عمران خان سیاست میں گالم گلوچ کلچر کے بانی کیسے بنے؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار مجاہد بریلوی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے میدان سیاست میں داخل ہونے کے بعد سے ‘گالم گلوچ کے کلچر’ کو فروغ ہی نہیں دیا بلکہ اسے سکّہ رائج الوقت بنادیا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف صحافی مجاہد بریلوی کہتے ہیں کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد پشاور، کراچی اور لاہور کے جلسوں میں سابق وزیرِاعظم عمران خان نے مزید جوش و خروش سے بپھرے ہوئے حامیوں کے سامنے ایک بار پھر اپنی مخالف جماعتوں، خاص طور پر زرداری اور نواز خاندان کو چور، ڈاکو، ڈیزل اور بھگوڑے جیسے القابات سے نوازا ہے۔ عمران خان عوامی جلسوں میں کوشش کرتے ہیں کہ تقاریر میں اپنے حامیوں کی اخلاقی اور مذہبی حوالوں سے تربیت کریں مگر 3، 4 منٹ بھی نہیں گزرتے کہ عوام کو ان کے منہ سے چور، ڈاکو اور ڈیزل سننے کی طلب بے چین کرنا شروع کردیتی ہے۔ عمران جو بہرحال عوام کی نبض جانچنے میں کمال حاصل کرچکے ہیں، اور نعروں اور گانوں کی گونج میں محو ہوجاتے ہیں۔
لیکن بقول مجاہد بریلوی، اب ہماری اسکرینوں پر جو خبریں، سیاسی شو اور ڈرامے چلتے ہیں انہیں منٹ نہیں گزرتے کہ ‘ریموٹ’ پر انگلیاں چینل تبدیل کرنے لگتی ہیں۔ خان صاحب کے حامی تو خیر ان کی عقیدت و محبت میں گھنٹوں اسکرین سے لگے ہوتے ہیں مگر ان کے مخالفین کی مجبوری یہ ہے کہ ‘ساری اسکرینوں پر ہی ان کا گھنٹوں راج ہوتا ہے’۔ تحریک انصاف اور عمران خان کے سیاسی مخالفین ہی نہیں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کا بھی خیال ہے کہ عمران نے معروف اصطلاح میں ‘گالم گلوچ کے کلچر’ کو فروغ ہی نہیں دیا بلکہ اسے سکّہ رائج الوقت بنادیا ہے۔
ایک حد تک یہ بات درست بھی ہے مگر بدقسمتی سے سیاست میں ‘گالم گلوچ’ کی روایت کا آغاز قائدِاعظم کی رحلت کے بعد ہی ہوگیا تھا۔ سب سے زیادہ حیرت اور افسوسناک امر یہ ہے کہ بھرے جلسے میں غیر ملکی ڈگری یافتہ، شستہ و شائستہ، قائدِاعظم کے دست راست اور پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان جیسے خاندانی نوابزادے سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔
حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شیخ مجیب الرحمٰن کی ادھوری یادیں شائع کی ہیں۔ وہ صفحہ نمبر 171 پر لکھتے ہیں کہ کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ لیاقت علی خان نے وزیرِاعظم حسین شہید سہروردی کے بارے میں کہا تھا کہ ‘بھارت نے یہ کتّا ہم پر چھوڑ دیا ہے’۔
پھر صفحہ نمبر 173 پر ہے کہ نواب صاحب ایک اور جلسے سے خطاب کرتے ہیں کہ ‘جس نے بھی عوامی لیگ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی کوشش کی اس کا سر توڑ دوں گا’۔ پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے قائد اور وزیرِاعظم کا یہ بیان یقیناً ریڈیو پاکستان کی آرکائیو میں محفوظ ہوگا۔ مجاہد بریلوی بتاتے ہیں کہ سابق گورنر جنرل غلام محمد تو اپنے وزرائے اعلیٰ کو بھری محفل میں مغلضات سے نوازتے تھے۔ اس کا ذکر ممتاز بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب نے اپنی سوانح شہاب نامہ میں بڑی تفصیل اور مزے لے کر کیا ہے۔ شہاب نامہ میں ہی قدرت اللہ شہاب اس وقت کے گورنر مغربی پاکستان نواب کالا باغ کی زبان سے سیاستدانوں کے بارے جو پھول جھڑے تھے اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک دن شام کو گورنر ہاؤس کے لان میں نواب کالا باغ کے سامنے چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی کا ذکر چھڑگیا۔ نواب صاحب نے اپنی مونچھوں کو انگلیوں سے مروڑتے ہوئے کہا یہ ظہور ناقابلِ برداشت ہورہا ہے۔ پاس بیٹھے ایک پولیس افسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘اگر یہ باز نہیں آیا تو اس پر یہ السیشن کتا چھوڑ دوں گا’۔ نواب کالا باغ کے ظلم و بربریت کی کہی ان کہی بے شمار داستانیں ہیں جو ان دنوں شائع نہ ہوسکیں۔نواب کالا باغ کا انجام بھی بڑا عبرتناک ہوا۔ ان کا قتل ان کے بیٹوں کے ہاتھوں ہی ہوا بلکہ ان کی قبر تک کو جلا دیا گیا۔
مجاہد بریلوی کہتے ہیں کہ جنرل ایوب خان اور یحییٰ خان کے دورِ حکمرانی نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصانات پہنچائے حتیٰ کہ وطنِ عزیز دولخت ہوگیا مگر اپنے مخالفین کے بارے میں ان کے بیانات کہیں ریکارڈ میں محفوظ نہیں۔ البتہ پاکستانی سیاست کے سحر انگیز اور مقبول ترین رہنما ذوالفقار علی بھٹو کے طرزِ سیاست اور طرزِ خطابت کی تفصیل میں جاؤں تو ایک دفتر مرتب ہوجائے۔ بھٹو صاحب میں ذہانت و فطانت کے ساتھ حسِّ مزاح بھی تھی۔ اس دور میں آج کی طرح اسکرینیں نہیں تھیں مگر جلسے جلوس اور محفلوں میں ان کے جملے ‘پر لگا کر’ اڑتے تھے۔ انہوں نے تب کے صوبہ سرحد کے سابق وزیرِاعلیٰ خان عبدالقیوم خان کو ایک بار جلسے میں ڈبل بیرل خان کی پھبتی کسی جو ساری زندگی ان کے نام کے ساتھ جڑی رہی۔ دلچسپ بات دیکھیں کہ بعد میں خان صاحب بھٹو صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے وزیرِاعلیٰ بنے۔
بھٹو صاحب اقتدار سے محروم ہوئے تو ایئر مارشل اصغر خان نے ان کے خلاف تحریک چلائی۔ بھٹو صاحب رہا ہوئے اور ایئر مارشل مخالف کیمپ میں گئے تو ایئر مارشل کو آلو خان کے نام سے خطاب کرتے جس سے مجمع لوٹ پوٹ ہوجاتا۔ ایئر مارشل اس پھبتی کو کبھی نہیں بھولے اور جب بھٹو صاحب کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک چلی تو ان کے اس جملے نے بڑی شہرت پائی کہ ‘میں بھٹو کو ہالہ کے پُل پر لٹکاؤں گا’۔
مجاہد بریلوی کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب مخالفین پر پھبتیاں کسنے کے علاوہ اپنی پارٹی رہنماؤں سے جن الفاظ میں اظہار محبت کرتے وہ بھی انکے نام کے ساتھ ساری زندگی کے لیے چپک جاتا۔
انہون نے ممتاز بھٹو کو گورنر بنایا تو انہیں ٹیلینٹڈ کزن کا نام دیا۔ عبدالحفیظ پیرزادہ کو ایک بار سوہنا منڈا کہا جو ساری زندگی ان کے نام کے ساتھ جڑا رہا۔ یقیناً پاکستانی سیاسی تاریخ میں بھٹو صاحب جیسا کرشمہ ساز عوامی سیاستدان پیدا نہیں ہوا۔ اسی لیے بھٹو اپنی شہادت کے نصف صدی بعد بھی پیپلز پارٹی اور ان کے نواسے کی صورت میں لاکھوں عوام میں زندہ رہے۔
مجاہد بریلوی بتاتے ہیں کہ 90 کی دہائی میں بھٹوز اور شریفوں کے درمیاں سیاسی جنگ میں دونوں جانب سے ایسے ایسے زہریلے جملے آتے تھے کہ آج ضرب المثل ہیں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کا، زرداری کا ‘پیٹ پھاڑ کے پیسے نکلوانا’ ہمارے کپتان کی ہر تقریر میں ٹیپ کا بند ہوتا ہے۔ نواز شریف کی وہ تقریر بھی مشہور ہے جب اسلام آباد میں بھارتی وزیرِاعظم راجیو گاندھی سے وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو نے ہاتھ ملایا۔ اس پر میاں صاحب نے کہا تھا کہ اس ناپاک ہاتھ سے میں کبھی ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔ حال ہی میں بلاول نے میاں صاحب سے ہاتھ ملایا تو مجھے خیال آیا کہ سیاست کتنی بے رحم اور سفاک ہوتی ہے۔

Back to top button