عمران خان نے اسٹیٹ بینک کا کنٹرول بھی IMF کو دے دیا

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف کی پاکستان کو قرض دینے کی نئی شرائط کے تحت حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو مکمل طور پر خود مختار کر دیا یے لیکن اس فیصلے کو معاشی ماہرین ملکی معیشت کے ساتھ ایک کھلواڑ قرار دے رہے ہیں کیونکہ اب اسٹیٹ بینک بھی آئی ایم ایف کے کنٹرول میں چلا جائے گا۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی خاطر اس کی شرائط تسلیم کرتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 میں ترامیم کی ہیں جن کے تحت سٹیٹ بینک اب مکمل خود مختار ادارہ بن جائے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے بعد حکومت کا کردار ختم ہو جائے گا اور سٹیٹ بینک خود ہی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو قرض ادا کرے گا۔ اس ترمیم کے مطابق جب سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر میں کمی ہو گی تو حکومت کو اسے ہر صورت میں پیسے ادا کرنا پڑیں گے جس کے لیے اسے غیر ملکی قرضہ حاصل کرنا پڑے گا یعنی قرض کو ادا کرنے کے لیے مزید نیا قرض لینا پڑے گا۔ اسی طرح حکومت کا سٹیٹ بینک سے ادھار لینا بھی بند ہو جائے گا اور اسے کمرشل بینکوں سے ادھار لینا پڑے گا جو مہنگا ہوتا ہے اور یوں ملکی معیشت کا بیڑہ مکمل طور پر غرق ہو جائے گا۔

آئی ایم جلکے دباؤ پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین میں تجویز کردہ ترامیم کے مطابق سٹیٹ بینک کے کردار کا از سر نو تعین کیا گیا ہے جن میں داخلی طور پر مہنگائی اور مالیاتی نظام کو استحکام دینے کو اولیت دی گئی ہے جبکہ معاشی ترقی میں اس کی مدد کو فہرست میں آخری نمبر پر رکھا گیا ہے۔ ان ترامیم کے تحت سٹیٹ بینک حکومت کو ادھار نہیں دے گا لیکن اگر سٹیٹ بینک میں سرمائے اور ذخائر منفی سطح پر گر جاتے ہیں تو وفاقی حکومت کو اسے ضروری رقم فراہم کرنا پڑے گی۔

مجوزہ ترامیم کے تحت نیب، ایف آئی اے اور دوسرے وفاقی و صوبائی اداروں کو بینک کے ملازمین، ڈائریکٹرز، ڈپٹی گورنروں اور گورنر کو ان کے فرائض کی ادائیگی پر کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ سٹیٹ بینک کے قانون میں تحت ملک کی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کو مربوط رکھنے کے لیے ایک کوآررڈینیشن بورڈ ہوتا ہے۔ تاہم ترامیم کے تحت اب گورنر سٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ باہمی رابطے سے یہ کام کریں گے۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ مجوزہ ترامیم کے مطابق سٹیٹ بینک کے بورڈ کا رکن نہیں ہو گا۔

اس کے علاوہ گورنر سٹیٹ بینک کی مدت ملازمت تین سال کی بجائے پانچ سال ہو گی اور مجوزہ قانون میں تین برس کی توسییع کی بجائے پانچ سال توسیع کی تجویز دی گئی ہے۔ موجودہ قانون میں صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ذمہ داریاں نہ نبھانے پر گورنر کو اس کے عہدے سے ہٹا سکتا ہے تاہم مجوزہ ترمیم کے تحت صدر بہت ہی سنگین غلطی پر، جس کا فیصلہ عدالت کر ے گی، گورنر کو ہٹا سکتا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت دیہی علاقوں، صنعتی شعبوں، ہاوسنگ اور دوسرے شعبوں کے لیے سٹیٹ بینک کا قرض دینا لازمی ہے تاہم ترامیم کے تحت اب حکومت کی جانب سے ایسے شعبوں کے لیے قرض کی فراہم کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ان ترامیم کو منفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خود مختاری کے نام پر ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سٹیٹ بینک کے قانون میں ترامیم کر کے اسے خود مختار بنا کر معیشت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان ترامیم کے بعد حکومت کا کردار ختم ہو جائے گا اور سٹیٹ بینک بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو قرض ادا کرے گا۔

ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ ان ترامیم کے تحت سٹیٹ بینک اور اس میں کام کرنے والے ہر قسم کی جوابدہی سے بالاتر ہو جائیں گے اور ان کے اقدامات کو قانون کے شکنجے میں نہیں لایا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ نئے بورڈ میں حکومتی نمائندگی سرے سے موجود ہی نہیں ہو گی تو کیسے ملک کی زری اور مالیاتی پالیسی کو مربوط بنایا جائے گا۔

دوسری جانب حکومت پنجاب کے منصوبہ بندی، ترقی اور اقتصادی امور کے مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ نے سٹیٹ بینک کے قانون میں ترامیم کر کے اسے خود مختاری دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے یہ ترامیم متنازعہ بنائی جا رہی ہیں ورنہ ان ترامیم میں ایسی کوئی قباحت نہیں جس پر شور مچایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کا کردار مالیاتی نظام میں استحکام لانا، مہنگائی اور ایکسچینج ریٹ کی نگرانی کرنا ہوتا ہے اور یہ ترامیم ان کے اس کردار کو زیادہ مضبوط بنا رہی ہیں۔ انھوں نے ترامیم کے تحت کسی حکومتی ادارے کو سٹیٹ بینک کے کاموں پر ایکشن نہ لینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا یہ مقصد نہیں کہ احتساب نہیں ہو گا۔ ’بینک کا داخلی طور پر احتساب کا نظام ہو گا تاہم یہ نہیں ہو سکتا کہ سٹیٹ بینک کا کوئی بندہ مانیٹری پالیسی اور ایکسچینج ریٹ پر فیصلہ لینے سے اس لیے کترائے کہ اسے نیب کا خوف ہو۔‘

بینکر منیر کمال نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ معقول حد تک سٹیٹ بینک کی خود مختاری ہونی چاہیے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ تاہم انھوں نے تازہ ترامیم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے سٹیٹ بینک اگلے سو سال کے لیے آئی ایم ایف کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ’آئی ایم ایف پروگرام تو دو تین سال میں ختم ہو جائے گا تو پھر سٹیٹ بینک کی خود مختاری ان کے فائدے میں کس طرح جائے گی۔

اس معاملے پر ڈاکٹر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ سٹیٹ بینک کے کردار کے از سر نو تعین سے پتا چل جاتا ہے کہ معاشی ترقی حکومت کی ترجیحات میں تیسرے نمبر پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب سٹیٹ بینک کا کردار معاشی ترقی اور ملازمتیں پیدا کرنے میں ختم ہو جائے گا اور ان کا کام مہنگائی پر قابو پانا ہو گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت سٹیٹ بینک سے پیسے لے کر ترقیاتی کاموں پر لگاتی ہے تاہم اب یہ پیسے بھی نہیں ملیں گے کیونکہ اب کمرشل بینکوں سے ہی پیسہ لیا جائے گا جو مہنگا ہوتا ہے اور حکومت کے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ افراط زر کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ ہو گا جس سے نجی شعبے کو جانے والا قرضہ مہنگا ہو گا اور معاشی سرگرمی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button