عمران خان نے کرپشن سکینڈلز میں نواز شریف کو ٹکر کیسے دی؟

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے سوشل میڈیا کی مدد سے اپنے حامیوں کی ایسی ذہن سازی کر دی ہے کہ وہ اب کرپشن کو کرپشن اور سکینڈل کو سکینڈل سمجھتے ہی نہیں۔ ان کے مطابق اب سکینڈل اور کرپشن اپنے معنی کھو چکے ہیں۔ آج کوئی لیڈر اپنی کرپشن کا دفاع خود نہیں کرتا بلکہ اس کے فالوورز یہ کام کرتے ہیں۔ چونکہ اس رنگ میں سب رنگے گئے ہیں، اس لیے اب کوئی کسی کو طعنہ دینے کے قابل نہیں رہا۔

اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ رحمن ملک شریف خاندان کا لندن فلیٹس کا سکینڈل بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں سامنے لائے تھے۔ اس کے جواب میں نواز شریف کیمپ کی جانب سے سرے محل کا سکینڈل سامنے لایا گیا۔ ایک ہی پارلیمنٹ میں، ایک ہی چھت تلے، ایک دن وزیراعظم بینظیر بھٹو کے سرے محل پر اعتراض ہوتا تو اگلے دن شریف خاندان کے لندن فلیٹس زیر بحث آ جاتے۔ نہ نواز شریف یہ مانتے تھے کہ لندن فلیٹس ان کے ہیں اور نہ ہی آصف زرداری سرے محل کی ملکیت تسلیم کرتے تھے۔

دوسری جانب نواز شریف آج تک انہی لندن فلیٹس میں قیام کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے حامی آج بھی یہ حقائق ماننے کو تیار نہیں۔ اسی طرح عمران خان نے خود کو ایمانداری کا دیوتا بنا کر پیش کیا حالانکہ انہوں نے تو کبھی اپنے گھر کے کچن کا خرچہ بھی خود نہیں اٹھایا۔ 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس اور توشہ خانہ ریفرنسز میں سزا پانے والے عمران خان نے اپنے حامیوں کو یہ تاثر دیا کہ ان جیسا ایماندار کوئی پیدا ہی نہیں ہوا، جبکہ نواز شریف اور آصف زرداری ان کے سامنے بونے ہیں۔ پھر جب پاناما لیکس سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ ہمارے حکمران خاندانوں کی جائیدادیں تو دنیا کے پانچ براعظموں میں پھیلی ہوئی ہیں۔

رؤف کلاسرا کے مطابق عمران خان نے پاناما لیکس کو منطقی انجام تک پہنچایا، لیکن جب وہ خود وزیراعظم بنے تو انہوں نے بھی وہی راستہ اختیار کیا۔ عمران کے ہاتھ جو بھی زمین، کرنسی اور ریاستی تحفہ لگا، وہ اسے لپیٹنے چلے گئے۔ توشہ خانہ کے دو کرپشن ریفرنسز میں چودہ، چودہ برس قید کی سزا پانے کے باوجود عمران خان کے حامی ان کے کرپشن کے قصے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ آج بھی یہ مؤقف اپنایا جاتا ہے کہ اگر ایسا ہوا بھی ہے تو خان پچھلے حکمرانوں کے مقابلے میں چھوٹی برائی ہے۔ عمران خان سے پہلے کے حکمران بھی ابتدا میں چھوٹی برائی ہی سمجھے جاتے تھے، مگر انہیں اقتدار میں بار بار آنے کا موقع ملا، اس لیے وہ چھوٹی سے بڑی برائی بن گئے۔ سینئر صحافی کے مطابق اگر عمران خان کو بھی بار بار اقتدار میں آنے کا موقع ملتا رہا تو وہ بھی کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے اپنے ہم عصر سیاستدانوں کو اس میدان میں پیچھے چھوڑ دیں گے۔

ان کے مطابق ایمانداری کوئی آپشن نہیں ہوتی کہ آج دل کیا تو ایماندار ہو گئے اور کل دل کیا تو مال پر ہاتھ صاف کر لیا۔ انسان یا تو ایماندار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اسی طرح برائی بھی چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی، بلکہ یہ کینسر کی طرح ہوتی ہے۔
رؤوف کلاسرا کے بقول کینسر کا خلیہ چھوٹا ہو یا بڑا، ایک بار اگر وہ جسم میں جڑ پکڑ لے تو وقت کے ساتھ بڑھتا ہی ہے، کم نہیں ہوتا۔ یہی حال برائی کا ہے جو وقت اور مواقع کے ساتھ مزید پھیلتی چلی جاتی ہے۔
کلاسرا کہتے ہیں کہ 1985ء میں جب نواز شریف پہلی بار وزیراعلیٰ بنے تو ان پر الزامات کی نوعیت کچھ اور تھی، جبکہ 2017ء میں تیسری بار وزارتِ عظمیٰ سے نااہل ہو کر جیل جانے تک الزامات کی نوعیت بالکل بدل چکی تھی۔ دوسری بار وزیراعظم بننے تک ان پر مالی بدعنوانیوں کے کئی الزامات لگ چکے تھے، مگر تیسری ٹرم تک آتے آتے سارا کچا چھٹا سامنے آ گیا اور پانچ براعظموں میں جائیدادیں نکل آئیں۔ یہی حال آصف زرداری کا بھی رہا۔ پہلی ٹرم سے دوسری اور پھر آگے کے سفر کو دیکھ لیا جائے تو جنیوا بینکوں میں ساٹھ ملین ڈالر جیسی باتیں بھی اب پرانی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ بھی ابتدا میں چھوٹی برائی سمجھے جاتے تھے، مگر وقت کے ساتھ یہ برائی بڑھتی چلی گئی۔

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ جب کوئی انہیں عمران خان کے حوالے سے یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اسلیے خان کا حامی ہے کیونکہ وہ دوسروں کے مقابلے میں کم تر برائی ہے، تو وہ اس احمقانہ جواز کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ چھوٹی بمقابلہ بڑی برائی کا مسئلہ نہیں بلکہ برائی بمقابلہ شرافت اور نیکی کا معاملہ ہے۔ عمران خان کو کم برائی قرار دے کر دراصل وہی رویہ اپنایا جا رہا ہے جو ان سے پہلے آنے والے حکمرانوں کے معاملے میں اختیار کیا گیا تھا۔

Back to top button