عمران خان طاقتوں کو قابل قبول نہیں رہے

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے ایبسولوٹلی ناٹ کہنے پرعمران خان قوتوں کو قابل قبول نہیں رہے۔
کراچی میں مزمل اسلم کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مجھے موجودہ حکومت کی مدد کے لیے کہا گیا، میں کیوں ان کی مدد کروں جنہوں نے ہمیں باہر نکالا؟ ہم 75 سال ڈکٹیشن لیتے رہے ہیں لیکن عمران خان نے کہا کہ ایبسولوٹلی ناٹ، عمران خان قوتوں کو قابل قبول نہیں رہے جب کہ اتحادی بھی ٹیلی فون کال کا انتظار کرتے ہیں۔
سینیٹر شوکت ترین نے کہااگر پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے دونوں ادوار کے ایکسچینج ریٹ کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے 1988 سے 1999 تک 200 فیصد تک اس میں تنزلی کی، 2008 سے 2018 تک انہوں نے اس میں 100 فیصد تک کمی کی، ہمارے دور میں ایکسچینج ریٹ 123 سے 178 پر گیا، یہ 50 فیصد بھی نہیں ہے لیکن یہ لوگ اس پر بھی شور مچاتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہماری کارکردگی موجودہ حکومت سے بہتر تھی، ہمارے دور ميں ٹیکس وصولی ريکارڈ سطح پرکی گئی، ہم نے 55 لاکھ نئی نوکریاں دی ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد تھے۔ ہم نے احساس پروگرام اور کامیاب جوان پروگرام دیا، صحت کارڈ 400 ارب روپے کا سالانہ پروگرام ہے، کامیاب پروگرام میں کم شرح سود پر قرضہ دیتے ہیں۔ ان کے آتے ہی اسٹاک مارکيٹ 3 ہزار پوائنٹس گر گئی، ريکارڈ ٹيکس حاصل کرنے والے چيئرمين ايف بی آر چلے گئے۔
سابق وزیر خزانہ نے کہاجمہوریت تسلسل سے چلتی ہے، برسر اقتدار لوگوں کو 5 سال کے درمیان چھیڑیں گے تو ردعمل آئے گا۔ عمران خان کو زبردستی ہٹايا گيا، يہ سازش کيسے ہوئی عمران خان کئی مرتبہ جلسوں ميں بتاچکے، 10 اپريل کی رات کو بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے،ہم اپوزیشن میں ہیں، اگر ہم نے کوئی کرپشن کی ہے تو کیسز لائے جائیں۔
شوکت ترین نے کہا کہ پرائس کنٹرول کی 6 ہفتوں میں کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، مجھے واپس لے کر آئیں میں قیمتیں کنٹرول کر کے دکھاتا ہوں۔
شوکت ترین کا کہنا تھاموجودہ حکومت گھبراہٹ میں ہے، موجودہ حکومت نے افراتفری کی صورتحال پیدا کردی ہے، میں ہوتا تو چند چیزوں کی درآمدات پر ہی پابندی لگاتا، یہ یہ تمام اشیا اسمگل ہوکر پاکستان میں آئیں گی۔
