عمران: جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی سائنس کا آئن سٹائن


معروف اینکر پرسن اور صحافی جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ہم عمران خان سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اس کی ایک خوبی کا اعتراف کرنا ہوگا کہ وہ بیانیہ گھڑنے کا ایکسپرٹ ہے۔
لہذا اگر عمران کو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی سائنس کا آئن سٹائن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ دنیا میں 2000 تک سچ سچ اور جھوٹ جھوٹ ہوتا تھا لیکن سوشل میڈیا کی ایجاد کے بعد اب سچ وہ ہے جسے لوگ سچ مان لیتے ہیں، خواہ وہ کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اب جھوٹ وہ ہے جسے سننے اور دیکھنے والے جھوٹ سمجھ لیں، خواہ وہ کتنا بڑا سچ کیوں نہ ہو۔ اور عمران اس سائنس کا آئن سٹائن ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اصل خبر اور سوشل میڈیا کے بیانیے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کپتان کے سیاسی مخالفین شاید اس فرق سے واقف نہیں ہیں لہٰذا وہ اسکی جانب سے کروائی جانے والی گیندیں گن کر روزانہ واپس چلے جاتے ہیں۔
بقول جاوید چوہدری، عمران ایک بیانیہ بناتا ہے اور پھر اسے اپنی میڈیا ٹیم کے ذریعے ہر شخص کی زبان تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی اس کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے۔ عمران خان نے 2014 میں جعلی اسمبلی اور چار حلقوں کا بیانیہ دیا اور تب تک پیچھے نہیں ہٹا جب تک اس نے چار حلقوں میں نئے الیکشن نہ کرا لیے۔ پینتیس پنکچر والا بھی کپتان کا اخک کامیاب بیانیہ تھا، پاناما لیکن کے وزن پر لیگ کی ٹرم بھی عمران نے ہی متعارف کرائی اقامہ کا لفظ بھی اس نے اٹھایا اور پھر یہ شریف فیملی کے ساتھ جوڑ دیا۔ آپ آج بھی گوگل میں اقامہ ٹائپ کریں، نواز شریف اور خواجہ آصف کے اقامہ کی خبریں نکل آئیں گی۔ یہ صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ مولانا ڈیزل کی اصطلاح ہو یا بارش ہوتی ہے کا ٹرینڈ، عمران بیانیہ بناتا رہا اور اس کی سوشل میڈیا ٹیم اسے عوام کے ذہنوں تک پہنچاتی رہی۔ آپ آج بھی اس کی کارکردگی دیکھ لیں، عمران نے مراسلے کو خط اور خط کو دھمکی اور دھمکی کو سازش بنا دیا اور عوام اب اس نعرے کو سچ مان رہے ہیں حالانکہ یہ خط کسی امریکی کا نہیں بلکہ پاکستانی سفیر کا لکھا ہوا تھا۔ عمران خان پرائم منسٹر کو کرائم منسٹر اور حکومت کو امپورٹڈ گورنمنٹ کہہ رہا ہے اور یہ دونوں لفظ بھی اب ہر شخص کی زبان پر ہیں، امپورٹڈ گورنمنٹ کے ٹرینڈ نے پاکستان میں اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور اسے پوری ریاستی طاقت بھی نہیں روک پا رہی۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا باقی تمام سیاسی جماعتوں کے پاس عمران کی اس تکنیک کا کوئی توڑ موجود نہیں۔ پیپلز پارٹی کسی حد تک عمران کا مقابلہ کرتی ہے، سلیکٹڈ پرائم منسٹر کا ٹائٹل بلاول بھٹو نے دیا تھا اور یہ آج تک قائم ہے‘ 2021 کے بجٹ کو پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ بھی بلاول نے کہا تھا اور یہ بھی خاصا پاپولر ہوا تھا‘ لیکن فواد چوہدری نے پی ڈی ایم کو ’’ابو بچائو تحریک‘‘ کا نام دے کر ان دونوں اصطلاحات کو اڑا دیا‘ اب یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے عمران اتنی آسانی سے بیانیہ کیسے بنا لیتے ہیں اور یہ اسے عوام تک کیسے پہنچا لیتے ہیں؟ اس کے پیچھے تین کلیے ہیں، پہلا کلیہ سوشل میڈیا ہے۔ یہ 2000 میں آیا تھا لہٰذا 2000 کے بعد پیدا ہونے والے تمام بچے اخبار‘ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے بجائے سوشل میڈیا کی پیداوار ہیں اور یہ بچے اس وقت عمران کے ہاتھ میں ہیں‘ میں آج جب بھی باہر نکلتا ہوں تو نوجوان مجھے ٹیلی ویژن اور اخبار کے بجائے فیس بک اور یوٹیوب کی وجہ سے پہچانتے ہیں‘ یہ کالم بھی اخبار کے بجائے سوشل میڈیا پر پڑھتے اور سنتے ہیں‘ نوجوان مجھ سے یہ بھی پوچھتے ہیں آپ کس اخبار میں لکھتے ہیں اور کس چینل پر کام کرتے ہیں‘ مجھے شروع شروع میں حیرت ہوتی تھی لیکن پھر ایک دن میرے بیٹے نے میرا ڈیٹا نکال کر سامنے رکھا اور بتایا‘ لوگ اب آپ کو اخبار یا ٹی وی پر نہیں دیکھتے‘ آپ کو سوشل میڈیا پر ٹریک کر رہے ہیں۔
بقول جاوید، مجھے اس وقت پتا چلا میں اب سوشل میڈیا کے رحم و کرم پر ہوں‘ سیاست دانوں کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے‘ نوجوان انھیں ٹی وی یا اخبار پر نہیں سوشل میڈیا پر دیکھ اور سن رہے ہیں اور یہ میڈیم اس وقت صرف عمران کے ہاتھ میں ہے‘ باقی جماعتوں اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک اور دس کا فرق ہے اور یہ فرق دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے لہٰذا آج کی ڈیجیٹل ورلڈ کا ہریوزر عمران خان کا بیانیہ سن اور مان رہا ہے۔
بیانیے کی کامیابی کا دوسرا کلیہ یہ ہے کہ عمران تقریر کا فن جانتا ہے ‘ یہ پوائنٹس کے بغیر بولتا ہے اور آواز میں انرجی اور لہجے میں جذبہ ہوتا ہے‘ لفظ عام اور سادہ ہوتے ہیں جب کہ باقی تمام سیاست دانوں کی تقریریں بور ہوتی ہیں‘ یہ مشکل سے مشکل لفظ بولتے ہیں‘ پرانے گھسے پٹے شعر سناتے ہیں اوربات میں ربط بھی نہیں ہوتا۔ ربط عمران کی تقریروں میں بھی نہیں ہے لیکن یہ آواز اور انرجی سے اسے کور کر لیتے ہیں‘ میں نے 2014ء تک میڈیا انڈسٹری میں عمران کے سب سے زیادہ انٹرویوز کیے تھے‘ میں آج اسکا مخالف ہونے کے باوجود یہ اعتراف کرتا ہوں کہ اس نے ایک بار بھی انٹرویو کے دوران میچ فکس نہیں کیا اور مشکل سے مشکل اور بدتمیز سے بدتمیز سوال بھی فیس کیا‘ اس کے جواب بھی مختصر ہوتے ہیں جب کہ باقی 80 فیصد سیاست دان لمبے جواب دیتے ہیں اور کراس کوئسچننگ پر ناراض ہو جاتے ہیں جس سے ظاہر ہے ان کا اپنا امیج برباد ہو جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو اور ن لیگ کی مریم نواز میں بھی انرجی اور فلو ہے۔ مریم میں ایگریشن بھی ہے لیکن عمران اور ان میں تین اور دس کا فرق ہے۔
بقول جاوید چوہدری، عمران کے کامیاب بیانیے کا تیسرا کلیہ یہ ہے کہ اسنے ترجمانوں کے نام پر اپنی دس پندرہ ڈمیز بنا لی ہیں۔ یہ تمام لوگ بھی اپنے کپتان کی طرح لائوڈ ہیں، ان کی آواز میں بھی انرجی ہے اور چہرے پر ایگریشن بھی ہوتا ہے لہٰذا یہ بھی عمران کی طرح دیکھنے اور سننے والوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں‘ عمران ان لوگوں کی اہمیت سے واقف تھا لہٰذا اس نے پونے چار برسوں میں کابینہ سے زیاہ ترجمانوں کے ساتھ میٹنگز کیں اور یہ ترجمان آج اس کا بیانیہ کیری کر رہے ہیں۔ ہمیں یہاں ایک اور چیز بھی ذہن میں رکھنی چاہیے‘ سوشل میڈیا کے لیے مواد یعنی (Content) گولہ بارود ہوتا ہے‘ فرض کیجیے آپ کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے لیکن فوج کے پاس رائفل اور گولی نہ ہو تو اس فوج کا کیا فائدہ ہوگا؟ کیا وہ معاشی بوجھ نہیں ہو گی؟ عمران خان اس حقیقت کو سمجھتا ہے لہٰذا اس نے اپنی سوشل میڈیا آرمی بھی بنائی اور یہ اسے روز اسلحہ یعنی مواد بھی فراہم کرتا ہے اور اٹھارہ اٹھارہ سال کے لڑکے کمال کر دیتے ہیں‘ پی ٹی آئی کے پاس کانٹینٹ پروڈکشن کی بہت اعلیٰ ٹیم ہے‘ یہ بے انتہا شیطان لوگ ہیں‘ یہ جب کسی کے پیچھے لگتے ہیں تو اس کی ناک رگڑ کر رکھ دیتے ہیں اور برطانیہ جیسے ملک اور لندن جیسے شہر میں بھی لوگ میاں نواز شریف کے گھر کے سامنے جمع ہو جاتے ہیں اور طوفان بدتمیزی برپا کر دیتے ہیں۔
جاوید چوہدری سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ پی ٹی آئی لوگوں کو موٹی ویٹ کر کے انھیں روز نواز شریف کے گھر اور دفتر کے سامنے کیسے لے جاتی ہے اور اس کے مقابلے میں ن لیگ آج تک عوام کو بنی گالا یا زمان پارک میں جمع کیوں نہیں کر سکی؟ یہ پی ٹی آئی کی کانٹینٹ پروڈکشن کا کمال ہے‘ اب سوال یہ ہے کیا عمران کا طریقہ کار اخلاقی ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہرگز بھی نہیں، یہ حرکتیں غیراخلاقی بھی ہیں اور غیر قانونی بھی لیکن کیا آپ صرف اخلاق سے سوشل میڈیا ٹرولنگ کا مقابلہ کر سکیں گے؟ جی نہیں‘ جس طرح ہاکی کے کھیل میں ہاکی‘ فٹ بال کے کھیل میں فٹ بال اور کرکٹ کے میچ میں بلا استعمال کرنا پڑتا ہے بالکل اسی طرح بیانیے کا مقابلہ بیانیہ ہی کر سکتا ہے اور میدانی حقیقت یہ ہے عمران ایک آئینی حکومت کو بھی امپورٹڈ ثابت کر رہا ہے لیکن ایک جمہوری حکومت توشہ خانہ کی گھڑی‘ کف لنکس اور ہار کی چوری کو بھی چوری ثابت نہیں کر پا رہی۔ پچھلی حکومت نے پونے چار سال میں ملک کو 22 ہزار ارب روپے کے قرضوں کے سوا کچھ نہیں دیا لیکن خان اس کے باوجود ایمان دار بھی ہے اور مدینہ کی ریاست کا والی بھی۔ دوسری جانب عمران کے سیاسی مخالفین اکٹھے تو ہو گئے ہیں لیکن نہ تو اپنا اخلاص ثابت کر پا رہے ہیں اور نہ مہارت۔ خان روز تقریر کرتا ہے اور آپ اپنا کام چھوڑ کر اسے جواب دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ کیوں؟ یہی عمران خان کے بیانیے کی کامیابی ہے۔

Back to top button