عمران خان ایک رات بھی جیل نہیں کاٹ سکے گا

وزیراعظم عمران خان کے عتاب کا شکار ہو کر جیل بھگتنے والے آن لائن نیوز ایجنسی کے مالک محسن بیگ نے کہا ہے کہ مجھ سمیت وزیر اعظم کے تمام سیاسی مخالفین نے بہادری سے جیل کاٹی ہے لیکن جس روز خان جیل گیا، اس کے لئے ایک رات گزارنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ محسن بیگ کا بھی عمران سے اتنا ہی گہرا تعلق تھا جتنا کسی زمانے میں کپتان کا جہانگیر ترین کے ساتھ ہوتا تھا۔ لیکن پھر وقت بدلا اور عمران کے اپنی دیگر کئی دوستوں کی طرح محسن سے بھی اختلافات پیدا ہو گئے جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں بھی جیل کی ہوا کھانا پڑ گئی۔
سلیم صافی کو خصوصی انٹرویو میں محسن بیگ نے کہا کہ عمران خان کے اقتدار کے دن پورے ہو چکے ہیں اور اب وہ وہ محلے کے بچوں کی طرح روندی مارنے پر اتر آئے ہیں، محسن بیگ نے کہا کہ دو باتیں طے ہیں، ایک تو یہ کہ عمران خان اگلے چند روز میں سابق وزیراعظم ہو جائیں گے اور دوسرا یہ کہ انہیں جلد جیل کی ہوا بھی کھانا پڑے گی۔ یہی وہ وقت ہوگا جب پتہ چلے گا کہ عمران خان کتنے بہادر ہیں۔ محسن بیگ نے کہا کہ عمران کو زندگی میں ایک مرتبہ پولیس کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن انہوں نے گرفتاری دینے کی بجائے گھر کی دیوار پھلانگ کر بھاگ جانے کو ترجیح دی۔ تاہم جیل کی دیوار پھلانگنا ان کے لیے مشکل ہوگا اور جیل کاٹنا ان کے لیے ناممکن ہوگا۔
رہائی کے بعد سلیم صافی کو انٹرویو میں محسن بیگ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اصل میں مجھے مارنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ میرے گھر حملہ کرنے والی ٹیم کا بنیادی مقصد مجھے اغوا کر کے میرا قتل کرنا تھا اور اسی لئے میں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگوں کو گرفتاری دینے کی بجائے مزاحمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھتے تھے اگر میرا بیٹا گرفتار کر لیا گیا تو میں ان کے پائوں میں گر جائوں گا اور رہائی کیلئے معافیاں مانگوں گا۔ لیکن میں نے ان کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے اور بہادری سے جیل کاٹی۔ اس پر سلیم صافی نے پوچھا کہ عمران خان آپ کیخلاف آخری حد تک کیوں جانا چاہتے ہیں،کیا آپ کے پاس کوئی ان کے راز ہیں؟
اس سوال پر محسن بیگ نے کہا کہ میرے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میں صحافت کے ساتھ سیاست بھی کرتا ہے۔ محسن نے کہا لیکن میرا یہ موقف ہے کہ اگر آپ کرکٹر ہو کر سیاست کر سکتے ہیں تو میں بھی صحافی ہونے کے ساتھ سیاست کر سکتا ہوں کیونکہ بطور صحافی سیاست میرا سبجیکٹ ہے۔
سلیم صافی نے پوچھا کہ کیا عمران اب واقعی جا رہا ہے یا اس مرتبہ بھی بچ جائے گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے محسن بیگ کا کہنا تھا کہ کورٹ میں مجھے کسی نے پوچھا کہ عمران خان کیلئے کوئی پیغام دینا چاہیں گے تو میں نے کہا تھا کہ ‘خان، تو تو گیا۔ یہ اب گیا اور اسے جانے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
ایک اور سوال کے جواب میں محسن بیگ نے کہا کہ عمران خان نے مسلسل ثابت کیا ہے کہ وہ ایک احسان فراموش شخص ہے جس نے اپنے ہر محسن کو ڈسا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے نیوٹرل کو جانور قرار دینا ایک توہین آمیز بات ہے اور اس کا بنیادی مقصد فوجی اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداری ختم کروانا ہے جو کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران کی میرے خلاف ہونے کی ایک بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ میں اپوزیشن کی حمایت کر رہا تھا تھا۔ محسن بیگ نے کہا کہ میں بھی انسان ہوں، آپ بھی انسان ہیں، اگر میں کسی کی سائیڈ لیتا ہوں تو آپ کو کس بات کی تکلیف ہوتی ہے۔
سلیم صافی نے محسن بیگ سے پوچھا کہ کیا عمران میں ہمت ہے کہ وہ اپنی خطرناک ہو جانے کی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے پنگا لے سکیں؟ جواب میں محسن بیگ کا کہنا تھا کہ میرے سمیت آصف زرداری، نواز شریف، شہباز شریف اور۔مریم نواز نے جیلیں کاٹیں اور صعوبتیں سہی ہیں لیکن اگر عمران خان نے خطرناک ہونے کی کوشش کی تو میں انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ وہ تو جیل میں ایک رات بھی نہیں کاٹ پائیں گے۔
