہمارے آرمی چیفس نے کئے ہیں۔
صافی کہتے ہیں کہ یوکرین کے معاملے پر پاکستان نیوٹرل ہے جبکہ انڈیا، چین اور کئی دیگر ممالک اس میں بڑی حد تک روس کے ہمنوا ہیں۔ امریکہ اس بنیاد پر حکومت گرانا چاہتا تو پھر مودی کی حکومت کیوں نہ گراتا؟ ہاں یورپی یونین اور امریکہ نے انڈیا سے یوکرین سے متعلق اس کی پالیسی پر سفارتی ذرائع سے کھل کر احتجاج کیا۔ بقول سلیم صافی، عمران خان نیازی نے جس طرح اپنی کرسی جاتی دیکھ کر امریکہ کارڈ کھیلا ہے اور دھمکی آمیز خط کی آڑ لی ہے، اس کا پاکستان کو نقصان تو بہت ہو گا لیکن یہ چورن زیادہ عرصہ بکنے والا نہیں۔ مختلف ملکوں میں تعینات سفیر اسی طرح کے مراسلے روز بھیجتے ہیں اور ان میں اسی طرح کی چیزیں ہوتی ہیں، امریکہ میں تعینات سفیر اسی طرح کے مراسلے ماضی کی حکومتوں کو بھی سینکڑوں کی تعداد میں ارسال کر چکے ہیں بلکہ جب آصف زرداری پہلی مرتبہ روس جارہے تھے تو خود ہلیری کلنٹن نے انہیں فون کرکے منع کیا تھا لیکن وہ پھر بھی روس گئے۔ اسی طرح جب نواز شریف ایٹمی دھماکے کررہے تھے تو امریکی صدر خود ان سے رابطے کرکے ایک طرف لالچ دے رہے تھے اور دوسری طرف بھاری رقم کی پیشکش کررہے تھے۔ یہ معمول کی چیزیں ہیں۔ امریکہ کی ناراضی ریاست پاکستان سے ہے نہ کہ عمران سے کیونکہ امریکی جانتے ہیں کہ افغان پالیسی یا پھر چین کے ساتھ دوستی اور تعاون میں عمران کا رتی برابر کردار نہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ زرداری اور نواز شریف اس لیے مغرب کو ناں نہیں کرسکتے کیونکہ ان کے اثاثہ جات مغرب میں ہیں جو کہ جھوٹ ہے۔ چینی جانتے ہیں کہ انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اولاد ہوتی ہے اور عمران کی اولاد برطانیہ میں گولڈ اسمتھ کے گھر جوان ہوئی۔ یوں اگر نواز شریف اور زرداری مالی اثاثہ جات کی وجہ سے ناں نہیں کرسکتے تو پھر عمران کیسے انہیں ناں کرسکتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زرداری یا نواز شریف نے کسی پاکستانی نژاد کے مقابلے میں زیک گولڈ اسمتھ کی انتخابی مہم نہیں چلائی بلکہ یہ سعادت عمران کو حاصل ہوئی۔ اسی طرح چینی یہ بھی جانتے ہیں کہ عمران کی ٹیم کے اہم لوگ یعنی زلفی بخاری وغیرہ برطانیہ سے، رضاباقر اورتابش گوہر کینیڈا جبکہ شہباز گل، ندیم بابر، حفیظ شیخ اور معید یوسف امریکہ سے پاکستان آکر عمران کی حکومتی ٹیم کاحصہ بنے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی وزارت کا کوئی معاملہ برطانیہ سے آئی ہوئی ملیکا بخاری سے پوشیدہ نہیں۔
بقول سلیم صافی، اس تناظر میں دیکھا جائے تو عمران کا یہ دعویٰ کہ میری حکومت کو امریکہ ختم کرنا چاہتا ہے ایسا ہے کہ جیسے علامہ طاہر اشرفی کہیں کہ سعودی عرب کی حکومت ان کو حکومت سے نکالنا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اصل کہانی ہے کیا؟ اصل کہانی یہ ہے کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان، جنہیں اب برسلز بھیج دیا گیا ہے، نے ایک کیفے میں امریکی محکمہ خارجہ کے تھرڈ سیکرٹری سے ملاقات کی۔ اس میں سفیر صاحب نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو نولفٹ کرنے کی وجوہات دریافت کیں۔ جس کے جواب میں انہوں نے پاکستانی ریاست نہ کہ حکومت کی پالیسیوں کا رونا رویا ہوگا۔ ساتھ ہی شاید یہ کہا ہو کہ عمران خان کی حکومت کی پالیسیوں کی کوئی سمت معلوم نہیں، واضح رہے کہ یہ شکایت سعودی عرب، چین، ترکی اور کئی اور دوست ممالک کو بھی ہے۔ شاید اس نے یہ کہا ہو کہ عدم اعتماد کے بعد اگر نئی حکومت آئی اور اس کی خارجہ پالیسی کی سمت معلوم ہوئی تو پھر امریکہ اس سے کام کرنے کے بارے میں سوچے گا۔ اس گفتگو اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ الوداعی ملاقات میں انہوں نے جو تاثر لیا، اس کے منٹس یا نچوڑ ایک کیبل کی صورت میں پاکستانی وزارت خارجہ بھجوا دیئے جس کے بارے میں شروع میں عمران خان اور ان کے ترجمانوں نے یہ تاثر دیا کہ ہمیں براہ راست دھمکی دی گئی ہے یعنی کہ امریکی عہدیدار نے براہ راست خط لکھ کر دھمکی دی ہے۔ لیکن
اب عمران خان خود کہہ رہے ہیں کہ مبینہ دھمکی والا خط امریکی عہدیدار کا نہیں بلکہ پاکستانی سفیر کا مراسلہ ہے، لیکن عمران اور ان کے ترجمانوں کی ڈھٹائی ملاحظہ کریں کہ دو دن سے میرے خلاف ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ چلارہے ہیں کہ سلیم صافی صحافت چھوڑ دو۔
گویا جھوٹے عمران خان اور ان کے ترجمان ثابت ہوئے اور صحافت چھوڑنے کا مطالبہ مجھ سے کیا جارہا ہے۔ الحمدللہ میں پی ٹی آئی کی ان حرکتوں کا اتنا عادی ہوچکا ہوں کہ ان کا مجھ پر رتی بھر اثر نہیں ہوتا لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ بھی کرلیں عمران خان کی یہ امریکہ والی کمپنی نہیں چلے گی۔
