عمران خان اپنے جلسوں پر کتنے کروڑ روپیہ لٹا رہے ہیں؟


ایک محتاط اندازے کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے ایک عوامی جلسے کے انتظامات پر ہونے والا خرچ کم از کم ایک کروڑ روپے ہوتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ان دنوں غیر یقینی کی سی صورت حال ہے، جہاں عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد آنے والی نئی حکومت انتخابات کروانے یا ’سخت‘ معاشی فیصلے لینے کے درمیان الجھی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مسلسل عوامی رابطوں میں مصروف ہے جہاں انہوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے تاہم تاحال تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جبکہ ان کی جانب سے فوری انتخابات کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک اور پھر ووٹنگ کے نتیجے میں جس دن عمران خان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا، اس کے اگلے ہی روز سے تحریک انصاف نے اپنی عوامی رابطہ مہم کا آغاز کر دیا تھا اور اب تک اس سلسلے میں وہ پاکستان کے متعدد شہروں میں جلسے کر چکی ہے۔

صرف پی ٹی آئی ہی نہیں بلکہ ان دنوں دیگر سیاسی جماعتیں بھی جلسے کرنے میں مصروف ہیں، جن میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز بھی پیش پیش دکھائی دے رہی ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی فی الحال اس میدان میں کچھ زیادہ آگے ہے، جو اب تک کراچی، پشاور، سیالکوٹ، لاہور اور ملتان سمیت کئی شہروں میں جلسے کر چکی ہے۔ اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان، صوابی اور کوہاٹ میں بھی جلسوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی مخالفین کی جانب سے تحریک انصاف کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ’اب ان کی اے ٹیم بھی نہیں رہی ہے،‘ مگر پی ٹی آئی کے حالیہ جلسوں کو دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا کہ انہیں بظاہر ’فنڈز‘ کا کوئی مسئلہ درپیش ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے پی ٹی آئی جلسوں پر اخراجات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی یہ جاننے کی بھی کوشش کی ہے کہ ان جلسوں کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ جلسے کہاں منعقد کیے جاتے ہیں۔ صوابی جلسے کی اگر بات کی جائے، تو وہ جلسہ ایک سرکاری گراؤنڈ میں منعقد کیا گیا تھا۔ سرکاری گراؤنڈ میں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے جلسہ منعقد کرنے کا کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا، تاہم مقامی حکومت سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی جلسے کے انعقاد پر سب سے زیادہ اخراجات ساؤنڈ سسٹم کے ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسوں میں ساؤنڈ سسٹم زیادہ تر مواقع پر لاہور سے تعلق رکھنے والی کمپنی ’ڈی جے بٹ‘ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جیسا کہ گذشتہ عام انتخابات سے قبل اسلام آباد میں عمران خان کے 120 سے زائد دنوں پر محیط دھرنے میں بھی یہ ذمہ داری ڈی جے بٹ کی تھی۔ ساؤنڈ سسٹم اور کرسیاں کسی بھی جلسے کا اہم جز ہوتے ہیں اور اسی پر خرچ بھی سب سے زیادہ آتا ہے۔

17 مئی کو پی ٹی آئی کی جانب سے کوہاٹ میں جلسہ منعقد کیا گیا۔ ہم اسی جلسے کے ممکنہ اخراجات کا ہی تخمینہ لگانے کی کوشش کر لیتے ہیں۔ کوہاٹ جلسے میں لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم کی ذمہ داری خان ڈی جے نامی کمپنی کو سونپی گئی تھی۔

خان ڈی جے کے عہدیدار ندیم خان نے بتایا کہ جلسے میں ساؤنڈ سسٹم اور لائٹیں لگانے کا ٹھیکہ انہیں دیا گیا تھا، جس کے انہوں نے 65 لاکھ روپے لیے ہیں۔ اسی طرح جلسہ گاہ میں لگائی جانے والی ’فوم والی کرسیاں‘ دیگر سٹیل کی کرسیوں سے تھوڑی مہنگی ہوتی ہیں۔ ان پر آنے والے خرچ کے حوالے سے کیٹرنگ کے کاروبار سے وابستہ محمد سلیم نے بتایا کہ کوہاٹ جلسے میں جو کرسیاں لگائی گئی تھیں ان کا فی کرسی کرایہ 25 سے 30 روپے تک ہے۔ اب اگر دس ہزار کرسیوں کا بھی حساب لگایا جائے تو ان کا کرایہ تقریباً تین لاکھ روپے بنتا ہے۔ سلیم نے بتایا کہ ’کرسیوں کے ساتھ اکثر سٹیج کے لیے کارپٹ وغیرہ بھی رکھے جاتے ہیں جس کا کرایہ الگ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے کارپٹ کا کرایہ تقریباً دو سو روپے ہے۔‘ ساؤنڈ اور کرسیوں کی بات تو ہو گئی، لیکن پی ٹی آئی کے جلسوں میں ویڈیو، سوشل میڈیا اور سیٹلائٹ فیڈ کے لیے الگ کمپنی کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ کوہاٹ جلسے کو ویڈیو اور سیٹلائٹ کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے ایک عہدیدار نےبتایا کہ سیٹلائٹ کیمروں کا ایک دن کا کرایہ ایک لاکھ روپے تک ہے۔

اسی طرح پشاور میں پروڈکشن ہاؤس کے مالک محمد آفتاب نے بتایا کہ ویڈیو سسٹم جس میں اگر پانچ کیمرے شامل ہوں اور ساتھ میں ڈرون کیمرے بھی ہوں تو اس پر تین لاکھ تک خرچ آتا ہے۔ آفتاب نے بتایا کہ ’یہ خرچ جلسے کے چھوٹے بڑے ہونے پر بھی منحصر ہے اور جلسہ انتظامیہ پر بھی، کہ ان کو کتنے کیمروں کی ضرورت ہے اور اسی حساب سے کیمروں کا کرایہ چارج کیا جاتا ہے۔‘ اب مجموعی طور پر اگر ایک جلسے پر خرچے کا تخمینہ لگایا جائے تو ساؤنڈ سسٹم، ویڈیو خدمات، کرسیاں اور دیگر انتظامات پر کوہاٹ کے جلسے میں تقریباً 72 لاکھ روپے کا خرچ آیا۔ اس خرچے میں جلسے کے لیے لائے گئے کنٹینرز جو سٹیج وغیرہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ہیلی کاپٹر شامل نہیں ہیں۔ گذشتہ دنوں پی ٹی آئی نے ضلع مردان میں جلسہ کیا تھا، جس میں اسلام آباد سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ عمران خان سرکاری ہیلی کاپٹر میں جلسہ گاہ پہنچے تھے۔ اسی طرح ایبٹ آباد میں جلسے کے لیے بھی عمران خان خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر میں ہی گئے تھے۔

اسی حوالے سے خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر علی محمد سیف نے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ محمود خان سرکاری امور کی ادائیگی کے لیے اسلام آباد میں تھے اور وہ خود مردان جلسے کے لیے جا رہے تھے، تو عمران خان کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔ بیرسٹر سیف نے بتایا تھا: ’یہ وزیراعلیٰ کی صوابدید ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں کس کو بٹھاتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ 2018 میں بھی جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو انہیں قومی احتساب بیورو نے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ’غیر قانونی‘ استعمال کی وجہ سے طلب تھا۔ اس کیس میں نیب کا موقف تھا کہ عمران خان نے ہیلی کاپٹر کا جو کرایہ جو ادا کیا وہ بہت کم ہے۔ تب عمران خان نے ایم آئی 17 اور ایکروئیول ہیلی کاپٹر استعمال کیا تھا جو خیبر پختونخوا حکومت کا تھا اور انہوں نے فی گھنٹے کے حساب سے حکومت کو صرف 28 ہزار روپے ادا کیے تھے۔

تاہم نیب کا موقف تھا کہ اگر یہی ہیلی کاپٹر عمران خان کسی نجی کمپنی سے ہائر کرتے تو ان کو ایم آئی 17 کے لیے فی گھنٹہ تقریباً دس لاکھ روپے جبکہ ایکروئیول ہیلی کاپٹر کے لیے فی گھنٹہ تقریباً پانچ لاکھ ادا کرنے ہوتے، لیکن انہوں نے حکومت کو صرف 28 ہزار فی گھنٹہ ادا کیا۔

اسی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے پاس موجود ہیلی کاپٹر کا فی گھنٹہ کرایہ تقریباً دو لاکھ روپے ہے اور یہی ہیلی کاپٹر عمران خان اور وزیراعلیٰ جلسوں میں شرکت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایئرفورس ٹیکنالوجی نامی ویب سائٹ کے مطابق ایم آئی 17 ہیلی کی سپیڈ فی گھنٹہ کے حساب سے 250 کلومیٹر ہے۔

اب اگر اسی حساب سے اسلام آباد اور مردان کے فاصلے کو دیکھا جائے تو اس پر تقریباً ایک لاکھ کا خرچ آئے گا۔ کسی بھی سیاسی جلسے کے لیے سکیورٹی پولیس فراہم کرتی ہے اور بڑے جلسوں کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں پولیس تعینات کی جاتی ہے۔ اسی حوالے سے پولیس حکام سے بات کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ جلسوں کو سکیورٹی فرہم کرنے پر کتنا خرچہ آتا ہے، لیکن کسی بھی اہلکار نے اس پر بات کرنے سے گریز کیا۔ تقریباً ایک ماہ قبل پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ ان کی پارٹی نے ’نامنظور ڈاٹ کام‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ لانچ کی ہے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندہ اکٹھا کیا جا سکے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت کے خلاف مہم چلانے کے لیے فنڈ کی ضرورت ہوگی۔‘

نامنظور ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر ان تمام افراد اور ممالک کے نام درج ہیں جو بیرون ملک سے اس فنڈ میں پیسے بھیج رہے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق اب تک اس فنڈ میں سب سے زیادہ چندہ برطانیہ سے آیا ہے جو مجموعی فنڈ کا تقریباً 30 فیصد ہے۔ اسی طرح دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جہاں سے 28 فیصد سے زیادہ چندہ اکٹھا کیا جا چکا ہے جبکہ تیسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات ہے جہاں سے اب تک 11 فیصد سے زائد چندہ اکٹھا ہوا ہے۔ چوتھے اور پانچویں نمبر پر کینیڈا اور سعودی عرب ہیں جہاں سے اب تک 10فیصد اور چھ فیصد سے زائد چندہ اکٹھا ہوا ہے۔ تاہم ویب سائٹ پر چندے کے حوالے سے مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں جیسے کہ اب تک مجموعی طور پر کتنا چندہ اکٹھا ہوا ہے۔

اسی فنڈ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گِل نے پورٹل کھلنے کے اگلے ہی دن ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پورٹل کھولنے کے 24 گھنٹوں میں ہی سات لاکھ ڈالر جمع ہو گئے ہیں تاہم جب اس ٹویٹ کو چیک کیا تو اسے ڈیلیٹ کیا جا چکا تھا۔ تاہم محتاط اندازے کے مطابق عمران خان کے ایک عوامی جلسے کے انتظامات پر کم از کم ایک کروڑ روپیہ خرچ ہو جاتا ہے۔

Back to top button