عمران خان اور اشرف غنی ایک دوسرے کے آمنےسامنے کیوں آگئے؟


پاکستان کی جانب سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران افغانستان پر تیزی سے قبضہ کرنے والے افغان طالبان کی حمایت کے تاثر نے پاک افغان تعلقات اس حد تک کشیدہ کر دیے ہیں کہ اب وزیر اعظم عمران خان اور صدر اشرف غنی بھی کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے ہیں اور الزامات لگا رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین طالبان کے معاملے پر شروع ہونے والی الزامات کی جنگ اب میڈیا سے نکل کر دونوں ملکوں کی اعلیٰ ترین شخصیات کی زبانوں تک پہنچ گئی ہے۔ 16 جولائی کو ازبکستان کے شہر تاشقند میں صورت حال تب کشیدہ ہو گئی جب افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ دس ہزار جنگجو اس کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں آ گے ہیں۔ تاہم وہاں موجود وزیراعظم عمران خان اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے اشرف غنی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور انہیں بے بنیاد قرار دے دیا۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سے دونوں ملکوں کے عوام اور سرکاری حلقوں کے مابین الفاظ کی جنگ جاری ہے اور افغانستان کی جانب سے پاکستان پر مسلسل طالبان کی حمایت کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان کے نائب صدر نے تو یہ الزام بھی عائد کردیا ہے کہ پاکستان نے انہیں یہ دھمکی دی ہے کہ اگر افغان طالبان کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ان پر فضائی حملے شروع کیے گے تو پاکستان افغانستان پر فضائی حملے کردے گا۔
دوسری جانب افغانستان کے مختلف شہروں میں افغان طالبان کی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خبروں کے مطابق ایک سو سے زیادہ شہروں میں ان کے قبضے سے پہلے افغان سیکورٹی فورسز نے ہتھیار پھینک کر شہر طالبان کے حوالے کیے ہیں اور ان کی جانب سے کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی۔ اس دوران امریکی اور افغان حکومتیں پاکستان سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس لائیں اور افغان امن معاہدے کی پاسداری یقینی بنانے کی کوشش میں مدد کریں۔ تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ معاہدہ امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہوا تھا اور پاکستان اس میں فریق نہیں ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ پاکستان اس وقت افغان حکومت کے مقابلے میں طالبان کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے جس کا واضح ثبوت فوجی انخلا کے دوران امریکہ کو بلوچستان میں فوجی اڈے فراہم نہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ افغان طالبان نے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ اگر کسی ملک نے امریکہ کو فضائی اڈے فراہم کیے تو اسے دشمن تصور کیا جائے گا۔
اس ساری صورتحال میں ازبکستان کے شہر تاشقند میں وسطی جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس جاری ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اسنے دس ہزار جنگجو أفغانستان بھیجے ہیں تاکہ افغان طالبان کی مدد کی جا سکے۔ دوسری جانب کانفرنس میں موجود وزیر اعظم عمران خان نے اشرف غنی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورت حال کے لیے پاکستان کو ذمے دار ٹھہرانا ناانصافی ہے کیونکہ دنیا میں اگر افغان امن کے لیے کوئی ملک کوشش کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے جس کے لیے اس نے سب سے زیادہ قربانیاں بھی دی ہیں۔
عمران خان نے اشرف غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب پاکستان کہہ رہا تھا کہ طالبان سے بات چیت کریں تو تب ایسا نہیں کیا گیا اور اب جب طالبان فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں تو بات چیت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اب طالبان آپ سے بات چیت کیوں کریں گے۔ انہیں تو اپنی فتح نظر آ رہی ہے
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید بھی تاشقند میں موجود تھے جنہوں نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت میں کہا کہ ’پاکستان افغانستان میں کسی دھڑے کی حمایت نہیں کر رہا اور چاہتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرکے مسئلے کا حل نکالیں۔‘ ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں دراندازی نہیں کر رہا بلکہ افغانستان کی طرف سے پاکستان میں دراندازی ہو رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں 17 جولائی کے روز سے شروع ہونے والی امن کانفرنس بھی افغانستان کی درخواست پر ملتوی کر دی گئی ہے جس میں افغانستان کے اہم ترین رہنماؤں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، سابق صدر حامد کرزئی، گلبدین حکمت یار، احمد ولی مسعود، نائب صدر احمد ضیا مسعود اور دیگر نے شرکت کرنی تھی۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ تین روزہ کانفرنس افغانستان کی درخواست پر ملتوی کی گئی ہے جو اب شاید عید کے بعد کسی وقت ہو۔ پاکستانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کانفرنس میں افغان طالبان کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔

Back to top button