عمران خان نے الیکشن سے پہلے ہی شیدے کی ٹلی کیسے بجائی؟

سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے الیکشن سے پہلے ہی اپنے پرانے یارغار اور معتمد خاص شیخ رشید عرف شیدے ٹلی کو جھنڈی دکھائے دی۔ اپنے قریبی ساتھیوں کو ڈسنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے عمران خان نےشیخ رشید کی درخواست مسترد کرتے ہوئے آئندہ انتخابات کیلئے شیدے ٹلی کے حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دئیے ہیں۔بانی پی ٹی آئی کے شیخ رشید سے نظریں بدلنے کے بعد شیدے ٹلی کو اپناحلقہ بدلنا پڑ گیا۔

خیال رہےکہ پی ٹی ائی نے شیخ رشید کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 56 سے شہریار ریاض اور این اے 57 سے سیمابیہ طاہر کو میدان میں اترانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے صدر پی ٹی آئی چوہدری پرویز الہٰی اور چیئرمین بیرسٹر گوہر خان سے ملاقات کے دوران ان سے اپنے حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدوار کھڑے نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے شیخ رشید احمد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے متعدد حلقوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ کئی سابق وفاقی وزرا سمیت سابق ارکان اسمبلی کو بھی ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔متعدد وکلا اور نئے چہرے بھی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جمعے کی شام بالاخر پاکستان تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کی جس میں سابق سپیکر اسد قیصر سمیت سابق وفاقی وزرا مراد سعید، علی امین گنڈا پور، زرتاج گل اور کئی دیگر ارکان اسمبلی کے نام شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے راولپنڈی کے حلقہ این اے 56 اور 57 میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے انکار کرتے ہوئے ان کے مقابلے میں اپنے دو امیدوار میدان میں اتارے ہیں جن میں ایک خاتون ہیں۔ شیخ رشید کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 56 سے شہریار ریاض اور این اے 57 سے سیمابیہ طاہر کو تحریک انصاف نے ٹکٹ دیے ہیں۔

خیال رہے کہ شہریار ریاض نے 2018 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس سے قبل وہ 2008 میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر راولپنڈی سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2013 کے انتخابات میں انہیں ن لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ پارٹی سے دلبرداشتہ ہوئے اور 2018 میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔ شہریار ریاض راولپنڈی یوسی ناظم بابو ریاض کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی ٹیکساس یونیورسٹی سے بی بی اے اور سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ راولپنڈی چیمبر اف کامرس کے بھی رکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 2002 میں کیا تھا لیکن کامیابی نہ حاصل کر سکے۔

تحریک انصاف نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے مقابلے میں این اے 57 سے سیمابیہ طاہر کو میدان میں اتارا ہے۔سیمابیہ طاہر پاکستان تحریک انصاف کی دیرینہ کارکن ہیں۔ وہ اسلام آباد ویمن ونگ اور یوتھ ونگ کا حصہ رہی ہیں جبکہ 2018 میں انہوں خواتین کی مخصوص نشستوں پر پنجاب اسمبلی کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ سیمابیہ طاہر اس وقت منظر عام پر آئی تھیں جب 2014 کے لاک ڈاؤن کے دوران احتجاج کرتے ہوئے وہ پولیس کے تشدد کا نشانہ بنیں۔ سیمبایہ طاہر سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں۔

خیال رہے کہ راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے دو حلقے این اے 57/56 غیرمعمولی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ بالخصوص این اے 56 میں ماضی میں جنرل (ر) ٹکا خان سمیت کئی اہم شخصیات نے اس حلقے سے الیکشن لڑا لیکن انہیں شیخ رشید کے مقابلے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم موجودہ صورتحال میں جب عین موقع پر تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے شیخ رشید سے نظریں بدل لیں ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی سیاسی یا انتخابی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ ان بھتیجے شیخ راشد شفیق جو این اے 57 راولپنڈی سے الیکشن لڑ رہے ہیں ان کے مقابل بھی پی ٹی آئی کی ایک کارکن خاتون سیمابیہ طاہر کو کھڑا کردیا ہے جس کے بعد اب دونوں حلقوں سے شیخ رشید اور راشد شفیق کو قلم دوات کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنا پڑے گا۔ اس طرح ’’چچا اور بھتیجے‘ کی نشستیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ این اے 56 میں اب مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی اور عوامی لیگ کے شیخ رشید اور پی ٹی آئی کے شہریار ریاض کا مقابلہ ہوگا جس میں حنیف عباسی کی کامیابی کے امکانات زیادہ نظر آرہے ہیں۔

Back to top button