عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنا لی


سابق وزیراعظم عمران خان نے فوجی ترجمان کی بھرپور وضاحت کے باوجود اپنی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش کا بیانیہ سچ ثابت کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں کسی بیرونی سازش کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے نکلنے کے لیے عمران خان نے خود فوجی قیادت سے رابطہ کیا تھا تاکہ انہیں محفوظ راستہ مل سکے، لیکن آرمی چیف کی کوشش کے باوجود اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے کر انہیں محفوظ راستہ دینے پر نہیں مانی۔
تاہم اب عمران خان کے ایما پر تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے فوجی ترجمان کے دعوے کو جھٹلاتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عمران نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے فوج سے مدد نہیں مانگی تھی اور یہ کہ تین آپشنز عمران نے نہیں بلکہ فوج نے دی تھیں۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں شیریں مزاری نے کہا کہ ‘میں ریکارڈ پر کہہ رہی ہوں کہ بطور وزیراعظم عمران خان نے ڈیڈلاک پر بریک تھرو ختم کروانے کے لیے فوج کو نہیں بلایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے تب کے وزیردفاع پرویز خٹک کے ذریعے ملاقات کا وقت مانگا اور وزیراعظم کے استعفے، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں حصہ لینے یا نئے انتخابات کی تین تجاویز پیش کیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ عمران خان استعفے کا آپشن کیوں دیتے جب وہ پہلے ہی مسلسل کہتے رہے تھے کہ وہ استعفیٰ کبھی نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران نے تحریک عدم اعتماد کو حکومت تبدیل کرنے کی بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا، تو وہ یہ تجاویز کیوں دیتے’۔
شیریں مزاری کی جانب سے یہ بیان فوجی ترجمان کی جانب سے دیئے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان کو بحران سے نکلنے کے لیے تین آپشنز اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہیں آئی تھیں۔ میجر جنرل بابرافتخار نے کہا تھا کہ وزیر اعظم آفس کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف کو اپروچ کیا گیا تھا کہ اس ڈیڈ لاک میں کوئی بیچ بچاؤ کی بات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت اس وقت آپس میں بات کرنے پر تیار نہ تھی تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم آفس گئے اور وہیں پر ان تین آپشنز پر بات ہوئی کہ کیا ہو سکتا ہے، ان میں سے ایک تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی آپشن تھی، دوسری وزیراعظم کا استعفیٰ تھا اور تیسری آپشن یہ تھی کہ اپوزیشن اپنی تحریک واپس لے اور وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات کی طرف چلے جائیں۔
عمران خان کی قریبی ساتھی شیریں مزاری کے موقف کے برعکس فوجی ترجمان نے بتایا کہ فوجی قیادت تیسرے آپشن کو اپوزیشن قیادت کے پاس لے گئی، اور اس پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ لیکن حزب اختلاف نے کہا کہ ہم اس طرح کا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے اور اپنے منصوبے پر عمل کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ شیریں مزاری کا تازہ موقف عمران خان کے اپنے سابقہ موقف کے بھی برخلاف ہے کیونکہ اس سے قبل عمران خان نے خود رواں ماہ کے شروع میں اے آر وائی کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ فوجی قیادت کو تین آپشنز ان کے ساتھیوں کی جانب سے دی گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ قبل از وقت انتخابات سب سے بہتر آپشن ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے فوری استعفے کے پیغام بارے سوال پر عمران خان نے کہا تھا کہ استعفیٰ کے بارے میں تو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 9 اپریل کی رات جب عمران خان کو اپنی شکست یقینی نظر آئی تو انہوں نے آخری حد تک جاتے ہوئے گند ڈالنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد یہ افواہ چل پڑی کے انہوں نے آرمی چیف کو برطرف کردیا ہے، اسی وجہ سے آدھی رات کو سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دروازے بھی کھلوائے گئے اور کچھ پٹیشنز بھی دائر ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب وزارت دفاع کی جانب سے عدم تعاون کے بعد عمران خان کا آرمی چیف کو برطرف کرنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا تو انھوں نے قومی اسمبلی جاکر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا، لیکن انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہ ملی اور بنی گالہ بھجوا دیا گیا۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت عظمیٰ کی آخری رات عمران پر تشدد کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر جو تصاویر وائرل کی گئیں وہ فوٹو شاپ کا نتیجہ تھیں۔

Back to top button