عمران خان نے پاکستانی کرکٹ کو کس طرح برباد کیا؟


وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات، فواد چوہدری نے یہ چونکا دینے والا اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا دورہ کرنے والی انٹرنیشنل ٹیموں کی کرکٹ سیریز پاکستان ٹیلی وژن پر اس لیے نہیں دکھائی جائے گی کہ ایسا کرنے کے لیے پی ٹی وی کو نشریاتی حقوق ایک بھارتی کمپنی سے خریدنے پڑتے۔ اُنہوں نے اسے حکومت پاکستان کی پالیسی قرار دیا لیکن پاکستان اور بیرونی ممالک میں کرکٹ کے کروڑوں شائقین نے حکومت کے اس ناروا فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
کرکٹ بورڈ نے بھی کنفرم کیا ہے کہ کپتان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی وژن کو پاکستان اور انٹر نیشنل کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچوں کے نشریاتی حقوق ایک بھارتی کمپنی سے خریدنے کی اجازت نہیں دی گی کیونکہ ایسا کرنے سے بھارتی جبر کا سامنا کرنے والے کشمیریوں کے جذبات مجروع ہوں گے۔ بتقیا گیا ہے کہ حکومت کی موجودہ پالیسی بھارت سے کسی قسم کی تجارت اور دیگر روابط رکھنے کے خلاف ہے تاوقتیکہ مودی حکومت جموں اور کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 بحال کردے۔ اس سے پہلے حکومت نے بھارت سے کپاس اور چینی درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی تھی حالانکہ ان دونوں اجناس کی ملک میں شدید ضرورت تھی تاکہ مقامی طور پر ان کی رسد بحال کرکے بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کیا جاسکے۔
تاہم معروف صحافی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی عمران خان کو پاکستانی کرکٹ کی بربادی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ حکومتی فیصلہ ایک ٹوپی ڈرامہ ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تشدد، جبر اور خون ریزی کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان ٹیلی وژن، دونوں بھارتی کمپنیوں اور پیشہ ور ماہرین سے عشروں سے بزنس کررہے ہیں۔ حتیٰ کہ موجودہ حکومت کے دورمیں پاکستان سپر لیگ اور انٹر نیشنل ٹیموں کے تمام میچ پاکستان ٹیلی وژن پر دکھائے گئے۔ اس وقت بھی ابوظہبی میں ہونے والے پی ایس ایل کے میچ پاکستان کرکٹ بورڈ سے کنٹریکٹ رکھنے والے بھارتی ماہرین دکھارہے ہیں۔ یہ وہی ماہرین ہیں جنہیں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان آنے اور میچ کور کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی ویزے اور سکیورٹی کلیئرنس فراہم کی تھی! 
نجم سیٹھی کا کہنا یے کہ بلاشبہ پاکستان میں یکے بعد دیگرے قائم ہونے والی مختلف حکومتوں کے دوران پی سی بی کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھا جائے، اور یہ کہ بھارتی حکومت دونوں ممالک کے درمیان تلخی اور تعلقات کے تناؤ کے باوجود کھیل کود کے روابط نہ توڑے۔ درحقیقت 1980ء کی دہائی میں سرحد کے دونوں طرف اصطلاح، ”کرکٹ سفارت کاری“  وضع کی گئی۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر تھے۔ اُس وقت کرکٹ میچوں کے ذریعے سیاسی حدت کو کم کیا جاتا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب کیا ہورہا ہے؟
سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی پاکستان میں کرکٹ نشریات کے لیے سونی سے مذاکرات کررہا ہے۔ سونی کے زیادہ تر مالکانہ حقوق بھارتی شہریوں کے پاس ہیں۔ یہ آئی سی سی کے تحت جنوبی ایشیا میں ہونے والے کرکٹ کے عالمی مقابلوں کو دکھانے کے حقوق رکھتا ہے۔ ماضی میں پی ٹی وی اور جیو سپورٹس کرکٹ نشریات کے لیے بولی دینے والے عالمی اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں میچ دکھانے کے حقوق حاصل کر لیتے تھے۔ لیکن جب سے سونی نے اجارہ داری حاصل کرتے ہوئے کچھ حریفوں کو ختم کردیا ہے، کرکٹ نشریات کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رقم کی کمی کا سامنا کرنے والے پاکستان ٹیلی وژن کو ایک ناخوش گوار صورت حال کا سامنا ہے۔ اگر یہ رقم کا انتظام نہیں کرتا تو پاکستان کے بے تاب شائقین کو کرکٹ میچ نہیں دکھا سکے گا۔ اس کے علاوہ اشتہارات سے حاصل ہونے والی بھاری بھرکم رقم سے بھی محروم ہوجائے گا۔ ان حالات میں پی ٹی وی کے باس، فواد چوہدری نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی ایک نادر ترکیب سوچی ہے۔ اُنہوں نے بھارتی کمپنیوں کے ساتھ کرکٹ بزنس کومقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے ساتھ جوڑکر سیاسی نمبر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس دوران اُنہوں نے ایک برطانوی کمپنی، ”سونی یو کے“کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کا عندیہ دیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ سونی کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کی ایک ایجنٹ کمپنی کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے جس کا مالک ایک پاکستانی ہے۔ لیکن اس صورت میں یہ معاہدہ مزید مہنگا ہوجائے گا کیوں کہ ایجنٹ کمپنی اس سہولت کے عوض کمیشن کامطالبہ کرے گی۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس کمیشن میں کسی کا حصہ نکالاجائے گایا نہیں۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ کرکٹ کے عالمی مقابلے پاکستانی ٹیلی وژن سکرین پر نشر ہوں گے، بھارتی پیشہ ور ماہرین اور کیمرے بھی ہوں گے اور اس دوران مقبوضہ جموں اور کشمیر میں ظلم و جبر کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
سیٹھی کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے پی سی بی کو چلانے کے لیے مہنگی انتظامیہ ”درآمد“ کی ہے۔ اس سے کارکردگی تو خیر بڑھی نہیں، انتظامی اخراجات ضرور دوگنا ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک پاکستانی کرکٹ کبھی ایک اور کبھی دوسرے بحران کا شکار ہورہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا 2014 کا جمہوری انداز میں تیار کیا گیا دستور، جس کا مسودہ سپریم کورٹ کے دو سابق جج صاحبان نے تیار کیا اور جسے سپریم کورٹ آف پاکستان نے منظور کیا تھا، اس کو ایک طرف اُٹھا کر پھینک دیا گیا ہے۔ اس کی بجائے اپنی مرضی سے نامزدکردہ بورڈ پی سی بی کے معاملات چلا رہا ہے۔ ہمارے ملک میں کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ سرکاری محکموں کی ٹیمیں تھیں جہاں سے کھلاڑی نکھر قومی سطح ُپر آتے تھے۔ گزشتہ 72 سالوں سے یہی سلسلہ چل رہا تھا۔ ان کا مجموعی طور پر سالانہ بجٹ 1.5 ارب روپے تھا۔ لیکن اب اس نظام کو یکسر ختم کرکے اس کی جگہ علاقائی کرکٹ کی تنظیمیں قائم کردی گئی ہیں۔ انہیں کرکٹ بورڈ کے افسران چلاتے ہیں۔ان کے مالی وسائل بھی کرکٹ بورڈ فراہم کرتا ہے لیکن انہیں صوبے کے وہ سرکاری افسران کنٹرول کرتے ہیں جو صوبائی سطح پر سپورٹس بورڈ بھی چلانے کے اہل نہیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے انٹر نیشنل برانڈ کو 2020 ء اور 2021  ء میں سوچے سمجھے بغیر کیے جانے والے تعطل نے سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کے ناظرین کی تعداد میں چالیس فیصد تک کمی آئی ہے۔ چنانچہ اس کی کمرشل قدر بھی گری ہے۔ رواں برس صورت حال پہلے سے بھی بدتر ہے کیوں کہ ابوظہبی میں ایک دن میں دو میچ اُس وقت ہوں گے جب ناظرین کی تعداد پرائم ٹائم کا بمشکل ایک فیصد ہوتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی لائسنس فیس، کھلاڑیوں کی فیس امریکی ڈالروں میں جب کہ پاکستانی کرنسی کی قدرڈالر کے مقابلے میں چالیس فیصد گرچکی ہے اور پھر کوویڈ بحران کی وجہ سے گیٹ آمدنی نہ ہونے کے برابر۔ ان معاملات نے پی ایس ایل فرنچائزز کی کمرتوڑ دی ہے۔ کئی ایک فروخت کنندگان کے ساتھ کمرشل معاہدے خطرے میں ہیں۔ بزنس پارٹنر اپنے نقصانات کی تلافی کے لیے عدالتوں سے رجوع کررہے ہیں۔ شفافیت کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پارلیمنٹ کی سپورٹس کمیٹی کو بھی اپنے کھاتے دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ اس سے بھی بدتربات یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ انتظامیہ، سکیورٹی، سلیکشن کمیٹی، قومی کوچنگ کے شعبوں میں سفارشیوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ اب تواُن سنہرے دنوں کی یادیں بھی ماند پڑتی جارہی ہیں جب پاکستان ٹیسٹ، ون ڈے اور T-20 کی نمبر ون ٹیم تھا۔ اس نے چمپئینز ٹرافی بھی جیتی تھی۔ لیکن یہ 2015 سے 2018 تک کی بات ہے جب سابق انتظامیہ نے کرکٹ کے معاملات درست کیے، پاکستان سپر لیگ کا آغاز کیا اوراس کی کاوشیں انٹر نیشنل کرکٹ کو پاکستان میں واپس لائیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق تلخ ترین ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ زوال کی گھاٹی میں ایک ایسے وقت اتر رہی ہے جب ہمارا 1992 کا ہیرو عمران خان پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا سرپرست اعلیٰ ہے۔ سیٹھے کے مطابق یہ عمران خان ہیں جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کا وہ ماڈل نافذ کیا جو نہیں چل رہا ہے۔ یہ عمران خان ہیں جنہوں نے خود کرکٹ بورڈ کے ایسے افسران لگائے ہیں جنہیں کرکٹ کی الف ب کا بھی علم نہیں۔ اور یہ عمران خان ہیں جنہیں پاکستان کے محبوب کھیل کی تباہی کاحتمی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

Back to top button