عمران جارحیت اور تشدد کے راستے پر کیوں دوڑ رہے ہیں؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آنے والے عمران خان اقتدار سے بے دخل ہو کر جیل پہنچنے کے باوجود طاقت، جارحیت اور تشدد کے راستے پر بگٹٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ اس دوڑ کا انجام کیا ہو گا، صاف دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں طاقت، ریاست اور مقبول سیاسی قیادت کے تعلق کو سمجھے بغیر موجودہ بحران کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1976 سے 1979 تک پیٹر کانسٹیبل اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف تعینات رہے، انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مقامی کہاوت استعمال کی تھی کہ: ’’بندے دو تھے اور قبر ایک۔‘‘ حماد غزنوی کے مطابق اس کہاوت کا مطلب یہ تھا کہ اگر بھٹو زندہ رہتے، خواہ جیل میں یا جلاوطنی میں، تو جنرل ضیاء الحق اور اسکا اقتدار ہمہ وقت خطرے میں رہتا۔ اور اگر بھٹو دوبارہ اقتدار میں آ جاتے تو ضیاء کو آئین کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی پر سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسی خدشے کے تحت ضیاء نے بھٹو کو جسمانی طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کا جوڈیشل مرڈر کرایا۔

 

حماد غزنوی یاد دلاتے ہیں کہ چار دہائیاں گزرنے کے بعد خود سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا۔ ان کے مطابق بھٹو کی پھانسی آج بھی پاکستان کی جمہوری قوتوں کے لیے اخلاقی اور سیاسی طاقت کا سب سے بڑا حوالہ ہے۔ اس واقعے سے ریاست اور سیاست، دونوں نے درست یا غلط، کئی اسباق سیکھے۔ بھٹو کے بعد ریاست نے کسی بھی مقبول سیاسی رہنما کو قانون اور عدالت کے ذریعے سب کے سامنے ختم کرنے کی جرأت نہیں کی۔ بے نظیر بھٹو کو بھی ’خفیہ ہاتھ‘ نے نشانہ بنایا، عدالت اور قانون کو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔

 

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد بھی سیاسی رہنما گرفتار ہوتے رہے، جیلیں کاٹتے رہے، سزائیں بھگتتے رہے اور جلاوطنی اختیار کرتے رہے، لیکن وہ زندہ سلامت ان مراحل سے نکل آئے۔ ریاست اور سیاست کے درمیان وہ خطرناک بیانیہ دوبارہ کبھی نہیں ابھرا کہ ’بندے دو ہیں اور قبر ایک‘۔ انکے مطابق سنجیدہ اور ذہین سیاست دانوں نے شعوری طور پر ایسے کسی بیانیے سے گریز کیا جو طاقت کے مراکز میں اضطراب پیدا کرے۔ تاہم حماد غزنوی کے بقول تحریک انصاف کے بانی عمران خان وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے پاکستانی سیاسی تاریخ کے تمام اسباق کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران ریاست کی طاقت کا مقابلہ تشدد کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں، یعنی وہ تشدد پر ریاست کی آئینی اجارہ داری کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 9 مئی 2023ء اور اس نوعیت کے دیگر واقعات اسی سوچ کا نتیجہ تھے۔

 

حماد غزنوی کے مطابق یہ تمام کوششیں ناکام ہوئیں اور آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گی، کیونکہ تشدد کسی گوریلا تنظیم کی حکمتِ عملی تو ہو سکتی ہے، کسی بڑی سیاسی جماعت کی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ کمزور فریق کو تشدد کے راستے سے کبھی کامیابی نہیں ملی۔ تشدد کے استعمال سے تو طاقتور بھی گریز کرتے ہیں، کجا یہ کہ کوئی کمزور طاقتور کے مقابل کھڑا ہو جائے۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے حماد ایک سادہ مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی علاقے میں نیا ایس ایچ او تعینات ہو اور محلے کا کوئی بااثر شخص اپنے لوگوں کے ساتھ تھانے کا گھیراؤ کر لے کہ یہ افسر تعینات نہیں ہونے دیا جائے گا، اور پھر اسکی تعیناتی کے بعد تھانے کو جلانے کی کوشش بھی کی جائے، تو ایسا کرنے والوں کا انجام کیا ہو گا؟ ان کے بقول نتیجہ واضح ہے: طاقتور ادارے کی جانب سے سخت ردعمل۔ طاقت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں ہمیشہ وہی جیتتا ہے جو زیادہ طاقتور ہو۔

 

حماد غزنوی کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عمران خان اپنی ناکامیوں کو سیاسی حکمتِ عملی کی کمزوری ماننے کے بجائے اسے طاقت کے مراکز سے براہِ راست ٹکراؤ میں بدل رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاستی اداروں پر دباؤ ڈال کر یا تشدد آمیز مزاحمت کے ذریعے سیاسی راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے، حالانکہ پاکستان کی تاریخ بار بار ثابت کر چکی ہے کہ ایسا راستہ ہمیشہ بند گلی میں جا کر ختم ہوتا ہے۔ انکا کہنا یے کہ ریاست کے ساتھ تصادم کا بیانیہ نہ صرف خود عمران بلکہ ان کی جماعت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اس بیانیے نے تحریک انصاف کو ایک عوامی جماعت کے بجائے مسلسل محاذ آرائی کی علامت بنا دیا ہے، جس کا نتیجہ سیاسی تنہائی، تنظیمی کمزوری اور عوامی ہمدردی کے بتدریج خاتمے کی صورت میں نکل رہا ہے۔

 

حماد غزنوی کے بقول مسئلہ یہ نہیں کہ عمران خان اقتدار سے باہر ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ اقتدار سے باہر رہنے کی سیاست سیکھنے پر آمادہ نہیں۔ دنیا بھر میں جمہوری سیاست دان اقتدار سے نکل کر ادارہ جاتی سیاست، عوامی رابطے اور پارلیمانی جدوجہد کے ذریعے واپسی کی کوشش کرتے ہیں، لیکن عمران خان نے اس کے برعکس ریاستی طاقت کے مقابل کھڑے ہونے کا راستہ اختیار کیا، جو کسی بھی طور ایک کمزور فریق کے حق میں نہیں جاتا۔ وہ کہتے ہیں کہ طاقت کے مراکز سے تصادم کے بجائے اگر عمران آئینی، سیاسی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کرتے تو نہ صرف ان کے لیے گنجائش موجود تھی بلکہ ان کی جماعت کے لیے مستقبل کی سیاست کے دروازے بھی کھلے رہ سکتے تھے۔ مگر تشدد، اشتعال اور جارحانہ بیانیہ ان تمام امکانات کو خود اپنے ہاتھوں سے بند کر رہا ہے۔

عمران نے پشتون عوام کو دہشتگردی کی آگ میں کیسے جھونکا؟

حماد غزنوی خبردار کرتے ہیں کہ تاریخ کبھی بھی ان سیاست دانوں کے حق میں فیصلہ نہیں دیتی جو طاقت کے توازن کو سمجھے بغیر تصادم کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ریاست، چاہے کمزور ہو یا مضبوط، تشدد کے مقابلے میں ہمیشہ اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہے، اور اس جنگ میں فرد یا جماعت قربانی کا بکرا بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق آج کا پاکستان طاقت کے جس شدید عدم توازن سے گزر رہا ہے، اس میں عقل مندی، سیاسی تدبر اور صبر ہی وہ راستے ہیں جو کسی بھی مقبول لیڈر کو بچا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر انجام وہی ہوتا ہے جو تاریخ بارہا دکھا چکی ہے۔

Back to top button